spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

خورشید ندیم کا سجدہ سہو!

ہمارے محترم دوست خورشید ندیم  سجدہ سہو کے موڈ میں ہیں ،اس  اجتہادی غلطی کے لیے جو انہوں نے نوازشریف جیسے سرمایہ کار کو صاحب عزیمت سمجھ کرکی کہ وہ کسی سیاسی جمود کو توڑ سکتے ہیں۔ اپنی اس اجتہادی غلطی کے اقرار میں اور اس کو درست کرنے کی امید میں خورشید صاحب  نے ایک استدلال بنانے کی کوشش کی ہے، جو کہ ایسی کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن انہوں نے ایک پیچیدہ بنائے استدلال کے ذریعے سے اس سائنس کو دریافت کرنے کی بات کی ہے جو سماجی تبدیلیوں کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے ۔  خورشید ندیم  کی دانست میں اس سائنس کو دریافت کیے بغیر اور سمجھے بغیر گویا کسی جمود کو توڑنا بہت مشکل  ہے۔

اپنے اس بنیادی مقدمے کو سمجھانے کے لیے وہ پس منظر میں قرآن مجید کے طرزاستدلال کو  بیان کررہے ہیں اورعمرانی علوم  کے  چند ماہرین  کی آراء کوپیش کررہے ہیں، جو سماجی حرکیات کی سائنس کو اپنے اپنے نظام فکرکے تحت رکھ کر بیان کرتے ہیں۔ مسئلہ مگر  یہ ہے کہ اتنی پیچیدہ گفتگو کے بعد بھی خورشید صاحب اپنی بات کو قارئین کے سامنے سادہ لفظوں میں بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شاید یہی ان کا اصل مسئلہ ہے۔ وہ اصل میں یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میں نے نوازشریف اور ان کی جماعت سے جو توقعات وابستہ کیں ،وہ ایک سراب ثابت ہوئیں، کیونکہ وہ امیدیں معاشرے کی حرکیات اور اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی اس سائنس کو فراموش کرکے وابستہ کی گئیں جن کا معاشرہ تابع ہوتا ہے۔ یوں  ان کا نوازشریف اور ان کی جماعت  مسلم لیگ (ن) سے وابستہ نظریہ غلط ثابت ہوا۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اس اجتہادی غلطی میں وہ اکیلے نہیں، بلکہ صف اول کے چند کالم نگاراور  بھی ہیں جنہوں نے عمران خان  سے بالکل اسی طرح کی توقعات وابستہ کیں اور وہ بھی صدا بصحرا  ثابت ہوئیں۔ خورشید ندیم کا  کالم  ایک مایوسی پر اس لحاظ سے ختم ہوتا ہے کہ وہ قاری کو پہلے اس سائنس کو سمجھنے پر لگاتا ہوا چھوڑدیتا  ہے جس کو سمجھے بغیر نہ جمود کو توڑا جاسکتا ہےاور نہ ہی جمود کو توڑنے والے مبارزین کچھ خاص کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ میرے ناقص فہم کے مطابق خورشید ندیم کے حالیہ شائع ہونےوالے کالم کا یہی خلاصہ ہے،میرے پیش نظر اس وقت دوگذارشات ہیں۔

کسی نسلی تعصب میں جائے بغیر اگر سماجی حرکیات کوسمجھنا ہے تو اس پورے پروسیس  میں پنجاب کی اشرافیہ، نالج ایلیٹ  اور پاور ایلیٹ ،دونوں کے خودغرضانہ کردار کو بیان کیے بغیر کوئی تجزیہ مکمل نہیں ہوسکتا۔  مجھے معلوم ہے کہ  خورشید ندیم اس زاویے سے مسئلہ کو سمجھنے کی کبھی کوشش  نہیں کرینگے اور یوں اس مسئلے کو وہ آسانی سے سمجھ بھی نہیں سکتے۔

