spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

جسٹس فدا محمد خان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ، شریعہ اکیڈمی میں تعزیتی ریفرینس

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے زیر اہتمام وفاقی شرعی عدالت کےقائم مقام چیف جسٹس ،جسٹس  فدامحمد خان کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس فدا محمد خان  اعلیٰ پائے کے جید عالم دین ، قانون دان ،مفکر ، اورعصر حاضرکے بہترین انسان تھے۔  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس محمد نور مسکانزئی نے کہا کہ جسٹس فدا محمد خان بہت بڑے عالم تھے اور ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت ہوتی ہے، انہوں نے مزید  کہا کہ مرحوم فاضل جج انتہائی ملنسار شخصیت تھے اور ہم نے وفاقی شرعی  عدالت میں ان کی اسلامی قانون میں دسترس سے خوب استفادہ کیا۔ پاکستان میں قوانین کی اسلامائزیشن کے میدان میں مرحوم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرفدا محمد خان ایک قد آور شخصیت تھے  اور ان کے فیصلوں اور شخصیت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت سے ان کابہت طویل رشتہ تھا اور مجھے بطور وکیل ان کے سامنے پیش ہونے کا موقع بھی ملا۔ جسٹس فدا محمد خان کی ہمہ جہت شخصیت سے ہمیں اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی مہمیز ملتی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ڈائریکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی نے جسٹس فدا محمد خان کے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور شریعہ اکیڈمی سے درینہ تعلق  کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ اپنی مختلف حیثیتوں میں ہمیشہ نمایاں طور پر علمی سرگرمیوں کی معاونت کرتے رہے۔اسلامی یونیورسٹی  انکی تصنیفات  اور عدالتی فیصلوں کی تدوین کے ساتھ ساتھ ان پر تحقیقات کے عمل کو یقینی بنائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس  جسٹس اطہر من اللہ  نے اپنی گفتگو کا آغاز  بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے تذکرے سے کیا اور کہا کہ مجھے اس یونیورسٹی سے قانون پڑھنے سے پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی میں ہی میری ملاقات جسٹس فدا محمد خان سے اس وقت ہوئی جب وہ بہت جوان تھے ، میں پڑھنے، وکالت کرنے اور جج بننے تک ہمیشہ ان سے رہنمائی لیتا رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس فدا محمد خان کے انتقال سے میرا ذاتی نقصان بہت ہوا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ شاکر اللہ جان نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی ہم سب کے لیے قابل تقلید زندگی ہے،ان جیسا عالم جج ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس موقع پرڈاکٹر فدا محمد خان کی بیٹی مریم نے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد کی زندگی کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مشیر عالم  نے کہا کہ فاضل جج کے ساتھ گزارے لمحات کو الفاظ میں سمونا ناممکن ہے، وہ چار مرتبہ شرعی عدالت میں بطور عالم جج اور دوبار قائم مقام چیف جسٹس رہے، ان کی وفات سے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ قانونی برادری کا نقصان ہواہے۔ جسٹس مشیر عالم نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں جسٹس فدامحمد خان چیئر قائم کرکے تحقیق  وجستجو کا مستقل سلسلہ شروع کیا جانا چاہیے۔

 تقریب میں جسٹس مظہر عالم، جسٹس شوکت علی رخشانی، جسٹس ڈاکٹر خالد مسعود،وفاقی شرعی عدالت کے مشیرڈاکٹر مطیع الرحمن بھی شریک تھے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے قائم مقام صدر ڈاکٹر اقدس نوید نے اختتامی کلمات کہے جبکہ شعبہ شریعہ وقانون  کے سربراہ ڈاکٹر طاہر حکیم  کی دعا کے ساتھ یہ تعزیتی تقریب اختتام کو پہنچی۔

spot_imgspot_img