spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

وہ مصنفین، جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں

اس وقت دنیا میں سینکڑوں مصنفین، ناشرین اور صحافی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ مقامی حکومتوں اور ریاستی حکام نے ان پر مقدمات قائم کر رکھے ہیں۔ آج انہی مقید مصنفین کا دن منایا جا رہا ہے۔

ترکی کی دیارباقر جیل میں قید زہرا دوگان کا کہنا تھا، ”میرے خیال سے ایسے مقامات پر، جہاں ہر چیز ممنوع ہے، ایک قلم بہت زیادہ حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ آپ جانتے ہیں ایک تحریر میں جادوئی طاقت ہوتی ہے اور اس کے خلاف ہر حربہ بے سود ثابت ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ میرے ساتھ ہیں اور میں نے خود کو کبھی بے بس محسوس نہیں کیا۔‘‘

زہرا دوگان ایک کرد صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن بھی ہیں اور انہیں دو مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مصنفین کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ‘پین انٹرنیشنل‘ ان کی آزادی کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

 205 مصنفین جیل میں

زہرا کی طرح سینکڑوں مصنفین، ناشر اور صحافی بھی جیلوں میں قید ہیں اور انہیں حکومتی جبر کا سامنا ہے۔ پین انٹرنیشنل ہر سال پندرہ نومبر کو پانچ مختلف ممالک میں قید مصنفین کے کیس دنیا کے سامنے لاتی ہے۔ اس مرتبہ میکسیکو کی لیڈیا کاشو ریبیرو، یوگنڈا کی سٹیلا نینسی، سری لنکا کے شاختیکا ساتکمار، ترکی کے ندیم تورفنت اور مصر کے جلال البحری کو منتخب کیا گیا ہے۔

پین انٹرنیشنل کے مطابق ان پانچ اہم مصنفین کے علاوہ سال دو ہزار اٹھارہ میں تقریبا دو سو مصنفین کو اپنی تحریروں کی وجہ سے حکومتی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے خالصتاﹰ 68 مصنفین کو ان کی تحریروں کی وجہ سے جیل میں قید کیا گیا۔

اس بین الاقوامی تنظیم کے مطابق سن 2006 کے بعد سے مختلف ممالک میں بیس مصنفین کو قتل کیا گیا اور ان کے قاتلوں کو ابھی تک قانون کی گرفت میں نہیں لایا گیا۔ دوسری جانب دنیا بھر میں درجنوں مصنفین عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں کیوں کہ ان پر مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ایشیائی مصنفین  کو دنیا میں سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔ صرف ایشیا میں بتیس مصنفین قید میں ہیں اور ان میں سے زیادہ تر چین میں ہیں۔ اس کے بعد افریقہ اور مشرق وسطیٰ کا نمبر آتا ہے۔

Infografik Angriffe auf Schriftsteller EN

ایلربیتھ گارنیئر (امتیاز احمد)

spot_imgspot_img