spot_img

ذات صلة

جمع

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

خلیفہ بن زید النہیان اور پاکستان

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید...

ہم کہاں بھٹک گئے!

میں نے جیسے ہی ان تصاویر کو دیکھا مجھے...

کرپشن کے بیانیے کی تصحیح

نیب آرڈیننس میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں کے بعد کرپشن اور سیاست کے درمیان تعلق کی بحث ایک مرتبہ پھر چھڑ گئی ہے۔ سیاستدانوں کے حوالے سے زبان زد عام کرپشن کے بیانیہ کو مناسب پیرائے میں تھیورائز اور پرابلماٹائز کرنے کی ضرورت ہے۔ کرپشن کا بیانیہ انتہائی سنگین ہوتا ہے اور اسے تواتر سے ریاستی اداروں کے ذریعے اس انداز میں ہائی لائٹ کیا گیا ہے کہ ایک پوری نسل یہ ماننے لگ گئی ہے کہ پاکستان کی تمام تر خرابیوں کی جڑ سیاستدانوں کی مبینہ طور پر کی گئی لوٹ مار ہے۔ کرپشن کی بنیاد پر استوار اس بیانیے نے ایک پوری نسل کو سیاست اور سیاستدانوں سے نہ صرف متنفر کیا بلکہ غیر سیاسی قوتوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کو عوام کی نظر میں قابل قبول بنا دیا۔ نوجوان نسل کو یہ باور کروایا گیا کہ پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ سیاستدانوں کی کرپشن ہے اور اگر اس کرپشن پر قابو پالیا جاتا تو پاکستان دنیا کے صف اول کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوچکا ہوتا۔ اگر کوئی سیاستدان انفراسٹرکچر پراجیکٹس کے ذریعے عوامی سہولت کے کام کرے بھی تو اسے یہ کہہ کر غیر اہم گردانا جاتا ہے کہ یہ سب کرپشن کرنے کے طریقے اور بہانے ہیں۔

کرپشن سے جڑے ہوئے مسائل اپنی جگہ ایک حقیقت اور گورننس کی ابتری کی نشاندہی کرتے ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کرپشن کو بطور سیاسی نعرہ فروغ دینے کے پیچھے مخصوص قوتیں کارفرما رہتی ہیں۔ یہ قوتیں خود بھی کرپشن میں پوری طرح لتھڑی ہوئی ہوتی ہیں مگر ان کی ساخت و ہئیت کا تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ ان سے وابستہ کرپشن کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کی جائے۔ ہمارے ہاں بعض حضرات زور و شور سے کرپشن کی کہانیاں خبروں،کالموں اور ٹی وی پروگرامز میں بیان کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان پر کرپشن کے ثبوت ہاتف غیبی سے وارد ہوتے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی اور دوسری حکومت کو ختم کرنے کے بعد ایک صاحب اس وقت کے اکلوتے سرکاری ٹی وی پر بہت سی دستاویزات کے ساتھ کرپشن کے وہ افسانے سناتے تھے جنہیں سن کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ کل ہی عدالتوں سے پیپلزپارٹی کے تمام لیڈروں کو سزائیں سنا دی جائیں گی۔ مگر عدالتوں تک ان میں سے اکثر کیسز پہنچ ہی نہ سکے اور جو پہنچ گئے وہ بھی ثبوتوں کی عدم دستیابی کے باعث خارج کردیے گے۔

اس کے باوجود کرپشن کے الزامات لگا کر سیاستدانوں کو بے وقعت کرنے کا بیانیہ جاری رہا۔ آج بھی کرپشن کی کچی پکی کہانیاں یوں بیان کی جاتی ہیں کہ گویا کہ انہوں نے یہ سب اپنے سامنے ہوتے دیکھا ہے۔ اس حوالے سے سب سے دلچسپ کردار بعض نجی چینلز اور اخبارات میں موجود بعض صحافیوں کا رہا ہے۔ ان کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کی گئی ہر وہ دستاویز جس میں سرکاری محکموں کے حسابات پر آڈٹ پیراز لگائے گئے ہوں وہ اپنی جگہ ثابت شدہ اور جیتے جاگتے کرپشن کے کیسز بن جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت سرکاری طور طریقے کی معمولی شدھ بدھ رکھنے والے شخص کو بھی معلوم ہے کہ پروکیورمنٹ اور دیگر قوانین کے تحت بےشمار ضابطے کی کارروائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی اونچ نیچ کسی طور پر کرپشن نہیں ہوتی۔ مگر ضابطے کی پاسداری کے لیے بعض معاملات کی نشاندہی آڈٹ پیراز میں اس لیے کی جاتی ہے کہ ان کی بعد ازاں منظوری حاصل کر لی جائے۔ ہمارے جغادری اس طرح کے کیسز کو میگا کرپشن کے طور پر پیش کر کے میڈیا ٹرائل کرتے رہتے ہیں اور جب عدالتیں ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر ان کیسز کو خارج کرنے لگتی ہیں تو عدالتی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھانے کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔

