spot_img

ذات صلة

جمع

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

خلیفہ بن زید النہیان اور پاکستان

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید...

ہم کہاں بھٹک گئے!

میں نے جیسے ہی ان تصاویر کو دیکھا مجھے...

ترکی کی خارجہ پالیسی انقرہ میں نہیں، ماسکو میں بنتی ہے ، ترک اپوزیشن لیڈر

ترکی کی حزب اختلاف کے سربراہ کمال کلیچدار اوگلو نے ایک بارپھر صدر رجب طیب ایردوآن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عاید کیا ہے کہ طیب ایردوآن مسلمانوں کا خون بہانے والوں کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

انقرہ میں ایک تقریب سے خطاب میں ترک اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ "مغرب نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو شام میں آگ لگانے کے لیے استعمال کیا اور اب یہ لیبیا کو آگ میں جھونکنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "مشرق وسطی میں معصوم مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ اب تک امریکا اور روس مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کے کشت و خون کے لیے اسلحہ فروخت کرتے تھے اور اب ان میں ترکی کے طیب ایردوآن بھی شامل ہو گئے ہیں جو مسلمانوں کے قتل عام میں ایردوآن کے ایجنٹ ہیں۔

کمال کلیچدار اوگلو نے استفسار کیا کہ ہماری پالیسیوں کا تعین کون کرتا ہے؟ وزارت خارجہ یا ایوان صدر نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہماری پالیسیوں کی ڈور روسی صدر ولادی میر پوتین کے ہاتھ میں ہے۔ چاہے لیبیا ہو یا شام ہرجگہ پر وہ ترکی کو استعمال کر رہےہیں۔

خیال رہے کہ جمعرات کے روز ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک بار پھر کہا تھا کہ ان کی حکومت لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی فوجی مدد جاری رکھے گی۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا جب جرمنی کی میزبانی میں لیبیا میں جاری لڑائی روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

spot_imgspot_img