spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

پاکستانی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے، آئی ایم ایف

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کا پروگرام درست سمت میں جا رہا ہے۔ پاکستانی انتظامیہ کی جانب سے اہم پالیسی سازی اقتصادی استحکام حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے پاکستان کو قرضہ دیے جانے کے بعد ایک اقتصادی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے اہم اقتصادی فیصلہ سازی کے باعث ادائیگیوں کا عدم توازن کم ہو رہا ہے۔ پاکستانی چکومت نے درست انداز میں مارکیٹ کے ذریعے روپے کی قدر کا تعین کرایا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ کو بھی بڑھایا گیا ہے۔

آئی ایم کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی نمو میں کمی آئی ہے تاہم پاکستان کی معیشت میں مارکیٹ کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، مہنگائی کی شرح میں جاری اضافے میں اب ٹھہراؤ آ گیا ہے، جس سے غریب عوام کی مشکلات میں کمی کی توقع ہے۔

مثبت جائزے کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف نے پالیسی سازی کی کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ابھی بھی پاکستان کی معیشت خطرے سے باہر نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی کچھ شرائط پر عمل درآمد کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے لیکن پاکستانی سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی اکثریت نہ ہونے کے باعث خطرہ ہے کہ پاکستانی حکومت اقتصادیات سے متعلق اہم قانون سازی کرانے میں ناکام  رہ سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ کہ اقتصادی اداروں کی گورننس کو بہتر کرنے کے لیے ضروری اصلاحات میں سست پیش رفت اقتصادی سرگرمیوں کو منجمد کر سکتی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے مقاصد کو پورا نہ کرنے کی صورت میں بیرونی امداد بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو ممکنہ طور پر بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے سے بیرونی امداد رک جائے گی اور پاکستان میں سرمایہ کاری میں بھی کمی آئے گی۔

پاکستانی صحافی شہباز رانا نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ’’پاکستانی معیشت کو ہمیشہ دو چینلجز کا سامنا رہتا ہے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں اور بجٹ خسارے کو کم کرنا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو گزشتہ حکومت سے یہ مسئلہ وراثت میں ملا لیکن اس حکومت نے حکمت عملی طے کرنے میں ایک سال سے زائد کا عرصہ لگا دیا۔ جب حکومت نے آئی ایم ایف جانے کا فیصلہ کیا تو جو آئی ایم ایف نے تجاویز دیں اس کی وجہ سے عوام کو سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

آئی ایم  ایف نے اس اقتصادی سال میں شرح نمو 2.4 فیصد بطور ہدف رکھا ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگلے مالی سال سرمایہ کاری اور پاکستانی انتظامیہ کی جانب سے پالسیی سازی پر بہتر عمل در آمد سے پاکستان کی شرح نمو قریب 3 فیصد ہوسکتی ہے۔

spot_imgspot_img