spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

آج دنیا بھر میں حملوں سے تحفظ برائے تعلیم کا عالمی دن منایا جارہا ہے

حملوں سے تحفظ برائے تعلیم کے پہلے بین الاقوامی دن پر ، ایجوکیشن اباؤ آل فاؤنڈیشن (EAA) اور اس کے عالمی شراکت داروں نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بنیادی انسانی حق کی حفاظت کریں۔ دنیا میں پہلی دفعہ اس دن کے منائے جانے کے موقع پر فاؤنڈیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ مطالبہ کوویڈ 19 کے وبائی امراض کی وجہ سے تعلیم پر پڑنے والے اثرات  کے نتیجہ میں سامنے آیا ہے۔

اقوام متحدہ نے ریاست قطر کی تجویز پر گذشتہ سال 9 ستمبر کو حملوں سے تحفظ برائے تعلیم کے لیے عالمی دن قرار دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ EAA اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کی چیئر پرسن ہز ہائینس شیخہ موزا بنت ناصر  آج عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کررہی ہیں کہ وہ تعلیم کے تحفظ کو عالمی ایجنڈے میں سرفہرست رکھیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس عالمی وبائی بیماری کے دوران مسلح تصادم اور ناخواندگی کی بیماریاں جو  پہلے ہی بہت پھیل چکی ہیں، مزید نہ پھیل سکیں ۔

شیخہ موزا نے مزید کہا کہ  مجھے خوشی ہے کہ جنرل اسمبلی نے اس ہنگامی مسئلے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور تعلیم کو حملوں سے بچانے کے لیے ایک عالمی دن منانے کا اہتمام کیا۔

شیخہ موزا بنت ناصر کئی سالوں سے قطر میں تعلیم اور دیگر معاشرتی اصلاحات میں سرگرم عمل ہیں، انہوں نے قومی اور بین الاقوامی ترقیاتی منصوبوں کی سربراہی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قطر کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعلیم کو حملے سے بچانے کا عالمی دن  منانے کاکارنامہ بھی شیخہ موزا کے سر ہے ۔ وہ قطر فاؤنڈیشن (کیو ایف) کی چیئرپرسن اور سیال ٹیچ  کی بانی اور چیئر پرسن بھی ہیں ، جو نوجوانوں کو روزگار اور کاروباری مواقع سے مربوط کرنے کے مشن کے ساتھ عرب دنیا میں کاروبار اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیتا ہے۔

شیخہ موزا ، فوٹو https://www.mozabintnasser.qa/en/news

EAA عالمی وبائی حالت ، بڑھتے ہوئے تنازعات ، انتہا پسندی ، نقل مکانی ، ماحولیاتی تبدیلی اور غربت کی غیر یقینی صورت حال اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں تعلیم کے حق کے تحفظ کےلیے  سرگرم عمل ہے۔

یاد رہے کہ ترقی پذیر دنیا میں بسنے والے بچوں اور نوجوانوں کو فضائی حملوں سے لے کر سفر ،روزگار  سیلاب، قدرتی آفات اور اب کووڈ 19 کی آفت کی وجہ سے تعلیم پر آئے روز حملوں کا سامنا رہتا ہے۔اس دن منانے کا مقصد یہی ہے کہ تعلیم پر ہونے والے مختلف حملوں سے بچاؤ کے لیے دنیا کو آگاہ کیا جائے اور انکی فکری تربیت کا اہتمام کیا جائے۔

یہ دن دنیا بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے، مسلح تصادم اور قدرتی آفات سے متاثرہ بچوں کی حالت زار پر توجہ دیتے ہوئے انہیں تعلیم دینے کا مطالبہ کرتا ہے اور تعلیم پر بین الاقوامی ایجنڈے کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ دن اقوام متحدہ میں قطر کے وفد کی سربراہی میں شدید مشاورت کے بعد اتفاق رائے سے منظور کیا گیاتھا۔

تعلیم پر حملوں کے حوالے سے چند حقائق:

تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ دنیا بھر میں تمام بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم تک بلا روک ٹوک رسائی کا حق حاصل ہونا چاہیے خاص طور پر عدم تحفظ کی صورت حال میں ۔

GCPEA کے حالیہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم پر حملےمنظم طریقے سے کیے جاتے ہیں، جو دنیا بھر میں پریشان کن صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے پانچ سالوں کے دوران ، 36 سے زیادہ ممالک میں تعلیم پر 11000 سے زیادہ حملے ہوئے۔ ان حملوں میں فضائی بمباری اور گولہ باری کا استعمال بھی کیا گیا۔

2015-2019 کے درمیان ہونے والے حملوں میں 22000طلباء ، اساتذہ اور ماہرین تعلیم ہلاک ہوئے۔

 گذشتہ  5 سالوں میں اسکولوں کے خلاف ہونے والے73000 سے زیادہ واقعات دنیا کے 93 ممالک میں ہوئے۔

CoVID-19 نے بھی تعلیم میں عدم مساوات کو بڑھاوا دیا ہے۔

اس وبائی امراض نے سکول جانے والے طلبہ وطالبات کو  اسکولوں  سے دور کردیا، جس  کے نتیجے میں دنیا بھر میں اسکول بند ہوگئے۔

سیو دی چلڈرن کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اس سال کے آخر تک وبائی مرض کئی ملین بچوں کو ہمیشہ کے لیے اسکول سے دور کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

spot_imgspot_img