spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

ایران امریکہ پھر آمنے سامنے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے خلیج فارس میں موجود امریکی بحری جہازوں کو پریشان کرنے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

Abraham Lincoln Flugzeugträger im persischen Golf (picture-alliance/AP Photo/B. M. Wilbur)

دنیا کورونا وائرس کے بحران پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے لیکن خلیج فارس میں امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا،”میں نے امریکی نیوی کو احکامات دیے ہیں کہ سمندر میں موجود ہمارے جہازوں کو پریشان کرنے والی ایرانی گن بوٹس کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کر دیا جائے۔‘‘

تاہم صدر ٹرمپ کی اس ٹویٹ کے بعد ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک ”وارننگ‘‘ ہے۔ ڈپٹی ڈیفنس سیکریٹری ڈیوڈ نورکویسٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایرانیوں کو ایک اہم وارننگ دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی بحری جہازوں کو”اپنے دفاع کا حق‘‘ حاصل ہے۔

Iran Iranian Islamic Revolutionary Guard Corps Navy (IRGCN) provizieren US Kriegsschiff

امریکی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق گزشتہ بدھ کے روز پاسداران انقلاب کے نیوی یونٹ کی گیارہ کشتیوں نے خلیج فارس میں موجود امریکی بحری جہازوں کے انتہائی قریب آنے کی بار بار کوشش کی۔ بیان کے مطابق یہ رویہ ”خطرناک اور پریشان کن‘‘ ہے۔ امریکی نیول فورس سینٹرل کمانڈ کے ایک بیان کے مطابق کچھ کشتیاں چھ امریکی بحری جہازوں سے صرف نو میٹر کے فاصلے پر تھیں۔ نیوی حکام کے مطابق انہوں نے تباہ کن ٹکراؤ سے گریز کیا اور کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

امریکی بحریہ کے مطابق حفاظتی اقدامات کو دیکھا جائے تو ایرانی کشتیوں نے واضح طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ چند برس پہلے تک ایرانی اور امریکی بحریہ کے درمیان اس طرح کے واقعات اکثر پیش آتے تھے لیکن اب یہ واقعہ ایک طویل عرصے بعد رونما ہوا ہے۔ دوسری جانب پینٹاگون حکام نے امریکی صدر کی ٹویٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اس حوالے سے واضح پیغام دینا ضروری ہے۔

دریں اثناء ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کوچاہیے کہ وہ دوسروں کو دھمکیاں دینے کی بجائے کورونا وائرس سے متاثرہ نیوی اہلکاروں کے علاج پر توجہ دیں۔ امریکی فوج میں تین ہزار پانچ سو سے زائد اہلکار کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

USA - Rakete Missile-2

امریکی صدر کا ٹویٹر بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب گزشتہ روز ہی ایران نے ایک ملٹری سیٹلائیٹ کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجا ہے۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ایرنا کےمطابق”نور ون‘‘ نامی سیٹلائٹ ایک نامعلوم صحرائی مقام سے لانچ کیا گیا۔ امریکا شروع سے ایرانی سیٹلائٹ پروگرام کی مخالفت کرتا آیا ہے کیوں کہ امریکا کو خوف ہے کہ ایران اسپیس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر سکتا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران ایران اور امریکا کے مابین کشیدگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ جنوری میں عراق میں امریکی ڈرون حملے میں ایران کے طاقتور جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیاگیا تھا۔ اس کے بعد ایرانی فوج نے بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا اور اسی وجہ سے عراقی مسلح گروپوں کی طرف سے امریکی فوجی اڈوں کو بار بار میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

spot_imgspot_img