کرپشن کے بیانیے کو سیاستدانوں کی طرف موڑنے اور ان تک محدود رکھنے کی ایک بڑی وجہ کنٹریکٹس اور سرکاری خرید فروخت سے متعلقہ قوانین و ضوابط کا اطلاق ہے۔ یہ قوانین سویلین محکموں پر تو منطبق ہوتے ہیں مگر بعض ادارے ان قوانین اور ان کی بنیاد پر کیے جانے والے آڈٹ کے دائرہ کار سے باہر ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سویلین محکموں کے جملہ حسابات کی کئی سطحوں پر جانچ پڑتال ہوتے ہوتے معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تک جا پہنچتا ہے۔ اس سے سویلین محکموں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے بارے میں خبریں اور تجزیے شروع ہوجاتے ہیں مگر دیگر ادارے بچ نکلتے ہیں۔ ان کے بارے میں بات کی جائے تو فورا یہ عذر تراشا جاتا ہے کہ وہاں آڈٹ و احتساب کا ایک مربوط نظام موجود ہے۔ یہ سہولت اعلیٰ عدلیہ کو بھی حاصل ہے کہ اس کے حسابات کی جانچ پڑتال کو عمومی طریقہ سے مستثنی سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی سیاست بھی دیگر ممالک کی طرح بہت مہنگی اور ایلیٹ ہے۔ سیاسی جماعتوں کے تنظیمی اسٹریکچرز کمزور ہونے کی وجہ سے غریب و متوسط طبقے کی اعلی سیاسی حلقوں تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کا مکانزم بھی مربوط و فعال نہیں اور عام طور پر ان جماعتوں کی فنڈنگ ایلیٹ کیپچر کا شکار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری دنیا کے بڑے بڑے نام مختلف سیاسی جماعتوں میں کارکنوں اور درمیانے درجے کی لیڈرشپ کی گردنیں پھلانگتے ہوئے صف اول میں نمودار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے سیاسی کلچر میں یہ ناگزیر برائی بن چکی ہے اور اب اس پر زیادہ احتجاج بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔ سیاست خاصا مہنگا کھیل ہے اور عوامی سیاست کرنے والوں کو بہت بڑے حلقوں کو ڈیل کرنا پڑتا ہے۔ عوام کے ساتھ مسلسل تعلق استوار رکھنے کے لیے دفاتر، ان کی دیکھ بھال،آنے جانے والوں کی میزبانی، تشہیری مہم اور دیگر نہ ختم ہونے والے خرچوں کو پورا کرنے کے لیے تقریبا سب ہی سیاستدانوں کو فنانسرز کی ضرورت رہتی ہے۔ یہ فنانسرز اپنی انوسٹمنٹ کو یا تو مالی فوائد کی صورت میں وصول کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں یا پھر سیاسی عہدوں کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ یہ پورا عمل کرپشن ہی کی ایک صورت ہے مگر سیاسی جماعتوں کے پیچیدہ اسٹرکچرز اور حرکیات کے پیش نظر اس کرپشن کو قبول کرلیا جاتا ہے۔

دوسری طرف سیاسی قوتوں کی کرپشن کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والے اداروں کی حالت بھی کسی طور پر قابل ستائش نہیں۔ کرپشن کو مین اسٹریم سیاسی بیانیہ مخصوص قوتوں نے بنایا اور اس کے لیے اندھادھند وسائل بھی جھونکے گئے۔ اتنے زیادہ وسائل بروئے کار لائے گئے کہ کسی آڈٹ کے دائرے میں آنے والے بجٹ سے تو یہ سب کرنا ناممکن ہے۔ ففتھ جنریشن وارفیر کے محاذ کو گرمانے کے لیے سوشل میڈیا برگیڈ علیحدہ سے کھڑی کی گئی اور اس پر جو اخراجات اٹھائے گئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ کسی بھی تعریف کے تحت دیکھا جائے تو یہ سب بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے مگر اس پر بات کرنا کئی وجوہات کی بناء پر ناممکن ہے۔ ایک تو اس کرپشن کو کوانٹیفائی کرنا بذات خود ایک چیلنج ہے کہ وسائل آئے کہاں سے اور گئے کہاں، یہ سب خلائی مشن کے طور پر کیے جانے والے کام ہیں۔ اس کے علاوہ اس معاملے میں بسا اوقات بجا طور پر اتنے حساس معاملات درمیان میں آجاتے ہیں جن پر گفتگو ہمارے نوزائیدہ سیاسی عمل میں کرنے کی کوئی سکت موجود نہیں ہے۔

