spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

بھارت میں شہریت کے بل اور بابری مسجد کیس پر تشویش ہے، او آئی سی

اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) نے بھارت میں مسلم اقلیت کے ساتھ سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا چارٹر اور دیگر عالمی اداروں کے اصول بلاامتیاز اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔

جدہ سے جاری بیان میں او آئی سی کا کہنا تھا کہ ‘او آئی سی کا جنرل سیکریٹریٹ بھارت میں مسلم اقلیتوں کو متاثر کرنے والے حالیہ اقدامات قریب سے دیکھ رہا ہے’۔

بھارت میں حکمران جماعت بھارتیا جنتہ پارٹی (بی جے پی) کے متنازع شہریت بل اور دیگر اقدامات پر بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘شہریت کے حقوق اور بابری مسجد کیس دونوں حالیہ اقدامات پر تشویش ہے’۔

او آئی سی نے اپنے بیان میں بھارتی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘بھارت میں مسلم اقلیت کے حفاظت، اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا جاتا ہے’۔

بھارت میں پیدا ہونے والی حالیہ صورت حال پر او آئی سی نے کہا ہے کہ ‘جنرل سیکریٹریٹ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس حوالے سے دیگر عالمی معاہدوں کی جانب سے اقلیتوں کے کسی امتیاز کے بغیر حقوق کی ضمانت دینے والے اصولوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے’۔

او آئی سی نے خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘اس حوالے سے اگر کوئی اقدام ان اصولوں اور معاہدوں کے برعکس کیا گیا تو مزید کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور پورے خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں’۔

خیال رہے کہ بھارت میں شہریت کے متنازع بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد مسلمانوں اور دیگر تنظیموں کی جانب سے احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں جہاں اب کم ازکم 23 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے اختتام کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں بھارت کے شہریت کے نئے قانون پر تنقید کی تھی۔

مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ کہ بھارت ایک سیکولر ریاست ہے اور لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر شہریت حاصل کرنے سے نہیں روکنا چاہیے کیونکہ ‘یہ غیر منصفانہ ہے’۔

بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا نے مذکورہ بل 9 دسمبر 2019 جب کہ ایوان بالا یعنی لوک راجیا سبھا نے 11 دسمبر کو منظور کیا تھا اور اگلے دن بھارتی صدر نے اس بل پر دستخط کردیے تھے جس کے بعد مذکورہ بل قانون بن گیا تھا۔

اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت کی فراہمی ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس قانون کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

spot_imgspot_img