spot_img

ذات صلة

جمع

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

خلیفہ بن زید النہیان اور پاکستان

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید...

ہم کہاں بھٹک گئے!

میں نے جیسے ہی ان تصاویر کو دیکھا مجھے...

مکالمہ پاکستان: پارلیمنٹ ، آئین اور جمہوریت کے محفوظ مستقبل کے لیے باہمی مکالمے کا تسلسل ضروری ہے۔ مقررین کا ظہار خیال

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ آئین دستا ویز ہے کوئی صحیفہ نہیں،گزشتہ روز پارلیمنٹ، آئین اور جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے مکالمے میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل کا تسلسل ضروری ہے.

اٹھارویں ترمیم پر صرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، ہم تو بل پاس نہیں کروا سکتے تو آئینی ترمیمی بل کیسے منظور کروائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سول سروسز زوال کی طرف گامزن ہیں لہذا ہمیں اپنے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ پیچیدہ مسائل پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ کی ضرورت ہے اور بہتر ڈائیلاگ پارلیمان سے باہر شروع ہوتا ہے جس میں عوام کی آواز شامل ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کو روکنا ناممکن ہے، ہمارے ملک میں سیاسی گنجائش نہیں ہے جو طلباء اور تاجر تنظیموں کے ذریعے بنائی جا سکتی ہے، اگلی نسل کے لیے ہمیں سیاسی جگہ بنانی ہے۔ سابق سربراہ ہیومن رائٹس کمیشن آئی اے رحمان نے کہا کہ مسائل کے گرداب سے باہر نکلنے کے لیے ریاستی تعامل کے مجموعی ڈھانچے اور سماج کو حاصل حیثیت پر کھلے مکالمے کی ضرورت ہے۔ 

مصنف اور صحافی خالد احمد نے جمہوریت اور مکالمے کے مابین تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اصل میں مکالمے کی ثقافت کو فروغ دینے کا نام ہے۔ 

شازیہ مری نے صوبائی شناختوں کے تنوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے لیکن عموماََ ان شناختوں کی بنیاد پر حقوق کے مطالبے پر یہ کہہ طنز کیا جاتا ہے کہ ’فلاں کارڈ‘ کھیلا جارہا ہے، ڈاکٹر عبدالمالک اور افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ ملک میں پارلیمنٹ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے اور اس وقت لاقانونیت کی حکمرانی ہے۔ 

ظفراللّٰہ خان نے ریاستی ڈھانچے کے سکیورٹی اسٹیٹ سے فلاحی اسٹیٹ کی طرف انتقال کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں ایک نئے عمرانی معاہدے کی حاجت ہے۔ 

پروفسیر وائترخ ریتز نے مدارس اور دیگر طبقات کے مابین کمیونیکشن گیپ کو مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے ایک ہم آہنگ سماج کی تشکیل کے لیے پیش رفت میں رکاوٹ بنتی ہے۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ 80 کی دہائی کے بعد سے مذہبی رجحانات میں جذباتیت در آئی ہے، ظاہری چیزوں پر توجہ زیادہ ہے جبکہ مذہب کا انسانی پہلو غائب ہوگیا ہے، ڈاکٹر خالد مسعود اور عمار خان ناصر نے حالیہ مذہبی تحریکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب مذہبی طبقہ ریاست میں اپنی جگہ نہیں پاتا تو پھر وہ سٹریٹ پاور کا استعمال کرتا ہے۔ پاکستان میں معاشی اُتار چڑھاؤ پر رائے دیتے ہوئے ضیاءالدین نے کہا کہ ہماری معاشی صورتحال اُمید افزا نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی صحیح سمت کا تعین نہیں کیا، ڈاکٹر قیصر بنگالی نے وژن کی عدم موجودگی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ 

جبکہ افشاں صبوحی کا کہنا تھا کہ ہماری اشرافیہ کے ہاں ملک سے وابستگی کا کوئی احساس موجود نہیں ،کوآرڈینیٹر سی پیک رفیع اللّٰہ کاکڑ نے رائے دی کہ اصل مسئلہ سیاستدانوں اور عوام کے مابین رابطے کا فقدان ہے۔ 

جنوبی ایشیاء کے سیاسی و تزوایراتی منظرنامے کی موجودہ صورتحال پر اظہارخیال کرتے ہوئے سابق سفیر عزیز احمد جان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے کوششیں جاری رکھنی چاہیئں، دفاعی تجزیہ کار عامر رانا نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان بھارت تنازعے کو جنوبی ایشیائی ترقی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور آنے والے وقت میں سارک کانفرنس میں دونوں ممالک کی اہم شخصیات کے مابین ممکنہ ملاقات اہم کردار ادا کرے گی، ڈاکٹر ظفرجسپال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے معاشی بہتری اہم ہے، حالد احمد نے پاکستان کو بھارت کے ساتھ مقابلہ بازی کے رجحان سے باہر آنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 

مکالمہ پاکستان میں یہ سوال بھی موضوعِ بحث رہا کہ کیا پاکستان میں جنگ کے خلاف جنگ جیتی جاچکی ہے؟ اس پر طارق کھوسہ نے ملک میں نظر آنے والی آئیڈیالوجیکل متشدد ذہنیت کی بقا پر خطرہ قرار دیا جو ابھی باقی ہے۔ 

سابق مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصر جنجوعہ نے ملک کی موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے سے بہت بہتر حالت میں ہیں اور آنے والا وقت ایک مکمل پرامن پاکستان کا چہرہ لے کر آئے گا۔ سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویز کا حالیہ منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں عسکریت پسندی اور حقوق کی تحریکوں کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہیے۔ 

کیا فضاء تخلیقی اظہار کے لیے سازگار ہے؟ اس مکالمے کی چیدہ شخصیات میں سے ایک ممتاز شاعر افتخار عارف نے کہا کہ پاکستان میں ادبی اظہاریوں کے لیے مشکلات بڑھی ہیں۔ 

غازی صلاح الدین کا کہنا تھا کہ اب اُمید دم توڑ رہی ہے، یاسر پیرزادہ نے کہا کہ جبر کے دور میں تخلیق کے مواقع بڑھ جاتے ہیں، کم نہیں ہوتے، اریب اظہر اور شاہد محمود ندیم کے مطابق تخلیقی اظہار کے لیے راستے ملتے نہیں تلاش کرنے پڑتے ہیں اس لیے ناامید ہونے کی بجائے پرامید رہتے ہوئے کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔ 

نوجوان، طلبہ تحریکیں اور اُبھرتے ہوئے سیاسی رجحانات کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے عمار علی جان نے کہا کہ طلبہ میں تنقیدی شعور کے فروغ کا واحد ذریعہ یونینز سے پابندی اٹھانا ہے، اقبال حیدر بٹ اور عمیر راجہ نے کہا کہ حالات اتنے صحت مند نہیں ہیں کہ یوینیز کو بحال کرکے طلبہ کو طاقت دے دی جائے۔

خواتین کے حقوق کی تحریکیں: صنفی امتیاز کے خاتمے کی اُمید ہیں؟ کے عنوان پر بات کرتے ہوئے کشور ناہید نےکہا کہ پاکستان میں صنفی امتیاز کا خاتمہ ابھی ایک خواب ہے۔

spot_imgspot_img