spot_img

ذات صلة

جمع

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

خلیفہ بن زید النہیان اور پاکستان

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید...

ہم کہاں بھٹک گئے!

میں نے جیسے ہی ان تصاویر کو دیکھا مجھے...

ایچ ای سی کا ایک غیرمعقول اقدام

یہ بات واضح ہے اور ہم میں سے ہر ایک بخوبی جانتا ہے کہ ہم ترقی میں بہت پیچھے ہیں اور دنیا کے بہت سی اقوام اور ممالک مادی ترقی کے اوج کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ آج دنیا پر انہی اقوام کا سکہ حکمرانی رائج ہے جو مادی ترقی میں سب سے آگے ہیں۔ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ ہماری پستی، پسماندگی، ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے اور زوال کا شکار چلے آنے کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم تعلیم میں پیچھے ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں اور ملکوں کی ترقی کی وجہ بھی کچھ اور نہیں، یہی تعلیم ہے۔ ہم نے تعلیم پر توجہ نہیں دی اور پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے تعلیم پر توجہ دی، محنت کی، آج وہ دنیا کے فیصلے کر رہے ہیں۔ کبھی یہی حال ہمارا بھی تھا۔ ہم نے جب تک عِلم کا عَلم مضبوطی سے تھاما، عصری حقائق کا ادراک کیا، زمانے کی ضرورتوں اور تقاضوں پر توجہ دی تو ہم بھی دنیا کے امام تھے۔ دنیا کی زمام کار ہمارے ہاتھ میں تھی، مگر جونہی ہم جفا کشی چھوڑ کر عیش کوشی میں پڑ گئے تو زمانے کی قیادت کایچ ا عَلم ہمارے ہاتھ سے وہ لوگ لے اڑے جنہوں نے ہم سے ہی علم کا سراغ پایا تھا۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم آج بھی تعلیم کی اہمیت کو کما حقہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ستر سال سے زیادہ گزرنے کے باوجود ہم ایک مشترکہ و متفقہ تعلیمی معیار اور ترجیح قائم نہیں کر سکے۔ ہم آج بھی تجربات سے گزر رہے ہیں۔ ہم آج تک اس نکتے تک نہیں پہنچ سکے کہ اپنی قوم کو کس طرز کی تعلیم، کن بنیادوں اور کس رخ پر دی جائے۔ ہمیں آج یہ تو یاد آگیا ہے کہ ایک قوم کی تشکیل کے لیے ایک قومی نصاب ضروری ہے، مگر اس قوم کو تعلیم کیا دی جائے، کس زبان میں دی جائے اس پر آج بھی ہم گو مگو اور اختلاف و افتراق کا شکار ہیں۔ ہم ترقی یافتہ اقوام کو رشک اور للچائی نظروں سے تو دیکھتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ انہوں نے اپنی قوم کو تعلیم کسی بدیسی اور اجنبی زبان میں نہیں دی۔ ہم تعلیم کے نام پر اپنا وقت بر باد کر رہے ہیں اور مسلسل رٹو طوطے پیدا کر رہے ہیں اور تحقیق کے نام پر نقالوں کا ڈھیر لگا رہے ہیں۔ یہ ہیں ہماری بے لگام اور بے سمت ترجیحات۔

یہی وجہ ہے کہ ہم مسلسل ہر کچھ عرصے بعد ایک کے بعد ایک نئے تجربے سے گزر رہے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) قوم کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کا ذمے دار ادارہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد قوم کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دینے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، مگر جب سے یہ ادارہ بنا ہے، ملک کے دیگر سرکاری محکموں کی طرح یہ بھی اپنا فرض چھوڑ کر الٹا چل رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے سہولت کاری کی بجائے اس کے اقدامات الٹا تعلیم کے لیے نقصان دہ چلے آ رہے ہیں۔ آج کل اس نے ایک بار پھر ایک تعلیم دشمن فیصلہ کر کے تمام تعلیمی اداروں پر اسے فوری نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایچ ای سی کے حکام نے دوسرے ملکوں کی نقالی میں دو سالہ بیچلر پروگرام (بی اے۔ بی ایس سی۔ بی کام وغیرہ)کو ختم کرکے ایسوسی ایٹ پروگرام شروع کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے اور اگلے سال سے ماسٹرز کا نظام بھی ختم کرنے کا آمرانہ فیصلہ کر لیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ نظام بدلنے کا اتنا بڑا فیصلہ قوم اور متعلقہ فیصلہ ساز اداروں کو اعتماد میں لیے بغیر ہی کیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دوسروں کی نقالی میں انتہائی عجلت میں اٹھایا گیا غیر دانشمندانہ اور تعلیم دشمن اقدام ہے، اس سے ہمارے تعلیمی اداروں کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا اور بچوں کا تعلیمی مستقبل بے یقینی سے دو چار ہوجائے گا۔

جو بھی فیصلہ کرنا ہو قوم کو اعتماد میں لے کر بتدریج اس پر عمل کرنا ہی مثبت اور سود مند طرز عمل ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ایچ ای سی اپنا فیصلہ فوری واپس لے، ورنہ قوم میں ایک نیا انتشار برپا ہو جائے گا۔

ڈاکٹر قاسم محمود
ڈاکٹر قاسم محمود
لکھاری کراچی کی معروف سماجی شخصیت اور صدر مجلس علمائے کراچی ہیں۔ سماجی و مذہبی ہم آہنگی جیسے موضوعات پر دلچسپی سے لکھتے ہیں۔
spot_imgspot_img