spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

عمران خان کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، ملائیشیا کانفرنس سے متعلق اعتماد میں لیا

وزیر اعظم عمران خان نے ورہ سعودی عرب کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاک ۔ سعودیہ دو طرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے سعودی دارالحکومت الریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے ایک بیان کے مطابق دونوں لیڈروں نے’’ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔انھوں نے باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت کی ہے۔‘‘

ملاقات میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ اور سعودی عرب اور پاکستان کے اعلیٰ عہدے دار بھی شریک تھے۔

اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان ہفتے کے روز سعودی عرب کے ایک روزہ دورہ پرمدینہ منورہ پہنچے تھے جہاں انھوں نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نوافل ادا کیے۔اس موقع پر پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سہیل محمود بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اس کے بعد وہ الریاض روانہ ہو گئے جہاں ہوائی اڈے پر الریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز اور پاکستان میں سعودی سفیر نوف بن سعید المالکی اور دوسرے حکام نے ان کا استقبال کیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا تھا کہ وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ملکوں کی قیادت میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی اور علاقائی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے تسلسل کا حصہ ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعہ کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’’وزیراعظم عمران خان نے اس سال مئی کے بعد سعودی عرب کے تین دورے کیے ہیں اور یہ دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطح پر روابط کے مظہر ہیں۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی مفاہمت اور اعتماد پر مبنی تاریخی برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔‘‘

عمران خان نے اکتوبر میں ایران کے دارالحکومت تہران کا دورہ کیا تھا اور ایرانی قیادت سے علاقائی صورت حال اور خطے میں امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔واضح رہے کہ انھوں نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوہترھویں سالانہ اجلاس کے موقع پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیش کش بھی کی تھی۔

ان کے سعودی عرب کے اس دورے سے قبل وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اسی ہفتے الریاض گئے تھے۔انھوں نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فرحان بن عبداللہ سے ملاقات کی تھی اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات ،خطے اورعالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔

ریاض کے رائل ٹرمینل پر گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز نے وزیر اعظم کا استقبال کیا — فوٹو: وزیر اعظم ہاؤس
ریاض کے رائل ٹرمینل پر گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز نے وزیر اعظم کا استقبال کیا — فوٹو: وزیر اعظم ہاؤس
وزیر اعظم نوافل ادا کر رہے ہیں — فوٹو: وزیر اعظم ہاؤس
وزیر اعظم نوافل ادا کر رہے ہیں — فوٹو: وزیر اعظم ہاؤس
spot_imgspot_img