جب ہم سیاستدانوں کی کرپشن کے بیانیے کو تھیورائز اور پرابلماٹائز کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہی ہوتی ہے کہ کرپشن کو اس کی تمام تر حشرسامانیوں اور جہتوں کے ساتھ موضوع بحث بنایا جائے۔ اس حوالے سے تین باتیں فوری توجہ کی مستحق ہیں۔

اول تو یہ کہ کرپشن کا بیانیہ مبالغہ آمیزی کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے اور کرپشن کو پاکستان کے تمام تر مسائل کی جڑ بنا کر پیش کرنا سہل فکری کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس سے ہماری قطعی مراد یہ نہیں ہے کہ کرپشن کو قابل قبول بنا کر پیش کیا جائے۔ مقصود محض یہ ہے کہ کرپشن کو اس کے حقیقی دائرے میں لا کر ایک عامل کے طور پر دیکھا اور سمجھا جائے نہ کہ اسے واحد عامل کے طور پر سیاسی عمل کی تباہی کا ذمہ دار گردانا جائے۔ کرپشن کی سب سے سنگین سمجھی جانے والی سطح عمومی طور پر بڑے پراجیکٹس سے وابستہ ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ کی نقل و حرکت صرف اقتصادی و معاشی انڈیکیٹرز کی بنیاد پر نہیں ہوتی۔ سرمایہ کاری کی ایک اپنی پولیٹیکل اکانومی ہے اور کسی بھی ملک کو سرمایہ کاری کے حصول کے لئے پالیسی اور قانون سازی وغیرہ سے ہٹ کر بھی بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ خاص کر انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ کے وہ پراجیکٹس جنہیں پرائیویٹ انوسٹرز کے ذریعے بروئے کار لایا جاتا ہے وہاں کئی ایسے مفاسد در آتے ہیں جو کرپشن کی ٹیکسٹ بک تعریف کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ سرمایہ کاری کے بین الاقوامی کھیل میں کرپشن کی ایک قابل قبول حد نہ صرف ہر صورت میں موجود رہتی ہے بلکہ اس کا کردار اکثر اوقات عمل انگیز کا سا ہوتا ہے۔ اس عمل انگیز کے بغیر انوسٹرز کے ساتھ معاہدوں کی گفت و شنید ادھوری رہ جاتی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ OECD اور دیگر ممالک نے اس قسم کی کرپشن کے تدارک کے لیے کئی طرح کے اقدامات اٹھائے ہیں مگر سرمایہ کاری کے بین الاقوامی کھیل میں چینی سرمایہ کاروں کے شامل ہونے سے شفافیت کی باتیں اکثر اوقات دم توڑ دیتی ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ امریکی و یورپی انویسٹرز کو اپنے ممالک کے کئی اداروں بشمول اینٹیلی جنس نیٹ ورکس کی مکمل سپورٹ حاصل ہوتی ہے اور بڑے معاہدوں کے حصول کے لیے ڈیٹا کی چوری، کاروباری حریفوں کی جاسوسی، سیاسی دباؤ سمیت کئی ایسے کام کیے جاتے ہیں جو کرپشن سے بڑھ کر خالص جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس سب کے باوجود پوری دنیا کی معیشت چل رہی ہے اور کرپشن کو ایک قابل قبول حد میں غیر اعلانیہ پالیسی کے تحت روا رکھا جاتا ہے۔

دوسری اہم بات کرپشن کے مفاسد کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حد سے بڑھتی ہوئی کرپشن سے معاشی تباہ حالی اور اقتصادی زبوں حالی پیدا ہوتی ہے۔ مگر پاکستان میں ادھر کچھ عرصے سے کرپشن کو گورننس کی ابتری کی واحد وجہ بنا کر پیش کرنے سے جو ماحول پیدا ہوا ہے اس کے منفی اثرات سب ہی نے دیکھ لیے ہیں۔ کرپشن کو سیاسی بیانیے کی بنیاد بنانے سے سیاستدان پوسچرنگ تو بہت کرتے ہیں مگر حقیقی طور پر ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا۔ پی ٹی آئی کی حکومت اس کی کلاسیکل مثال ہے کہ کس طرح کرپشن کے بیانیے پر اسے اقتدار ملا مگر زبانی جمع خرچ کے علاوہ یہ کوئی بھی معاشی سرگرمی دکھانے میں ناکام رہی۔ کرپشن کے ایسے ایسے مبالغہ آمیز اعدادوشمار حکومتی وزراء و عہدےداران پیش کرتے رہے جو اب حکومت کے لیے شرمندگی کا سامان ہیں۔ حتی کہ ماہر اقتصادیات عاطف میاں نے بھی یہ کہہ دیا کہ کرپشن اور گورننس کی ابتری میں سے موخر الذکر زیادہ نقصان دہ ہے۔ "کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے” کے نعرے کو ہمارے ہاں بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کرپشن کے نام پر مطلق اخلاقیات کو مطمع نظر بنانے والوں نے اس سوچ کی بہت مخالفت کی مگر حقیقت یہی ہے کہ سیاست اور حکمرانی کی عملی اخلاقیات کی اپنی ڈائنامکس ہوتی ہیں جس میں تضادات اور فکری مسائل ہونے کے باوجود عوامی مسائل کا حل زیادہ واضح اور ہمہ جہت ہوتا ہے۔

