spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

تیل بحران میں سعودیہ مزید مستحکم ہوجائے گا۔ رپورٹ

کورونا وائرس   میں اضافے کے بعد دنیا بھر میں  چار ارب افراد  کو  لاک ڈاون  کاسامنا ہے جس کی وجہ سے  پٹرول ، جیٹ ایندھن ، اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی مانگ  میں تیزی سے کمی آئی ہے ۔ امریکہ میں ایک بیرل خام تیل کی قیمت اتنی کم ہوگئی ہے کہ حال ہی میں بیچنے والوں کو اس کے ذخائر سے لے جانے کے لیے بھی لوگوں کو ادائیگی کرنا پڑی۔  نتیجتاًتیل پر انحصار کرنے والی معیشتیں جھٹکے کھا رہی ہیں۔امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل تیار کرنے والا ملک ہے ، صرف دو ماہ کے دوران تیل کی کھدائی کرنے والے رگوں کی تعداد میں 50 فیصد کی کمی واقع ہوچکی ہے ، تقریبا 40 فیصد تیل اور گیس پیدا کرنے والے سال کے اندر اندر دیوالیہ  ہوسکتے ہیں اور ایک تخمینے کے مطابق  220،000 تیل کے کنووں میں کام کرنے والے ملازمین  کو اپنی ملازمت سے محروم ہوناپڑسکتا ہے۔ دنیا بھر میں ، نائیجیریا سے عراق اور  قازقستان تک پیٹرولیم سے وابستہ ریاستیں اپنی کرنسی کو مستحکم کرنے کی  جدوجہد کررہی ہیں ۔

اگرچہ سال 2020 کو تیل پر انحصار کرنے والی ریاستوں کے لیے قتل عام کے سال کے طور پر یاد کیا جائے گا ، تاہم  سعودی عرب کم سے کم اس  وبائی بیماری سے اقتصادی طور پر اور جغرافیائی طور پر مضبوط ومستحکم بن  کر ابھرے گا۔ سعودی عرب کے پاس اس بحران سے نمٹنے کی مالی صلاحیت موجود ہے اور وہ تیل پیدا کرنے والی دنیا کی بڑی بڑی ریاستوں کی بنسبت اس بحران میں سرخرو ہوکر نکلے گا۔

در حقیقت تیل کی کم قیمتیں اس ملک کے لئے تکلیف دہ ہیں جس کو اپنے عوامی بجٹ میں متوازن  رہنے کے لیے تقریبا  80 ڈالر فی بیرل کی ضرورت ہے ، یہی وجہ ہے کہ مودی نے گذشتہ جمعہ کو سعودی عرب کا متوقع منافع کم کردیا۔ سعودی عرب میں جاری سال کی پہلی سہ ماہی میں 9 بلین ڈالر کا خسارہ  دیکھا جارہا تھا۔ دیگر ممالک کی طرح مملکت میں بھی ٹیکس کی آمدنی میں واضح  کمی دیکھنے میں آئی ہے، کیونکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث  ملک کو معاشی پابندیوں کا سامنا ہے ۔ گذشتہ ہفتے ، سعودی وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ سرکاری اخراجات کو “بڑی حد تک کم کرنے” کی ضرورت ہوگی اور ولی عہد محمد بن سلمان  کے ویژن 2030 کے اقتصادی تنوع کے منصوبو ں کی تکمیل میں بھی تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے باوجود  تیل تیار کرنے والے دوسرے ممالک کے برعکس ، سعودی عرب کے پاس  مالی ذخائر بڑی مقدار میں  ہیں۔22 اپریل کو  وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ 2020 میں بادشاہت 58 بلین ڈالر کا قرض لے سکتی ہے۔ بیشتر دوسری معیشتوں کے مقابلے میں  سعودی عرب کی جی ڈی پی کا شرح تناسب بہت کم  ہے۔ 2019 کے آخر تک یہ شرح 24 فیصد تھی ، حالانکہ اس کے بعد اعداد و شمار میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اپنے مالی ذخائر سے 32 بلین ڈالر کم کر دے گا۔ مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 474 ارب ڈالر رکھے ہوئے ، سعودی عرب  300 بلین ڈالر کی سطح سے بالاتر ہے ۔

 عالمی اقتصادی بحران کے نتیجے میں پیداواری کٹوتیوں اورلاک  ڈاؤن کی وجہ سے سعودی عرب تیل کی آمدنی اور تیل کے بازار میں اپنے آپ کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوگا۔ تیل کا موجودہ ذخیرہ آنے والے برسوں میں قیمتوں میں اضافے اور سعودی عرب کے لیے بڑھتی ہوئے آمدنی کی بنیاد رکھے گا۔ اگرچہ مستقبل میں تیل کی طلب کا نقطہ نظر انتہائی غیر یقینی ہے ،مگر جب آپ فوری بحران سے باہر نکلتے ہیں تو  فراہمی کے مقابلے میں طلب میں تیزی سے اضافہ ہونے کا امکان بہرحال موجود ہوتا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے 2020 کے اختتام تک عالمی سطح پر تیل کو پرانی سطح پر واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی بھی اسکی پیش گوئی کرچکی ہے کہ سال کے آخر تک  100 ملین بیرل اوسطاً دوسے تین فیصد رہنے کی  امیدہے۔ اگر وبا پر قابو پانے کے  لیے کیے گئے لاک ڈاون جیسے اقدامات  زیادہ دیر تک باقی رہے یا وائرس کی دوسری لہر آتی ہے توتیل کی قیمتوں کو  دوبارہ مستحکم کرنے میں بہت زیادہ وقت لگے گا ، لیکن زیادہ امید یہی کی جارہی ہے کہ سال کے آخر تک تیل کی قیمتوں کو واپس اپنی سطح پر لانے کی کوششیں کامیاب ہوجائیں گی ۔