پنجاب کی خودغرض اشرافیہ کا جب میں ذکر کررہا ہوں تو اس میں دیگر قومیتوں کے بالادست طبقات بھی خود بخود  شامل ہوجاتے ہیں لیکن اسے کوئی نام دیے بغیرسمجھا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کے خلاف ایک طبقاتی شعور بیدار کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس کو نام دیا جائے، اس کے لالچ کو بیان کیا جائے، اس کو مشخص کیا جائے، اس کو بطور طبقہ کسی  قالب میں ڈھالا جائے اور اس کو عام آدمی کے شعور میں اتارا جائے۔ میرے نزدیک پنجاب کی اس اشرافیہ کے دو حصے ہیں۔ ایک طاقت اور اقتدار کا بھوکا ہے جس میں  سرمایہ کار، جاگیردار، تاجر، سیاستدان، فوجی اور سویلین افسر شامل ہیں۔ دوسرا قلم کار اور علم وفکر سے تعلق رکھنے والا ہے، جس میں پنجاب کے بیشتر دانشور، شاعر، ادیب، مذہبی سوداگر، مبلغ اور پروفیسر شامل ہے۔اپنی اکثریت، وسائل تک رسائی، نوآبادیاتی دور سے وسائل تک غیر مساوی استفادے کے مواقع، نسبتاً شہری ، اربن کلچر اور فوجی مڈل کلاس کے بل بوتے پر پنجاب کی یہ اشرافیہ اپنی ذات سے نہ آگے دیکھ سکتی ہے نہ باقی پاکستان کو یہ انسانوں کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا دانشور اس وقت خاموش تماشائی بنا ہوتا ہے جب خورشید صاحب کے بقول نئی سماجی حرکیات کی داغ بیل ڈالی جارہی ہوتی ہے۔ بطور مثال، ہماری حالیہ تاریخ میں سی پیک کے پروجیکٹس کے دوران  کبھی احسن اقبال کی آنکھیں کھلی نہ خواجہ آصف کی، نہ نوازشریف کو خیال آیا اور نہ ہی پنجاب کی دیگر پاور ایلیٹ کو۔ بالکل یہی حال اس کے دانشوروں (بشمول ہمارے مخدوم خورشید ندیم  صاحب) کا  رہا۔ ان سب کی آنکھیں بند رہیں۔ یہ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں اور لوگوں کو یوں روندتے ہوئے نکل گئے کہ جیسے ان کا وجود ہی نہیں ہے جیسے یہ Zone of non-beingمیں رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں کی ایک اور مثال بلوچوں ، پشتونوں کا قتل عام اور پی ٹی ایم جیسی تحریکوں کا سامنے آنا ہے۔ ماسوائے چند مارکسسٹ دانشوروں اور کامریڈوں کے پورا پنجاب خاموش ہے۔ نہ صرف خاموش بلکہ ظالم کا دست و بازو بنا ہوا ہے۔ بالکل یہی حال ماضی قریب میں پختونخوا میں دہشت گردی کے ہاتھوں اس بڑی تباہی کے موقع پر بھی تھا ۔

یہی وجہ ہے کہ  جب خورشید صاحب اپنا پورا مقدمہ لکھ رہے ہیں تو ان کے سامنے بھی صرف پنجاب ہی ہے، باقی ملک نہیں ہے۔  میری تجویز تو یہی ہے کہ وہ پنجاب ہی کی  سماجی اور سیاسی حرکیات کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ دنیا میں بڑی تبدیلیاں لانے والے صاحبان عزیمت دوکانداری اور مزاحمتی تحریکیں بیک وقت نہیں چلاسکتے۔ جب آپ کا سیاسی لیڈر، مذہبی عالم، مصنف ، دانشور اور فوجی افسر دوکانداری کررہا ہے تو کاہے کی سیاسی تبدیلی اور کیسا  سماجی انقلاب۔ جس خوشحال خطے کی سیاسی اور علمی اشرافیہ کے پاس بلوچستان اور وزیرستان کے مظلوموں کی دادرسی کے لیے دو میٹھے بول اور دو الفاظ تک  نہیں، اس سے میں یہ کیسے توقع رکھوں کہ وہ  ابن خلدون ،اقبال  اور میکس ویبر کو پڑھ کر پہلے حرکیات کو سمجھے گا پھر مزاحمت کرے گا۔ یہ مودودی ،اقبال ، فیض  اور جالب اسی پنجاب میں ہی رہے بسے۔ کیا بگاڑا انہوں نے ان کا؟ ان کو پھر بھی پیروکار ہمارے علاقوں میں ہی ملے۔

بصد احترام خورشید صاحب!  اس وقت جب آپ ان بڑے مفکرین کی تشریحات بیان کررہے ہیں آپ سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر قبائلی اور بلوچ نوجوان نئی تاریخ لکھ رہے ہیں، وہ اپنی سیاسی حرکیات خود بنا  رہے ہیں اور تاریخ کے صفحات پر رقم بھی کررہے ہیں۔

ڈاکٹر حسن الامین
ڈاکٹر حسن الامین
لکھاری ساوتھ ایشیاء سینٹر یونیورسٹی آف پنسلوانیا اور اسٹاکٹن یونیورسٹی میں فلبرائٹ فیلو ہیں۔ سماجی تحریکات کا مطالعہ آپ کا خصوصی موضوع ہے۔
spot_imgspot_img