spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

کوئٹہ میں خودکش حملہ: ریاست اہل سنت کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ، علامہ لدھیانوی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے ہیں۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب حضرت ابو بکر صدیق کی یومِ وفات کے حوالے سے ایک ریلی پریس کلب میں آئی تھی جس کے لیے سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔

دھماکے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک نوجوان لڑکے کو سکیورٹی کے پہلے حصار پر روکا گیا، لیکن جب وہ رکے بغیر آگے بڑھنے لگا تو پولیس نے اسے گرا لیا۔ گرتے ہی اس نوجوان نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پولیس کے دو جبکہ لیویز کا اہلکار شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپیشل برانچ اور ایف سی کے اہلکاروں کی جانب سے جائے وقوعہ سے ثبوت حاصل کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ ہماری کامیابی ہے کہ ہم نے اس خود کش بمبار کی شناخت کی اور اسے روکا۔

کوئٹہ

دھماکے کے ہدف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی لیکن ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ آگے ریلی ہی تھی تو اور کوئی ٹارگٹ آگے بنتا نہیں ہے‘۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب اس علاقے میں اہل سنت والجماعت کے زیر اہتمام ایک مذہبی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔

اس دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے تمام زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ لے جایا گیا ہے۔ ہسپتال کے ترجمان وسیم بیگ کے مطابق دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

جائے وقوعہ کی تصاویر سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دریں اثناء اہل سنت والجماعت کے سربراہ علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کہا ہے کہ آج ہماری جماعت ملک بھر میں سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے یوم وفات پر مدح صحابہ کے جلوس نکال رہی ہے۔ کوئیٹہ میں نکلنے والے ہمارے جلوس پر حملہ کیا گیاجس میں ہمارے ساتھ شہید ہوگئے۔ ہم نے ہمیشہ لاشیں اٹھاکر امن کا درس دیا ہے مگر ریاست ہمیشہ ہمیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

علامہ محمد احمد لدھیانوی نے مزید کہا کہ اگر ریاست ہمیں تحفظ فراہم نہیں کرسکتی تو برملا اپنی ناکامی کا اعتراف کرے، پھر ہم اپنی حفاظت خود کرلیں گے۔

spot_imgspot_img