spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

ایک شہری کا وزیر اعظم پاکستان کے نام کھلا خط

جناب وزیر اعظم!

پوراملک اس وقت شدید بے چینی اوراضطراب سے دوچارہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ہرفرد کو پریشان کررکھاہے۔ لوگوں نے 2018کے انتخابات میں عمران خان سے جو توقعات وابستہ کی تھیں وہ اب تک تشنہ تعبیر ہیں۔ بڑھتے ہوئے ٹیکسوں اوراشیاءکی قیمتوں نے لوگوں سے ان کا سکون چھین لیاہے اور2018 کا محبوب عمران خان اب لوگوں کی نفرت کانشان بنتاجارہاہے۔ اس پر جتناافسوس کیاجائے کم ہے اس لیے کہ ماضی کی حکومتوں کے مقابل عمران خان لوگوں کی امیدوں کا مرکز اس لیے بنے تھے کہ ان کا ماضی بے داغ تھا وہ کبھی حکومت میں نہیں رہے تھے اورلوگ انہیں دیانت دار سمجھ کر برسراقتدار لائے تھے لیکن عمران خان نے لوگوں کو بری طرح مایوس کیا۔ انہوں نے معاشی حالات کو بہتربنانے کی جتنی کوششیں کیں وہ اب تک ثمرآور ثابت نہیں ہوسکیں۔ لوگوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ عمران خان کا ماضی کیساتھا، لوگ تویہ دیکھ رہے ہیں کہ لمحہ موجود میں عمران خان نے انہیں کیادیا اوران سے کیاچھین لیا۔ کیایہ المیہ نہیں کہ ایک نیوکلئیر ملک گندم کے آٹے کے بحران سے دوچارہے۔

مسئلہ کشمیر کے ضمن میں بھی عمران خان سے وابستہ توقعات پوری نہ ہونے سے مایوسی پھیلی ہے۔ عمران خان نے خود کہاتھا کہ انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب تک وقت دیاجائے۔ قوم نے وقت دے دیاخطاب ہوگیا بلاشبہ بہترین خطاب تھا لیکن اس کے بعد کیاہوا، قوم اس پر مطمئن نہیں ہے۔ کشمیری بھارتی ظلم وستم کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ عمران خان کو امید تھی کہ عالمی برادری ان کا ساتھ دے گی لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ الٹاملائیشیا اورترکی جیسے دوست ملک بھی پاکستان سے ناراض ہوگئے۔ وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن ان کا پاکستان سے دورہونااچھا شگون نہیں ہے۔ پاکستان خاص طورپر عمران خان امریکہ سے ضرورت سے زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں حالانکہ امریکہ کا ماضی بتاتاہے کہ اس نے کسی کے ساتھ وفانہیں کی اوربیچ منجدھار دوستوں کو تنہاچھوڑنا امریکہ کا وطیرہ رہاہے۔ امریکی عوام توبیچارے بھولے بھالے ہیں انہیں جوکچھ باورکرایاجاتاہے وہ اس پر اعتمادکرتے ہیں۔

اس مراسلہ کے ذریعے عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ عالمی مسائل میں بھرپوردلچسپی لیتے رہیں، ایران اور امریکہ کے مابین ثالثی کرتے رہیں، لیکن ایک مہربانی فرمائیں کہ اپنے ہم وطنوں پر مزید بوجھ نہ ڈالیں۔ اہلِ پاکستان اب بھی عمران خان سے محبت کرتے ہیں لیکن یہ سلسلہ کب تک چل سکتاہے؟ جب غریب کے گھرمیں بچے بھوک سے بلبلائیں گے تو انہیں خوش نما چہرے کاحامل عمران خان ایک آنکھ نہ بھائے گا۔ عمران خان کاسارا ماضی اب داؤ پر لگ چکا ہے۔ یہ توبات ہوئی قومی سطح پر عمران خان کے بارے میں لوگوں کے رجحانات کی۔

اسلام آباد کی سطح پر آئیں تو وفاقی دارالحکومت کی صورتحال بھی خاصی دگرگوں ہے۔ صرف ایک مثال سے اس صورتحال کو سمجھاجاسکتاہوں۔ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ جو بدسلوکی کی جاتی ہے وہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ ایک اورمثال، فیض آباد سے روات جانے والی ایکپریس وے کو کرال چوک سے ٹی چوک (روات) تک چوڑاکرنے کے بہانے کھود کررکھ دیاگیاہے۔ اس سے وہ سڑک خطرناک ہوکررہ گئی ہے۔ کسی بھی وقت کوئی گاڑی کناروں سے لڑھک سکتی ہے اورانسانی جانوں کا ضیاع ہوسکتاہے۔ اس وقت معاملہ ذرائع ابلاغ میں اٹھایاجائے گا تو عمران خان لازماً نوٹس لیں گے۔ کیوں نہ حادثے سے قبل ہی اس سڑک پرکام شروع کردیاجائے۔ اسی طرح دیگر کئی معاملات عمران خان کی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ وقت تیزی سے گزررہاہے اوراس سے بھی زیادہ تیزی سے عمران خان کی مقبولیت کاگراف گررہاہے۔ اے کاش ایسانہ ہو اورعمران خان لوگوں کی آنکھوں کا تارا بنارہے۔

آپ کا خیر اندیش

سید مزمل حسین ، ریورگارڈن اسلام آباد             

spot_imgspot_img