وبا کے باعث طرز زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں سے مستقبل میں تیل کی طلب میں کمی آسکتی ہے ، لیکن اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مستقل تبدیلی کی پیش گوئی  یقینی نہیں ہے۔مثال کے طور پر  چین میں کار کا سفراور   ٹرک کے ذریعہ شپنگ کا کام گذشتہ سال کی  سطح کے قریب قریب  بحال ہوچکا ہے ، جبکہ  ہوائی سفر جو ایک ساتھ ہوائی مال بردار ی  بھی کررہاہوتا ہے،وہ گذشتہ سال کی بنسبت اس وقت عالمی سطح پر تیل کی طلب کے مطابق 8 فیصد باقی ہے ۔

  اگر زیادہ سے زیادہ افراد نجی کاروں  میں سفرکا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ وبا سے بچنے کے لیے جہاز، ٹرین اور بسوں میں سفر کرنے کی بنسبت اپنے آپ کو  زیادہ محفوظ  محسوس کرتے ہیں، جس سے تیل کی طلب میں حقیقتاًخاصا  اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ توقعات کہ آب و ہوا کی پالیسی کے ذریعہ تیل کی مانگ میں اضافہ ہوگا ، مایوس کن ہیں۔ اس وبائی امراض سے لاحق معاشی پریشانی ماحولیاتی پالیسی کی امنگ کو متاثر کرتی ہے ، جیسا کہ حالیہ دنوں  میں  تنہائی کی طرف رخ کیا گیا ہے ، یہ واضح کرتا ہے کہ  ماحولیاتی پالیسی  کو تبدیلی کی ضرورت ہے اور درکار عالمی تعاون سے بھی دور ہے۔

اس کے برعکس ، تیل کی مسلسل فراہمی کو پیداوار ختم ہونے کی وجہ سے واپسی میں زیادہ وقت لگے گا،  نئی سپلائی میں سرمایہ کاری ختم کردی گئی ہے ، اور امریکہ کا انقلاب سست روی کا شکار ہے۔ اس مہینے میں جیسے ہی ذخیرہ اندوزوں  کو عالمی سطح پر تیل ذخیرہ کرنے کی طرف راغب کیا جائے گا ،تو زمین پر مبنی اسٹوریج مکمل ہوجائے گا اور غیر معمولی تعداد میں تیل پیدا کرنے والے کوؤں کو بند کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایسا کرنے سے ذخائر کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ اس میں سے کچھ سپلائی کبھی واپس نہیں آئے گی جبکہ کچھ واپس تو آئے گی مگر اس کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔انرجی پہلوپر نظر رکھیں تو یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آئل کنسلٹنسی کے 4 ملین بیرل  کی یومیہ فراہمی کو مسلسل نقصان کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

تیل کی بڑی کمپنیوں جیسے شیورون اور ایکسن موبل نے بھی قیمتوں کے خاتمے کے جواب میں اپنے  اخراجات میں کمی کردی ہے۔ یہاں تک کہ تیل کی طلب میں بغیر کسی اضافے کے  ہر سال صرف تیل کی سپلائی میں لگ بھگ 60 لاکھ بیرل آن لائن لائے جائیں گے تاکہ صرف قدرتی پیداوار میں کمی کو پورا کیا جاسکے۔ مزید برآں ، تیل کی صنعت کی ناقص واپسی اور بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشرتی دباؤ سے متعلق سرمایہ کاروں کے لیے پہلے ہی فائدہ نظر نہیں آتا۔

خاص طور پر ، امریکی شیل آئل کو وبا پھیلنے سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں کئی سال لگ جائیں گے۔ امریکی تیل کی پیداوار کرونا وائرس پھیلنے سے پہلے والی پیداوار سے 30 فیصد کم ہوجائے گی جو روزانہ تقریبا 13 13 ملین بیرل ہے۔تیل کی طلب میں کتنی دیر تک افسردگی برقرار ہے ، فی الحال اس کا کوئی اندازہ نہیں۔ تیل کی قیمتوں واپس لانے کے لیے امریکی تیل کی پیدا وارمیں مزید اضافہ ہوگا۔

مذکورہ تحریر https://foreignpolicy.com/ پر شائع ہونے والی انگریزی رپورٹ کا ترجمہ ہے جسے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے سپیشل اسسٹنٹ Jason Bordoff نے لکھا ہے۔ اصل مضمون یہاں https://foreignpolicy.com/2020/05/05/2020-oil-crash-winner-saudi-arabia/ پڑھا جاسکتا ہے۔ شکریہ

spot_imgspot_img