spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

چینی کوہِ کیلاش پر ’انڈین قبضے‘ کی حقیقت کیا ہے؟


لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر انڈیا اور چین کے مابین کشیدگی جاری ہے۔ اس دوران لداخ کے مختلف مقامات سے متعلق روزانہ نئی نئی خبریں سامنے آتی ہیں اور دعوے کیے جاتے ہیں۔

پچھلے ایک ہفتے سے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انڈین فوج نے کوہِ کیلاش اور مانسروور جھیل پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس دعوے کو روزانہ کی بنیاد پر پھیلایا جارہا ہے۔ لیکن کیا یہ سچ ہے؟

ٹویٹ

اس خبر کے ساتھ ایک تصویر بھی کافی شیئر کی جارہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انڈین فوجی کوہ کیلاش پر ‘ترنگا’ یعنی انڈین پرچم لہرا رہے ہیں۔

اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کوہ کیلاش کو انڈیا میں شامل کیے جانے کے بعد کی تصاویر ہیں۔

اسی تصویر کو میجر جنرل جی ڈی بخشی (ر) کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ٹویٹ کیا گیا ہے لیکن اس میں یہ لکھا گیا ہے کہ انڈین فوج کیلاش پہاڑ کو اپنے قبضے میں لینے کی طرف گامزن ہے۔

اس ٹویٹ کو تین ہزار سے زیادہ مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔

ٹویٹ

کیلاش پہاڑ پر قبضے کی یہ خبر یہیں نہیں رُکی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نجی ٹی وی چینل کی خبروں کا سکرین شاٹ لے کر بہت سے صارفین نے ٹویٹ کیا کہ انڈین فوج نے کیلاش پہاڑی سلسلے پر قبضہ کرلیا ہے۔

سچ کیا ہے؟

آئے سب سے پہلے اس تصویر کے بارے میں بات کرتے ہیں جس میں انڈین فوجی ترنگا لہرا رہے ہیں اور پیچھے کیلاش پہاڑ نظر آ رہا ہے۔

جب ہم نے گوگل ریورس امیج کے ذریعے اس تصویر کو تلاش کیا تو ہمیں ان فوجیوں کی تصویر ملی جنھوں نے بہت سے مقامات پر انڈین پرچم لہرایا تھا لیکن پس منظر میں کہیں کیلاش پہاڑ نہیں تھا۔

اس تصویر کو اخبار ’انڈیا ٹوڈے‘ کی ویب سائٹ پر 26 جنوری سنہ 2020 کو ایک پِکچر گیلری میں استعمال کیا گیا تھا اور اس میں بتایا گیا تھا کہ کیسے جموں وکشمیر کے ایل او سی پر 71 ویں یوم جمہوریہ کے موقعے پر بچوں اور فوجی جوانوں نے یہ قومی تہوار منایا۔

تصویر

ریورس امیج سرچ کی تلاش کے دوران ان نو فوجیوں کی ایک اور تصویر ایک فیس بک پیج پر ملی جس میں پانچویں جوان نے اپنے ہاتھوں میں ترنگا لے رکھا ہے اور اس تصویر کو 17 جون کو شیئر کیا گیا تھا۔

جب ہم نے یہ انڈیکس سرچ پورٹل کے ذریعے اس تصویر کو ریورس سرچ کیا تو یہی تصویر 17 اگست 2020 کو ایک یوٹیوب ویڈیو میں استعمال ہوئی تھی۔

کیلاش پہاڑ پر فوجیوں کے مبینہ جھنڈے لہرانے والی تصویر اور ان تصاویر سے موازنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس میں پس منظر کے سوا سب کچھ ایک جیسا ہے۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ فوجیوں کی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور پس منظر میں ماؤنٹ کیلاش چسپاں کر دیا گیا ہے۔

اب دوسری بات پر غور کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک نجی ٹی وی چینل کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ انڈیا نے کیلاش پہاڑی سلسلے پر قبضہ کرلیا ہے۔

دلی یونیورسٹی میں جغرافیہ کے ایک پروفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انڈیا کی سرحد کے اندر کیلاش رینج موجود نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں: ‘کیلاش پہاڑی سلسلہ مغربی تبت کے ٹرانس ہمالیہ میں موجود ہے۔

’کیلاش رینج میں کوہ کیلاش آتا ہے جو لداخ رینج کے خاتمے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ لداخ میں صرف ہائر ہمالیہ کی لداخ رینج ہے مغربی تبت میں ختم ہوتی ہے اور وہاں سے کیلاش کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔’

فوجی

ابھی انڈین فوج کہاں پر ہے؟

لداخ میں ایل اے سی پر انڈیا اور چین کے درمیان اپریل سے تنازع جاری ہے۔

اسی سلسلے میں 15 جون کو لداخ کی وادی گلوان میں انڈیا اور چین کے فوجیوں کے مابین ایک جھڑپ ہوئی تھی جس میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

بہر حال اس تصادم میں کتنے چینی فوجی ہلاک ہوئے یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ لیکن چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے حال ہی مین اعتراف کیا ہے کہ چین کو بھی 15 جون کو نقصان پہنچا تھا۔

اس کے بعد 29 اور 30 اگست کی درمیانی شب کو دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر تناؤ کی اطلاعات موصول ہوئیں لیکن دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے منگل کے روز لوک سبھا (پارلیمان کے ایوان زیریں) میں کہا تھا کہ چین نے ایل اے سی یعنی لائن آف ایکچول کنٹرول پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کی ہے اور اس نے زیادہ مقدار میں گولہ بارود بھی اکٹھا کیا ہے۔

اسی سلسلے میں جمعرات کو بھی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے راجیہ سبھا (ایوان بالا) میں سرحدی کشیدگی کے بارے میں ایک بیان دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ لداخ میں انڈیا کو ایک چیلنج درپیش ہے اور وہ اس چیلنج کا سامنا کرے گا۔

لوک سبھا اور راجیہ سبھا یعنی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سرحدی علاقے میں کسی تبدیلی کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا نے کسی بھی جگہ پر قبضہ نہیں کیا ہے۔

بی بی سی ہندی کی فیکٹ چیک تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کوہ کیلاش کی بتائی جانے والی تصاویر مکمل طور پر جعلی اور فرضی ہیں اور انڈین فوجیوں نے ماؤنٹ کیلاش پر کوئی قبضہ نہیں کیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

spot_imgspot_img