spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

مسعود اظہر کون ؟مجاہد سے دہشتگرد قرار دیئے جانےتک کا سفر

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی نے بدھ کو مسعود اظہر کو عالمی دہشت گروں کی فہرست میں شامل کر دیا ہےتاہم سوال یہ ہے کہ آخر مسعود اظہر کون ہیں اور بھارت کیوں انہیں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانا چاہتا تھا؟ مولانا مسعود اظہر کالعدم شدت پسند تنظیم جیش محمد کے بانی اور سربراہ ہیں۔ مسعود اظہر بھی اپنے بیشتر ساتھیوں کی طرح افغانستان پر روس کے حملے اور اس کے خلاف افغان مجاہدین کی جدوجہد کے دنوں میں سرگرم ہوئے اور پھر افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد انھوں نے اپنے ’جہاد‘ کا رخ مقبوضہ کشمیر کی جانب موڑ دیا۔ مسعود اظہر جولائی 1968ء میں بہاولپور میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے ۔ مسعود اظہر کو مذہبی تعلیم دلانے کیلئے بہاولپور سے کراچی بھیجا گیا جہاں وہ بنوری ٹاؤن مسجد سے منسلک ʼجامعہ العلوم اسلامیہ میں زیرتعلیم رہے۔ اسی درس گاہ میں اُن کی ملاقات حرکت المجاہدین کے امیر فضل الرحمان خلیل سے ہوئی۔ عمر سعید شیخ بھی اُن کے قریبی دوست

تھے جن کا نام بعد ازاں امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کے سلسلے میں منظرعام پر آیا۔ اطلاعات کے مطابق مسعود اظہر نے افغانستان میں عسکری تربیت لی اور وہاں جاری روس کے خلاف لڑائی میں بھی حصہ لیا۔ لیکن افغانستان سے روسی افواج کے انخلا کے بعد مسعود اظہر مقبوضہ کشمیر چلے گئے ۔ یہ وہ وقت تھا جب مقبوضہ کشمیر کا محاذ خاصا گرم تھا۔1994ء میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے اننت ناگ میں ایک چھاپے کے دوران بھارتی قابض فورسز نے مسعود اظہر کو حراست میں لے لیا۔ مسعود اظہر کے ساتھیوں نے پہلے سرینگر میں ایک یورپی سیاح کو اغوا کیا اور اس کی رہائی کے عوض مسعود اظہر کو رہا کرنے کی شرط رکھی۔ مسعود اظہر کی حراست کے 10؍ ماہ بعد بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کچھ سیاحوں کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور مغوی سیاحوں کی رہائی کے بدلے ایک بار پھر مسعود اظہر کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان دونوں کوششوں کے ناکام ہونے کے بعد دسمبر 1999ء میں مسعود اظہر کے ساتھی ایک بھارتی مسافر طیارے کو اغوا کر کے افغانستان کے شہر قندھار لے گئے اور کئی دن کی بات چیت کے بعد جہاز اور اس میں سوار مسافروں کے بدلے مسعود اظہر کو رہا کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ اُس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی۔ طالبان کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے کے سبب چند دن قندھار میں قیام کرنے کے بعد مسعود اظہر پاکستان آ گئے۔ یہیں ان کے دیرینہ دوست فضل الرحمان خلیل اور اُن کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور انھوں نے اپنی نئی جماعت جیش محمد بنانے کا اعلان کیا۔ قیام کی ابتدا میں اُن کی جماعت کی سرگرمیاں زیادہ تر افغانستان میں تھیں۔ لیکن 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکا نے جب افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ شروع کی تو مسعود اظہر بہاولپور منتقل ہوگئے۔ اپنے آبائی شہر بہاولپور کو انہوں نے اپنی تنظیم جیش محمد کا مرکز بھی بنایا لیکن ساتھ ہی تنظیمی دفاتر ملک کے مختلف شہروں میں بھی قائم کیے۔

spot_imgspot_img