سوال یہ ہے کہ ہم اس مصیبت سے کیسے نکل سکتے ہیں؟ جواب آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا  بہت مشکل ہے۔ ہمیں  مالیاتی خسارے کو اپنی شرح نمو سے کم کرنا ہوگا، کرنٹ اکاؤنٹ کو توازن میں لانے کے لیے ایکسپورٹ کو بڑہانا ہوگا، قرض کی ادائیگی اور معاشی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نجکاری کی طرف جانا ہوگا  اور اپنی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے کافی زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کروانا ہوگی۔

فن و ثقافت

نقطہ نظر

جنرل باجوہ کی جانب سے نومبر میں ریٹائر ہونے اور مزید توسیع نہ لینے کا اعلان کیا جاچکا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جب خارجہ و داخلہ امور پر بیان بازی سے لے کر کرکٹ کوچنگ اور چلغوزے کی کاشت تک کے امور کا اختیار بھی  “محفوظ شدہ امور” میں چلا گیا ہے تو وزیراعظم اور اس کی کابینہ کے پاس “منتقل شدہ اختیارات” میں کیا رہ گیا ہے؟  ایسے میں اگر تاریخ میں پہلی بار آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل پریس کانفرنس کریں تو اس میں حیرت کی بات کیا ہے؟  اسے تو بس آسان الفاظ میں اس حقیقت کا کھلے عام اعتراف سمجھیں جو 1919ء سے 2022ء تک مانتے تو سب تھے لیکن اس کے بارے میں بولتا کوئی نہیں تھا۔ پھر بھی اگر وزیرِ اعظم صاحب کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس سے پہلے جنرل صاحب نے ان سے اجازت لی تھی، تو اسے سال کا سب سے بہترین لطیفہ نہ کہیں تو کیا کہیں؟

بين الاقوامى

ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع تعلیمی جامعات میں دوبارہ مظاہروں کا آغاز ہوا تو ایرانی پاسداران انقلاب نے طلبہ و طالبات کا محاصرہ کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا۔سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی رپورٹس میں پاسداران انقلاب کے مسلح اہلکار طلبہ پر حملہ کرتے ہوئے واضح نظر آتے ہیں۔