spot_img

ذات صلة

جمع

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

خلیفہ بن زید النہیان اور پاکستان

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید...

ہم کہاں بھٹک گئے!

میں نے جیسے ہی ان تصاویر کو دیکھا مجھے...

سعودی عرب کا بیان جنگ بندی کی اہمیت کو باور کراتا ہے: الجبير

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ عراق کے حالیہ واقعات کے حوالے سے مملکت کا بیان یہ باور کراتا ہے کہ سعودی عرب خطے کے ممالک اور ان کے عوام کو کسی بھی جارحیت سے محفوظ رکھنے کے لیے جنگ بندی کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔

سعودی عرب کے مطابق وہ برادر ملک عراق میں رونما ہونے والے واقعات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ واقعات اُس کشیدگی اور دہشت گرد کارروائیوں میں اضافے کا نتیجہ ہیں جن کی مملکت ہمیشہ مذمت کرتی رہی ہے اور اس کے دور رس نتائج سے خبردار بھی کرتی رہی ہے۔

وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار ذریعے کا کہنا ہے کہ "خطے کی تازہ ترین صورت حال کی روشنی میں سعودی عرب جذبات کو قابو میں رکھنے اور تحمل مزاجی کا مطالبہ کرتا ہے تا کہ ایسے کسی بھی امر سے گریز کیا جا سکے جو حالات کو ابتری کے انتہائی مقام پر لے جا سکتا ہو”۔

مملکت سعودی عرب نے یہ بھی باور کروتی ہے کہ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ دنیا بھر کے لیے اہمیت کے حامل اس خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے واسطے مطلوبہ اقدامات کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کرے۔

امریکا نے جمعے کو علی الصبح بغداد کے ہوائی اڈے کے نزدیک فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کو ہلاک کر دیا تھا۔ قاسم سلیمانی سنی اکثریتی ممالک میں مداخلت کرنے اور اہل سنت علماء و عوام کا قتل عام کرنے کے حوالے سے مشہور تھے۔

یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر دیا تھا۔

spot_imgspot_img