spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

‘تم سا کوئی پیارا، کوئی معصوم نہیں’ شاعر راحت اندوری کورونا کے باعث انتقال کرگئے

ہندی اور اردو زبان کے معروف بھارتی شاعر 70 سالہ راحت اندوری کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انتقال کرگئے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اندور ہسپتال کی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ 11 اگست کو شام 4 بج کر 40 منٹ پر راحت اندوری کارڈیو ریسپائریٹری اریسٹ(دل اور پھیپھڑوں کے افعال رکنے) سے چل بسے۔

انتظامیہ نے بتایا کہ راحت اندوری میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، ان کے گردے فیل تھے، وہ ٹی 22 ذیابیطس، فشار خون کا شکار تھے اور ان کی بائیں آنکھ کالے موتیا سے متاثر تھی اور موت سے قبل وہ وینٹی لیٹر پر تھے۔

دوسری جانب اے این آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصدیق کی کہ راحت اندوری کو آج 2 ہارٹ اٹیکس آئے اور انہیں 60 فیصد نمونیا تھا۔

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ سری بندو ہسپتال کے ڈاکٹر ونود بھنڈاری نے بتایا کہ اردو زبان کے شاعر راحت اندوری کا انتقال ہسپتال میں ہوا۔

ڈاکٹر ونود کے مطابق انہیں آج دل کے 2 دورے پڑے اور وہ جانبر نہ ہوسکے، انہیں 60 فیصد نمونیا بھی تھا۔

راحت اندوری بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کے شہر اندور میں ایک مل مزدور رفعت اللہ قریشی کے ہاں پیدا ہوئے اور ان کا اصلی نام راحت قریشی ہے اور انہوں نے کم عمری می ہی شاعری کرنا شروع کی۔

راحت اندوری کی نظم، غزل اور مختلف اشعار کی متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور انہوں نے 40 سے زائد بولی وڈ فلموں کے لیے درجنوں مقبول گیت لکھے۔

راحت اندوری کو بھارت میں عصر حاضر کا شاعر بھی کہا جاتا ہے اور وہ بھارت میں اقلیتوں اور خصوصی طور پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر بھی شاعری کرتے رہےہیں۔

راحت اندوری نے ‘ گھاتک، عشق، بیگم جان، منا بھائی ایم بی بی ایس، مرڈر، ناراض، جنم، میں تیرا عاشق اور خوددار’ سمیت 40 سے زائد بولی وڈ فلموں کے لیے گانے لکھے۔

ان کے مقبول گیتوں میں اداکار گووندا اور کرشمہ کپور پر’خودار’ فلم کا گانا ‘تم سا کوئی پیارا، کوئی معصوم نہیں’ اور ‘گھاتک’ کا ممتا کلکرنی پر فلمایا گیا گانا ‘کوئی جائے تو لے آئے’ سمیت دیگر شامل ہیں۔

راحت اندوری نے ہندی سمیت اردو میں بھی غزل لکھے جب کہ وہ دیگر بھارتی مقامی زبانوں میں بھی شاعری پر طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔

قبل ازیں بھارتی نشریاتی ادارے ٹائمز ناؤ کے مطابق راحت اندوری میں 11 اگست کو کورونا کی تشخیص ہونے کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا،

رپورٹ کے مطابق راحت اندوری میں گزشتہ چند دن سے کورونا کی ہلکی علامات تھیں اور ٹیسٹ کرانے پر ان میں وبا کی تشخیص ہوئی تھی۔

کورونا کی تشخیص کے بعد راحت اندوری کو اندور کے ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کرادیا گیا تھی۔

رپورٹ میں ہسپتال کے ڈاکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ راحت اندوری میں کورونا سمیت نمونیا بخار کی بھی تشخیص ہوئی ہے۔

دوسری جانب معروف شاعر کے اہل خانہ کے مطابق راحت اندوری پہلے سے ہی دل کے عارضے اور ذیابطیس کا شکار تھے۔

کورونا میں مبتلا ہونے اور ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد راحت اندوری نے ہندی میں کی گئی ٹوئٹ میں مداحوں سے دعا کی التجا کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی صحت سے متعلق ان کے اہل خانہ کو تنگ نہ کیا جائے، وہ اس متعلق سوشل میڈیا پر اطلاع دیتے رہیں گے۔

راحت اندوری کو ہسپتال داخل کرائے جانے کے بعد مدھیا پردیش کے وزیر اعلیٰ سمیت اہم سیاسی، سماجی و ادبی شخصیات نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ بھارت کورونا کیسز کے حوالے سے اس وقت دنیا کا تیسرا بدترین ملک ہے، جہاں متاثرہ افراد کی تعداد 23 لاکھ تک جا پہنچی ہے اور وہاں پر اہلاکتوں کی تعداد بھی 44 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

spot_imgspot_img