spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

پاکستان نے گذشتہ 15 ماہ میں ریکارڈ توڑ قرضے حاصل کیے

15 ماہ کے عرصے میں پاکستان کے سرکاری قرض اور واجبات میں 40 فیصد اضافہ ہوا تو حکومت نے بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کی حد سے تجاوز کر کے فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (ایف آر ڈی ایل اے) کی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کرلیا۔

افکار رپورٹ  کے مطابق ملکی قرضوں کے حوالے سے پارلیمان میں پیش کیے گئے پالیسی بیان میں وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2018 کے اختتام پر مجموعی قرض اور واجبات 290 کھرب 87 ارب 90 کروڑ روپے تھے جو ستمبر 2019 تک 410 کھرب 48 ارب 90 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے یعنی اس میں 39 فیصد یا 110 کھرب 60 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

—گراف رمشا جہانگیر
—گراف رمشا جہانگیر

مالی سال 2019 کے اختتام تک مجموعی قرض اور واجبات میں 35 فیصد یا 100 کھرب 34 ارب 40 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 402 کھرب 23 ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایف آر ڈی ایل اے چاہتی ہے کہ وفاقی حکومت وفاقی مالیاتی قرض کو کم کرنے کے اقدامات کرے اور مجموعی سرکاری قرضوں کو دانشمندانہ حدود کے اندر رکھے۔

اس کے لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ مالی سال 19-2018 سے شروع کرکے 3 سال میں غیر ملکی گرانٹس کے علاوہ وفاقی مالیاتی قرض مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی) کا 4 فیصد کیا جائے اور اس کے بعد اس کو جی ڈی پی کے زیادہ سے زیادہ ساڑھے 3 فیصد تک برقرار رکھا جائے۔

پالیسی بیان میں بتایا گیا کہ ’مالی سال 19-2018 کے دوران وفاقی مالیاتی خسارہ (گرانٹس کے علاوہ) 3 ہزار 635 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 9.4 فیصد تک پہنچ گیا جو 4 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے‘۔

تاہم وزارت خزانہ نے عوامل کی سیزیز کے باعث اسے جائز قرار دیا جن میں بیشتر اس کی پالیسز سے ہی نکلے ہیں۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ مالی سال 20-2019 میں ایک غیر متوقع اور یکطرفہ عنصر وفاقی مالیاتی خسارے کی مد میں جی ڈی پی کا 2.25 فیصد رہا۔

اس میں ٹیلی کام لائسنس کی تجدید، ریاستی اثاثوں کی فروخت میں تاخیر اور توقع سے زیادہ کمزور ٹیکس ایمنسٹی جی ڈی پی کا ایک فیصد رہی۔

اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے منافعوں کی منتقلی کا شارٹ فال جی ڈی پی میں 0.5 فیصد رہا۔

پالیسی بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 2018 کے اختتام تک قرض اور اخراجات جی ڈی پی کے 86.3 فیصد سے بڑھ کر ستمبر 2019 کے اختتام تک 94.3 فیصد تک پہنچ گئے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ 15 ماہ میں حکومت کا مقامی قرض 38 فیصد سے بڑھ کر 62 کھرب 34 ارب روپے ہوگیا جبکہ اسی عرصے کے دوران غیر ملکی قرض بھی 36 فیصد یا 28 کھرب بڑھ کر 77 کھرب 96 ارب سے 105 کھرب 9 ارب روپے تک جا پہنچا۔

spot_imgspot_img