spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

سعودی عرب نے پاکستان کو ملائیشیا سمٹ میں عدم شرکت پر مجبور نہیں کیا، سعودی سفارت خانہ اسلام آباد

پاکستان میں قائم سعودی سفارت خانے نے ملائیشیا سمٹ میں وزیراعظم عمران خان کی عدم شرکت میں سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے پھیلائی جانے والی گمراہ کن خبروں کی پرزور تردید کی ہے۔

افکارپاک کے مطابق سعودی عرب کے سفارت خانہ نے ملائیشیا سمٹ سے متعلق سعودی کردار کے حوالے سے پاکستان میں میڈیا پر چلنے والی بے بنیاد خبر کی تردید کردی ہے۔

سعودی سفارت خانہ کی طبرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات گہرے تذویراتی ہیں جواعتماد، افہام وتفہیم اورباہمی احترام پرقائم ہیں۔ مزید کہا گیا کہ کوالالمپور سمٹ میں شرکت کے حوالے سے سعودی عرب نے پاکستان کو کوئی دھمکی دی نا ہی عدم شرکت پر مجبور کیا۔

سعودی سفارت خانہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بیشترعلاقائی، عالمی اوربطور خاص امت مسلمہ کے معاملات میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، سعودی عرب ہمیشہ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے تاکہ پاکستان ایک کامیاب اور مستحکم ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے۔

یاد رہے گزشتہ روزترک صدررجب طیب اردوان نے ملائیشیا میں ہونے والی مسلم ممالک کی کوالالمپور سمٹ میں پاکستان کی عدم شرکت کی وجہ سعودی عرب کو قرار دیا تھا۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے ترکی کے صدر طیب اردوان کے اس بیان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

عزیزنامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا ” ترکی کے صدر طیب اردگان کا بیان انتہائی گمراہ کن اور پاکستان کی آزادانہ خارجہ پالیسی کے اصولوں پر بے بنیاد تنقید کے زمرے میں آتا ہے۔ ترکی کے عوام کے ساتھ پاکستانیوں کی محبت ایک معروف حقیقت ہے مگر اردگان کو ہمارے دیرینہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے”۔

ایک اور صارف عابد مسعود نے لکھا” ترکی کا یہ رویہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، طیب اردوان کو پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔شاید انہیں پاک سعودی تعلقات کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہے”۔

spot_imgspot_img