اس حوالے سے تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ پاور پالیٹکس کا ایک اپنا فریم ورک ہوتا ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز زیادہ سے زیادہ مفادات کے حصول کے لیے مصروف عمل رہتے ہیں۔ گیم تھیوری اس پورے عمل کو سمجھنے میں بہت ممد و معاون ہوتی ہے کہ کیسے مختلف اسٹیک ہولڈرز اپنے حریفوں کی ممکنہ چالوں سے نپٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی چالوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں غیر مرئی قوتیں پاور پالیٹیکس کا مضبوط اور بڑا حصہ ہیں۔ وہ اپنے حصے کے حصول اور اس میں ہمہ وقت اضافے کے لیے جو بھی کوششیں کرتی ہیں وہ زیادہ تر ریاستی وسائل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ان قوتوں کو دستیاب ریاستی وسائل نہ صرف بہت زیادہ ہیں بلکہ ان کی چانچ پڑتال کا بھی کوئی بیرونی سسٹم موجود نہیں ہے۔ان قوتوں کو اس پاور گیم میں اگر مزید وسائل کی ضرورت پڑے تو اپنی ہیئت اور ہیبت کی بنیاد پر پرائیویٹ ایکٹرز کے ذریعے وہ بھی حاصل کرلیتی ہیں۔ اس کے برعکس پاور پالیٹیکس کے اسٹیک ہولڈرز کے طور پر سیاستدانوں کے پاس یہ سہولت میسر نہیں ہوتی۔ انہیں یہ سارا کھیل اپنے وسائل پر نہ صرف ترتیب دینا ہے بلکہ جیتنے کے لیے بھی وسائل خود پیدا کرنے ہیں۔ اس طرح اس پاور گیم کے دو بڑے حریفوں کے درمیان وسائل کا توازن بگڑا ہوا ہے۔ ایک طرف کھیل زیادہ تر ریاستی وسائل پر کھیلا جا رہا ہے اور دوسری طرف ذاتی یا پرائیویٹ وسائل کے بل بوتے پر یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں سیاستدانوں کی طرف سے کرپشن کرنے کی شکایت اگر زیادہ تواتر سے سامنے آتی ہے تو یہ پوری طرح سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ مثال کے طور پر بے نظیر بھٹو کی حکومت کو دو مرتبہ ریاستی وسائل استعمال کرتے ہوئے غیر مرئی قوتوں نے اقتدار سے باہر کردیا۔ اب اگر پیپلزپارٹی نے اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے تو اس پاور گیم کی فنانسنگ وہ کیونکر اپنے ذاتی وسائل سے کرے گی؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا اتنا مہنگا کھیل ذاتی وسائل پر مسلسل کھیلا بھی جاسکتا ہے یا نہیں؟ سو پیپلزپارٹی نے بھی اپنے حریف کی طرح یہ کھیل پبلک فنانسنگ سے ہی کھیلا مگر کرپشن کے داغ کو ہمیشہ کے لیے دامن گیر کر لیا۔ حریف کے لیے تو ریاستی وسائل کا استعمال ہمیشہ سے قانونی ہی تھا سو وہ سرخرو رہے۔ پیپلزپارٹی پر پے درپے لگنے والے کرپشن کے الزامات کو اس انداز میں تھیورائز اور پرابلماٹائز کیا جائے تو بات کو کافی حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔

کرپشن کو جب تک ہمارے ادارے اس انداز میں نہیں دیکھیں گے اور محض پاپولر نعروں سے اس مصیبت کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا۔

ڈاکٹر عزیز الرحمن
ڈاکٹر عزیز الرحمن
لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں قانون کے استاذ اور شعبہ قانون کے سربراہ ہیں۔ قانون ، معیشت ، صحت اور قومی و ملی مسائل پر تواتر سے لکھتے ہیں۔
spot_imgspot_img