spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

بین الافغان مذاکرات میں بگاڑ پیدا نہیں ہونے دیں گے ، پاک فوج کا عزم

پاکستان نے افغانستان کے تعاون سے بین الافغان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والے ‘اسپوائلرز’ کو شکست دینے کا عزم کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘پاکستان۔افغانستان سرحد کے دونوں اطراف پرتشدد واقعات میں افسوسناک اضافے کا مقصد افغان امن عمل کو پٹڑی سے اتارنا ہے’۔

اپنے پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘پاکستان یقین رکھتا ہے کہ دونوں ممالک امن اور ترقی کے مستحق ہیں، ہم مل کر بگاڑ پیدا کرنے والوں کو شکست دیں گے’۔

اس عزم کا اظہار ایسے وقت کیا گیا کہ جب افغان حکومت کی جانب سے 6 ‘خطرناک’ طالبان قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان امن عمل اپنے انعقاد کے مزید قریب آگیا ہے۔

رہا ہونے والے قیدی بعدازاں قطر روانہ ہوگئے جہاں وہ نومبر کے اوآخر تک زیر نگرانی رہیں گے۔

دوسری جانب کابل کی مذاکراتی ٹیم کا بات چیت کے لیے جمعے کو دوحہ روانہ ہونے کا امکان ہے۔

طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے بھی رات گئے ایک ٹوئٹ کے ذریعے گروپ کے مذاکرات کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا۔

اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘اسلامی امارت افغانستان امریکا کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے مطابق بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کرتی ہے’۔

طالبان ترجمان نے ایک دوسری ٹوئٹ میں بتایا کہ مذاکرات کا آغاز 12 ستمبر سے ہوگا۔

تاہم بات چیت سے قبل افغانستان میں پر تشدد واقعات میں اضافے نے امن عمل کے تمام بین الاقوامی حامیوں کو پریشان کردیا ہے، خاص طور پر طالبان کے زیر انتظام علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا جبکہ کابل میں ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی ہے۔

بدھ کے روز افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کا قافلہ ایک سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوگئے تھے۔

طالبان نے ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے لیکن افغان حکومت کو طالبان کے انکار پر شبہ ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ان حملوں میں شورش سے وابستہ گروہوں کا ہاتھ ہے۔

کچھ کا کہنا ہے کہ پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ کی منصوبہ بندی طالبان نے مذاکرات کی میز میں زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کی ہے۔

پاکستان کا اصرار ہے کہ پرتشدد کارروائیاں ‘بگاڑ پیدا کرنے والوں’ کا کام ہے جو امن عمل کی کامیابی نہیں چاہتے اور دونوں ملکوں میں حملے کررہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امن عمل میں سہولت کاری فراہ کی اور فروری میں امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں متحرک رہا جس سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار، عیدالاضحٰی پر جنگ بنی اور قیدیوں کی رہائی پر جمود ٹوٹا۔

دوسری جانب دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بھی پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل کی مسلسل حمایت کے عزم کو دہرایا۔

spot_imgspot_img