spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

دو سمندروں کو جوڑنے والا عجوبہ: نہر سوئز کے ڈیڑھ سو سال

بحیرہ روم اور بحیرہ احمر نامی دو سمندروں کو ملانے والے اور انسانوں کے تعمیر کردہ اس آبی راستے کو اکتوبر 1956ء میں اس دور کے مصری صدر جمال عبدالناصر نے ریاستی ملکیت میں لینے کا جو اعلان کیا تھا، اس پر مصر میں تو بہت زیادہ خوشیاں منائی گئی تھیں لیکن یورپ میں اس اقدام پر ناامیدی کا اظہار کیا گیا تھا۔

یہ آبی راستہ آج بھی مصر کے لیے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ مصر میں قومیائے جانے سے پہلے اس نہر کی ملکیت زیادہ تر برطانوی فرانسیسی کمپنی سوئز سوسائٹی کے پاس تھی۔ شروع میں برطانیہ اور فرانس نے اس دور کی قاہرہ حکومت کو مذاکرات کے ذریعے اس اقدام سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

اسرائیل کی مدد سے برطانوی فرانسیسی فوجی قبضہ

جب یہ مذاکراتی کوششیں ناکام ہو گئیں، تو برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کی مدد سے مصر کے سوئز کینال والے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد معاملہ ایک تنازعے کی صورت میں جب اقوام متحدہ میں پہنچ گیا، تو امریکا اور سابقہ سوویت یونین کے مشترکہ دباؤ کے باعث فرانسیسی، برطانوی اور اسرائیلی دستے اس مصری علاقے سے واپسی پر مجبور ہو گئے تھے۔

Ägypten Eröffnung Erweiterung Suezkanalنہر سوئز میں توسیع کا منصوبہ، سن دو ہزار پندرہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ نہر سوئز مصر کے لیے شروع سے ہی قومی اہمیت کی ایک علامت ہے اور قاہرہ اسے اپنی ریاستی پیش رفت کا استعارہ بھی سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر جمال عبدالناصر کی طرف سے اس نہر کو قومیا لینے کے فیصلے کا ایک محرک عرب قوم پسندی بھی تھا۔

صدیوں پرانا خواب

سوئز کینال کی تعمیر سے قبل بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کو جوڑنے والے انسانوں کے تعمیر کردہ کسی آبی راستے کا تصور تو صدیوں پرانا تھا۔ سولہویں صدی میں عثمانی ترکوں نے بھی ایسا سوچا تھا۔ پھر 1798ء میں نیپولین کے دور میں فرانسیسی ماہرین تعمیرات بھی مصر گئے تھے، جہاں انہوں نے اپنے ابتدائی تعمیراتی تخمینے لگا کر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ حقیقت پسندانہ نہیں ہو گا۔ اس کے بعد برطانوی ماہرین کا تجربہ اور اس کا نتیجہ بھی ایسا ہی رہا تھا۔

اس منصوبے پر عملی پیش رفت فرڈینانڈ دے لَیسیپ نے کی تھی۔ اس نہر کی تعمیر کے لیے شروع میں ہزاروں یورپی کارکن وہاں لائے گئے تھے۔ پھر جب وہ بھی کم پڑ گئے، تو اس دور کے مصری حکمران محمد سعید نے 1861ء میں بالائی مصر سے مزید تقریباﹰ 10 ہزار کارکنوں کو زبردستی بلوایا، جنہوں نے اس منصوبے میں مدد کی۔ اس کے ایک سال بعد اس پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے مزید 18 ہزار کارکن بلانا پڑے تھے۔

Eroeffnung des Suezkanals ایک بڑی تقریب کے ساتھ اس نہر کا افتتاح سترہ نومبر 1869ء کے روز ہوا تھا

حیران کن اعداد و شمار

نہر سوئز کی تعمیر کے منصوبے نے اس دور کے مصر کو بھی بہت زیادہ بدل دیا تھا۔ اس نہر کے کنارے آباد ہونے والے شہروں میں سے پورٹ سعید ایک ایسا بڑا تجارتی مرکز بن گیا، جس کا رابطہ باقی ماندہ ساری دنیا کے تجارتی نیٹ ورک سے قائم ہو گیا تھا۔

شروع میں اس نہر کو ‘ہائی وے آف دا برٹش ایمپائر‘ کا نام دیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے لندن اور ممبئی کے درمیان سمندری فاصلہ تقریباﹰ 20 ہزار کلومیٹر سے کم ہو کر ساڑھے گیارہ ہزار کلومیٹر رہ گیا تھا۔ اس سے جہاز رانی کی بین الاقوامی صنعت کو بھی بہت توقی ملی تھی۔

17 نومبر 1869ء کو افتتاح

1870ء میں اس آبی راستے سے 486 بحری جہاز گزرے تھے، جن میں تقریباﹰ 27 ہزار مسافر سوار تھے۔ 1913ء میں ان بحری جہازوں کی تعداد تقریباﹰ 5100 ہو گئی تھی، جس میں سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد بھی تقریباﹰ دو لاکھ 35 ہزار بنتی تھی۔

spot_imgspot_img