spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

کانٹینٹل بسکٹس لمیٹڈ اور LU کے ٹریڈ مارکس کا مسئلہ

کانٹینینٹل بسکٹس لمیٹیڈ اور LU بسکٹ نے چند روز پہلےاردو اور انگریزی میں کچھ بیانات جاری کیے تھے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ان کے بزنس کا قطعی طور پر کوئی تعلق فرانس سے نہیں ہے۔ انٹلیکچول پراپرٹی قوانین کے طالبعلم کے طور پر اس بیان کو پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں LU کے ٹریڈ مارکس کے بارے میں سوالات جنم لینا شروع ہو گئے۔ میں نے تسلسل سے کانٹینٹل بسکٹس لمیٹڈ کو پیغامات ارسال کئے کہ وہ پاکستان میں LU کے رجسٹرڈ ٹریڈ مارکس کے بارے میں واضح کریں کہ ان ٹریڈ مارکس کو کس کے نام پر رجسٹر کروایا گیا ہے؟ یاد رہے کہ ٹریڈ مارک رجسٹریشن ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی اور تجدید کے وقت یا اس سے قبل بھی ملکیت کے انتقال کے نتیجے میں ٹریڈ مارک کی ملکیت کے بارے میں قانونی دستاویزات میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ہماری معلومات کے مطابق ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ ہمارے کچھ دوست 2007 میں LU بنانے والی فرانسیسی کمپنی کی امریکی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کا ذکر کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ معلومات دستیاب ہیں مگر اس کے باوجود LU کے ٹریڈ مارکس کی ملکیت کا سوال اپنی جگہ قائم ہے۔ کاروباری ڈیل کارپوریٹ سیکٹر میں معمول کی بات ہے۔ فرانسیسی کمپنی کا بزنس کسی امریکی کمپنی کو منتقل ہونا ایک بات ہے اور کاروبار سے وابستہ انٹلیکچول پراپرٹی بشمول ٹریڈ مارکس کی ملکیت کا منتقل ہونا یا نہ ہونا ایک دوسری بات ہے۔ کسی بھی کمپنی کی فروخت کے باوجود یہ ممکن ہے کہ ٹریڈ مارکس کی ملکیت پہلی کمپنی نے کلی یا جزوی طور پر اپنے پاس ہی رکھی ہو اور اس کے لئے رائیلٹی کی ادائیگی کی شرائط معاہدے میں شامل ہوں۔ اگر پاکستانی کمپنی براہ راست فرانسیسی کمپنی سے کاروبار نہیں بھی کرتی تو کیا اس کی پیرنٹ امریکی کمپنی بھی دنیا بھر میں بشمول پاکستان ٹریڈ مارکس کے استعمال کی مد میں فرانسیسی مالکان کو کوئی رائیلٹی ادا کرتی ہے یا نہیں؟

اب جب کہ کانٹینیٹل بسکٹس لمیٹڈ نے یہ معاملہ خود پبلک میں اٹھا دیا ہے تو کمپنی کو شفافیت کے ساتھ مکمل معلومات شئیر کردینی چاہئیں۔ بادی النظر میں ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود بعض معلومات کو تبدیل کر دیا گیا ہے مگر گوگل سرچ میں یہ معلومات اب بھی نکل آتی ہیں۔ اس بارے میں تو کمپنی ہی بہتر وضاحت کر سکتی ہے کہ یہ معلومات روٹین کی ایڈیٹنگ اور اپ ڈیٹس کی بنیاد پر غائب ہوگئی ہیں یا پھر ان کا تعلق حالیہ دنوں میں جاری کمپین سے ہے۔ اپنے وضاحتی بیان میں کانٹینٹل بسکٹس لمیٹڈ نے کمپنی کو پاکستانی کمپنی قرار دیا ہے جو تکنیکی بنیاد پر درست بات ہے کہ پاکستان میں بزنس کے لئے قائم کمپنی یہاں رجسٹرڈ ہے سو یہ ایک پاکستانی کمپنی بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کانٹینیٹل بسکٹس لمیٹڈ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ممبر بھی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ محض ایک پاکستانی کمپنی نہیں ہے۔ کسی کمپنی کا اوورسیز انویسٹر ہونا کسی طور پر قابل اعتراض نکتہ نہیں ہے مگر یہ بات کمپنی کو خود بیان کرنی چاہیئے۔ یہ اس وقت زیادہ ضروری ہوجاتا ہے جب کمپنی خود کو ایک مکمل پاکستانی کمپنی کے طور پر پیش کرتی ہے جو پورا سچ نہیں ہے۔

ہم ایک بار پھر واضح طور پر اپنا سوال دہرا دیتے ہیں کہ پاکستان میں LU سے وابستہ جتنے بھی ٹریڈ مارکس ہیں وہ کس کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ ایک معتبر دوست کی وساطت سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق پاکستان میں یہ ٹریڈ مارکس آج بھی جنرل بسکٹس فرانس کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ اب اس سوال کا جواب آنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ کمپنی اسلامی نظریاتی کونسل تک پہنچ گئی ہے اور اپنے کارپوریٹ امیج کی “واشنگ” میں پوری طرح ایکٹو ہے۔

ڈاکٹر عزیز الرحمن
ڈاکٹر عزیز الرحمن
لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں قانون کے استاذ اور شعبہ قانون کے سربراہ ہیں۔ قانون ، معیشت ، صحت اور قومی و ملی مسائل پر تواتر سے لکھتے ہیں۔
spot_imgspot_img