spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

احسان اللہ احسان ایک آپریشن کے دوران فرار ہوا ، ترجمان پاک فوج

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار اور اس کے بعد مبینہ آڈیو ٹیب سے متعلق سوال پر تصدیق کردی ہے کہ ایک آپریشن کے دوران احسان اللہ احسان کو استعمال کیا جارہا تھا اور وہ اس دوران فرار ہوگیا۔

راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے احسان اللہ احسان کی مبینہ آڈیو ٹیپ میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ‘مبینہ آڈیو ٹیپ میں لگائے گئے الزامات کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں، وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں’۔

میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ احسان اللہ احسان کو جتنا عرصہ پاکستان میں رکھا گیا اس دوران اس سے اہم معلومات حاصل کیں اور اس سے فائدہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جارہی ہے’۔

خیال رہے کہ 17 اپریل 2017 کو پاک فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا۔

علاوہ ازیں رواں برس فروری کے آغاز میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ احسان اللہ احسان مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی فروری میں پہلی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے 11 جنوری 2020 کو ‘پاکستانی سیکیورٹی اتھارٹیز کی حراست سے’ فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ترکی میں موجود ہیں جبکہ متعدد ذرائع کا ماننا ہے کہ دہشت گرد گروہ کے سابق ترجمان افغانستان میں ہیں۔

آڈیو پیغام میں کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے مشہور لیاقت علی کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے سامنے 5 فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت ہتھیار ڈالے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ میں نے اپنی طرف سے وعدوں کی پاسداری کی لیکن پاکستانی عہدیداروں پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے اہل خانہ کو قید میں رکھا گیا۔

بعدازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے احسان اللہ احسان کے مبینہ طور پر ملک سے فرار ہونے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی اور 13 فروری کو شہدائے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور کے لواحقین نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد سے رجوع کیا تھا.

چیف جسٹس کو اپنی درخواست میں سانحے میں شہید ہونے والے 15 طلبہ کے لواحقین نے کہا تھا کہ ‘ہم لواحقین احسان اللہ احسان کے سرکاری تحویل میں تقریباً تین سال گزارنے کے بعد اہلخانہ سمیت مبینہ طور پر فرار ہونے کی خبر سن کر سخت صدمے میں ہیں۔’

درخواست میں کہا گیا تھا کہ سفاک دہشت گرد نے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں 147 طلبہ اور اساتذہ شہید ہوئے۔

احسان اللہ احسان سے تعلق رکھنے والے ایک اور مبینہ آڈیو ٹیپ حال ہی میں 10 اگست کو منظر عام پر آئی جس کے بارے میں ڈی جی آئی ایس آپی آر نے آج (13 اگست) کی میڈیا بریفنگ میں اس آڈیو ٹیپ میں لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کیا۔

احسان اللہ احسان سے تعلق رکھنے والے 11 منٹ 30 سیکنڈ پر مبنی مبینہ آڈیو ٹیپ میں انہوں نے فرار ہونے سے متعلق تمام تفصیلات بتائیں تھیں۔

یاد رہے کہ 2014 میں کالعدم تحریک طالبان میں انتشار کے بعد احسان اللہ احسان جماعت الاحرار کے ترجمان بن گئے تھے جو اس وقت ٹی ٹی پی سے علیحدہ ہونے والا چھوٹا گروپ تھا۔

اس وقت احسان اللہ احسان کا یہ دعویٰ تھا کہ 70 سے 80 فیصد ٹی ٹی پی کمانڈرز اور جنگجو جماعت الاحرار میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔

رواں برس فروری میں لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے خود کش دھماکے کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار نے قبول کی تھی جس میں 13 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

spot_imgspot_img