spot_img

ذات صلة

جمع

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

خلیفہ بن زید النہیان اور پاکستان

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید...

ہم کہاں بھٹک گئے!

میں نے جیسے ہی ان تصاویر کو دیکھا مجھے...

جنگ ہو یا امن، جنرل قاسم سلیمانی ’بے معنی قتل و غارت‘ کےہمیشہ حامی رہے

ایران کی ریوولوشنری گارڈ کورپس(IRGC) کے سربراہ قاسم سلیمانی نا صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں شیعہ دہشت گردوں کے سربراہ کی حیثیت سے معروف تھے۔

گزشتہ 20 سالوں سے ایران مخالف سنی تنظیموں اور سنی اکثریتی ممالک میں انتشار پھیلانے والے قاسم سلیمانی آج صبح عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ کے قریب فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے۔

قاسم سلیمانی کون تھے؟

ایران کے جنوب میں واقع صوبہ کرمان سے تعلق رکھنے والے قاسم سلیمانی 11مارچ 1957 ء میں پیدا ہوئے۔

انہوں نےکم عمری میں اسکول اور گاؤں چھوڑنے کے بعد کرمان واٹر آرگنائزیشن نامی ایک تنظیم کے ساتھ ٹھیکیدار کی حیثیت سے 1975 میں کام شروع کیا تھا۔ 1979 کے ایرانی انقلاب میں پہلی مرتبہ قاسم سلیمانی کو ملٹری ٹریننگ کا حصہ بنایا گیا اور محض 6 ماہ کی ٹریننگ کے بعد سرحد پار بھیج دیا گیا۔

امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے قاسم سلیمانی کون تھے ؟

ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سالہ جنگ کے دوران، وہ کرمان کی ڈویژنل آرمی کے کمانڈر تھے۔ 1988 میں جنگ ختم ہونے کے بعد وہ کرمان واپس آئے اور قدس فورس کے کمانڈر کے عہدے پر تقرری ہونے تک ایران – افغان سرحد کے قریب منشیات فروش گروہوں کے خلاف لڑنے کی آڑ میں پاکستان میں فرقہ پرست تنظیموں کو قائم کرنے اور شیعہ مسلح تنظیموں کو متحرک کرنے میں مصروف رہے۔

قاسم سلیمانی 1998 میں IRGC کے سربراہ بنے اور شروع کے کچھ سال شیعہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ایران کے تعلقات قائم کرنے میں مصروف رہے ۔ اس دور میں ایران کے حزب اللّہ، لبنان، سیریا اور عراق  میں موجود مختلف گروپوں سے مضبوط رابطے قائم ہوئے۔

امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے قاسم سلیمانی کون تھے ؟

2003 میں عراق پر امریکی جارحیت کے بعد انہوں نے وہاں سرگرم گروپوں کو امریکی اڈوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی ترغیب دی۔

قاسم سلیمانی کو اس بات کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے کہ انہوں نے شام کے صدر بشارالاسد کو ان کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک سے نمٹنے کے لیے مسلح جدوجہد کرنے پر امادہ کیا جس کے نتیجے میں بشار الاسد کی فورسز نے شام میں ہزاروں اہل سنت عوام کا قتل عام کیا۔

گزشتہ کئی سالوں میں قاسم سلیمانی بڑی شدت کے ساتھ منظر عام پر رہے اور انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ اور دیگر سربراہان کے ہمراہ دیکھا گیا۔

امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے قاسم سلیمانی کون تھے ؟

جنگ ہو یا امن، جنرل قاسم سلیمانی ’بے معنی قتل و غارت‘ کےہمیشہ حامی رہے۔

جنرل سلیمانی کی شخصیت کے بارے میں اس وقت زیادہ تذکرہ ہونا شروع ہوا جب یمن میں حوثی باغیوں کو قاسم سلیمانی نے باقاعدہ معاونت فراہم کرنا شروع کی، جس کے آثار متعدد مرتبہ سعودی اتحادی افواج کے ہاتھ لگے۔

امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے قاسم سلیمانی کون تھے ؟

بطور ایرانی ریوولوشنری گارڈ کورپس(IRGC) کے سربراہ اور عراق میں ہونے والی جنگ میں قاسم سلیمانی کا کردار ساری دنیا کے سامنے ایک دہشت گرد اور قاتل کا ہے۔

قاسم سلیمانی اکثر عراق، لبنان اور شام کا سفر کرتے رہتے تھے۔ وہ امریکی اور اسرائیلیوں کے خلاف لڑائی کے نام پر اہل سنت کے قتل عام میں مصروف رہتے تھے۔

 جنرل سلیمانی کو جہاں نا پسند کرنے والے بہت ہیں، وہیں پسند کرنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جو قاسم سلیمانی کو اہل تشیع کا ہیرو سمجھتی ہے۔

2013 میں سی آئی اے کے سابق اہلکار جان میگوائر نے امریکی جریدے دی نیویارکر کو بتایا تھا کہ ’سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں سب سے طاقتور کارندے تھے۔‘

spot_imgspot_img