spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

سوال فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز کی آئینی حیثیت کا ہے، سپریم کورٹ

پاکستان کے چیف جسٹس نے خیبر پختونخوا میں رائج ایکشن ان ایڈ اینڈ سول پاور آرڈیننس 2019 کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز کی آئینی حیثیت کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جمعے کو فاٹا اور پاٹا میں صدارتی آرڈیننس کو کالعدم قراد دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق اور صوبہ خیبر پختونخوا کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ حراستی مراکز درست کام کر رہے ہیں یا نہیں بلکہ عدالت کے سامنے سوال فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز کی آئینی حیثیت کا ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل انور منصور سے استفسار کیا کہ آیا ایکشن ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس ایکٹ 2019 کی معیاد پوری ہو چکی ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ اگر اس علاقے میں پہلے سے رائج قوانین جاری تھے تو پھر نئے آرڈیننس کی کیا ضرورت تھی؟

چیف جسٹس نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر فوج کی موجودگی برقرار رکھنا مقصد تھا تو فوج پہلے سے ہی اس علاقے میں موجود تھی۔ اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ بظاہر 2019 کے آرڈیننس کی ضرورت نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’2019 کے آرڈیننس کے تحت فوج قانون کے مطابق اس علاقے میں آپریشنل کی گئی اور کیا فوج اس سے پہلے قانون کے خلاف آپریشن کر رہی تھی؟‘

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوج کے اقدامات پہلے سے رائج قانون کے مطابق تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں 2019 کے آرڈیننس سے پہلے سے رائج تمام قوانین ختم ہوگئے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس آرڈیننس نے پہلے سے رائج قوانین کی توثیق کی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے کسی قانون کو ختم نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ بتایا جائے 2019 کا آرڈیننس لانے کی وجہ کیا تھی، ’اگر ٹھوس وجہ سامنے نہ آئی تو گڑبڑ ہوجائے گی‘۔

عدالت نے یہ بھی سوال اُٹھایا کہ ان حراستی مراکز میں جتنے افراد کو رکھا گیا ہے کیا ان کے غیر ریاستی عناصر ہونے کے بارے میں شواہد موجود ہیں؟

اس پر اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ ان حراستی مراکز میں جتنے افراد رکھے گئے ہیں ان کے بارے میں ریاستی قوانین کی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر ان کو تفتیشی اداروں کے حوالے کیوں نہیں کیا جاتا۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ پاٹا میں حراستی مراکز کے قواعد صوبائی حکومت نے بنائے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ قواعد میں تو زیر حراست افراد کے اہلخانہ کی ملاقات کا بھی ذکر ہے تو پھر ان کی طرف سے ان حراستی مراکز میں رکھے گئے افراد کی فہرست سربمہر لفافے میں کیوں دی گئی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ زیر حراست افراد کے اہلخانہ کو اس بارے میں تفصیلات بتائی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان افراد کے اہلخانہ کو منع کیا جاتا ہے کہ وہ تفصیلات آ گے کسی کو فراہم نہ کریں۔

اُنھوں نے کہا کہ زیر حراست افراد کی تفصیلات عام نہیں کر سکتے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ زیر حراست افراد 15 روز بعد ایک خط اہلخانہ کو لکھ سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کاغذوں میں تو آپ نے بہت اچھی چیزیں دکھائی ہیں تاہم عملی طور پر کیا ہوتا ہے، یہ دیکھنا الگ چیز ہے‘۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ نائن الیون کے بعد غیر ریاستی عناصر کا لفظ سامنے آیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک غیر ریاستی عناصر کو اپنے ملک میں تحفظ نہیں دیتا اس لیے امریکہ نے غیر ریاستی عناصر کے لیے گوانتاناموبے جیل بنائی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوج ان افراد سے لڑ رہی ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے گھسے۔

کیا ان حراستی مراکز میں تمام غیر ملکی قید ہیں؟

عدالت کے استفسار پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تمام تفصیلات سربمہر لفافے میں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک حراستی مرکز میں پہلے مہینے 78 افراد کو رکھا گیا پھر ان کی بحالی کے بعد دو سال کے عرصے میں ہی ان کو رہا کر دیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دہشت گردوں کو کوئی اچھا نہیں کہہ سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خاص اقدامات بھی کرنا ہوتے ہیں۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بنائے گئے حراستی مراکز کے لیے بنائے گئے رولز جیل مینؤل میں پہلے ہی موجود ہیں تو پھر ان حراستی مراکز کے قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں پہلے بلا واسطہ نمائندگی تھی اور اب تو وہاں براہ راست نمائندگی ہے اس کے علاوہ فاٹا کی تمام مشینری صوبوں کے ماتحت آچکی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان علاقوں میں کیے گئے اقدامات آئین کے مطابق ہیں یا نہیں۔

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اب کوئی ایسی قانون سازی ہوئی ہے جس میں ان علاقوں میں پہلے کیے گئے اقدامات کو تحفظ دیا گیا ہو؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قانون سازی کے ذریعے فاٹا اور پاٹا میں پہلے سے رائج قوانین کو جاری رکھا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد وہاں پر پہلے سے رائج قوانین کو جاری رکھنے کے لیے ایکٹ لایا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وہ 25 ویں ترمیم کو چیلنج کر رہے ہیں؟

چیف جسٹس نے بھی سوال اٹھایا کہ کیا اٹارنی جنرل تسلیم کر رہے ہیں کہ حراستی مراکز غیر آئینی ہیں؟ جس پر انور منصور کا کہنا تھا کہ وہ صرف علاقے کے حقائق کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرنا چاہتے تھے۔

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ صدر کی طرف سے جاری کیے گئے آرڈیننس میں لکھا ہے شرپسند ملک کے وفادار نہیں رہے۔ اُنھوں نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا شر پسند پہلے وفادار تھے؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی قوانین میں یہی الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اس آرڈیننس میں شرپسندوں کے لیے ’مسکریئنٹس‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جبکہ ڈکشنری کے مطابق اس کا مطلب ’کافر یا یقین نہ کرنے والا‘ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’حکومت شاید آرڈیننس کے ذریعے نئی انگلش بھی ایجاد کر رہی ہے‘۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے ان ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ بلند ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بظاہر صرف فاٹا ہی صوبے میں ضم ہوا ہے اور پاٹا برقرار ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پاٹا پہلے بھی صوبے کا حصہ تھا صرف انتظامی کنٹرول گورنر کے پاس تھا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ فاٹا اور پاٹا کو اِنکم اور سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل تھا اور اگر سابقہ قوانین جاری ہیں تو ٹیکس بھی لاگو نہیں ہو سکتا۔

قاضی فائز عیسیٰ کے سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فاٹا کو ٹیکس استثنیٰ اب بھی دیا گیا ہے جبکہ 2019 آرڈیننس کے تحت صرف پہلے سے رائج قوانین کو ہی جاری رکھا گیا ہے اور ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے کوئی قانون رائج نہیں تھا۔

ان اپیلوں پر مزید سماعت اب 20 نومبر کو ہو گی۔

spot_imgspot_img