spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

حزب اللہ لبنان کی وفاداربنے، تہران سے روابط ختم کرے ، فرانسیسی صدر

اطلاعات کے مطابق  فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے گذشتہ ماہ بیروت کے دورہ  میں  حزب اللہ کے ایک رہنما سے ملاقات کی تھی اور انہیں ایران سے تعلقات ختم کرنے اور اپنے آپ کو لبنانی ثابت کرنے پر زور دیا تھا۔

دی نیو عرب ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات میکرون کے 6 اگست کے دورہ بیروت کے دوران ہوئی ،جب  وہ بیروت میں ہونے والے تباہ کن دھماکوں کے بعد وہاں پہنچے تھے۔

ایمانوئل نے حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک کے سربراہ  محمد رعد کے ساتھ آٹھ منٹ  سے زائد وقت گزارا، حزب اللہ کے  ساتھ فرانس کے کسی بھی لیڈر کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

فرانسیسی صدر نے  محمد رعدکو کہا  کہ وہ لبنان کے سیاسی اور معاشی بحران کا حل تلاش کرنے پر حزب اللہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے حزب اللہ کو  اپنی وفاداری ثابت کرنا ہوگی اور تہران کے ساتھ تعلقات ختم کرنا ہونگے۔

رپورٹ کے مطابق  فرانسیسی صدر نے رعد کو  ایران کے ساتھ حزب اللہ  کے قریبی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ

 میں لبنان کو تبدیل کرنے کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہوں لیکن حزب اللہ کو لبنان کا وفادار ہونا ثابت کرنا پڑے گا۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ حزب اللہ کا ایرانی ایجنڈا ہے۔ ہم آپ کی تاریخ کو بخوبی جانتے ہیں ، یہاں تک کہ ہم آپ کی خاص شناخت سے بھی واقف ہیں ، لیکن آپ لبنانی ہیں ،یا نہیں؟ آپ لبنانیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟

حزب اللہ پرہمیشہ سے تہران کے لیے پراکسی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا الزام  عائد کیا جاتا ہے ، اس نے 1982 میں اپنے قیام کے بعد سے ہی علاقائی حریف اسرائیل اور لبنانی سیاسی قوتوں کے ساتھ متعدد جنگیں لڑیں ہیں۔

لبنان میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ملٹی نیشنل فورس کے سیکورٹی اڈے  پر 1983 میں بم حملہ کرنے کا ذمہ دار بھی حزب اللہ کو سمجھا جاتا ہے ، جس میں 53 فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ مرنے والوں میں  امریکی فوجی  اور لبنانی شہریوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

حزب اللہ لبنان کی مختلف سیاسی قوتوں میں سے واحد سیاسی قوت ہے جو عسکریت پسندی پر یقین رکھتی ہے اور اس کا جواز  ملک کو اسرائیلی حملوں سے بچانا قرار دیتی ہے۔

حزب اللہ کا سیاسی ونگ بھی  بے حد طاقت ور ہے ، اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ لبنان  میں قائم ہونے والی تمام حکومتوں کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ملک کے اہم فیصلوں پر اتفاق رائےپیدا کرنے کے لیے بھی حزب اللہ کی طرف دیکھا جاتا ہے۔

فرانسیسی حکومت نے اگرچہ اس میٹنگ کی تصدیق نہیں کی تاہم حزب اللہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ میکرون کے ساتھ ہمارے ایک  عہدیدار  کی ملاقات اور بات چیت نے حزب اللہ  کو “بین الاقوامی شناخت” بخشی ہے۔

فارنسیسی صدر اور حزب اللہ رہنما کے درمیان ہونے والی اس مبینہ ملاقات کے رد عمل میں  متعدد فرانسیسی اراکین پارلیمنٹ نے یورپی یونین اور پیرس حکومت کو ایک مراسلہ   بھیجاہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے سیاسی ونگ کو ایک “دہشت گرد تنظیم” کے طور پر نامزد کریں.

spot_imgspot_img