spot_img

ذات صلة

جمع

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

خلیفہ بن زید النہیان اور پاکستان

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید...

ہم کہاں بھٹک گئے!

میں نے جیسے ہی ان تصاویر کو دیکھا مجھے...

ایم بی ایس: تین ایسے کام جو وہ کبھی نہیں کرسکتے

  • فرینک گارڈنر
  • بی بی سی ، سکیورٹی نامہ نگار

یہ سعودی عرب کی قیادت کے لیے خاصے کٹھن اور بے چینی سے بھرپور دن ہیں، خاص طور پر مملکت کے طاقتور رہنما ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے۔

سعودی عرب میں شہزادہ محمد بن سلمان آج بھی مقبول ہیں لیکن بین الاقوامی طور پر وہ خود پر سے سنہ 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق شبہات دور نہیں کر سکے۔

اس وقت ایک نئی امریکی انتظامیہ وائٹ ہاؤس میں آنے کی تیاری کر رہی ہے اور نومنتخب صدر جو بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ وہ کچھ سعودی معاملات پر اپنے پیش رو سے زیادہ سخت مؤقف رکھیں گے۔

وہ کون سے ایسے مسائل ہیں جو غور طلب ہیں اور واشنگٹن اور ریاض میں انھیں کیوں اہمیت دی جا رہی ہے؟

یمن کی جنگ

یہ جنگ ان تمام ممالک کے لیے ایک سانحے سے کم نہیں ہیں جو اس جنگ کا حصہ ہیں تاہم اس کا سب سے زیادہ نقصان یمن کی غریب اور خوراک کی کمی کا شکار آبادی کو اٹھانا پڑا ہے۔

یمن

سعودی عرب نے اس تنازع کی شروعات نہیں کی تھیں، اس کا آغاز حوثی باغیوں نے اس وقت کیا تھا جب وہ سنہ 2014 کے اواخر میں یمن کے دارالحکومت صنعا تک مارچ کرتے ہوئے پہنچ گئے تھے اور انھوں نے ایک قانونی یمنی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

حوثی باغی دراصل ملک کے شمال میں موجود پہاڑی علاقے میں رہنے والے قبیلوں میں سے ہیں اور یہ ملک کی 15 فیصد سے بھی کم آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مارچ 2015 میں موجودہ ولی عہد اور اس وقت کے وزیرِ دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے خفیہ انداز میں عرب ممالک کا ایک اتحاد قائم کیا اور بھرپور فضائی قوت کے ساتھ جنگ کا حصہ بن گئے۔ انھیں امید تھی کہ وہ چند ہی ماہ میں حوثی باغیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے۔

آج تقریباً چھ برس اور ہزاروں افراد کی ہلاکتوں، نقل مکانی اور دونوں اطراف سے کیے جانے والے جنگی جرائم کے بعد بھی سعودی عرب کی سربراہی میں موجود یہ اتحاد صنعا اور گنجان آباد مغربی یمن سے حوثی باغیوں کو نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ایران کی مدد سے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بھی بنایا ہے۔ یہ تنازع یقیناً ایک مہنگا تعطل ہے اور اس حوالے سے وضع کیے جانے والے اکثر امن کے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔

جدہ

یمن جنگ کے باعث جہاں ہلاکتیں ہو رہی ہیں وہیں سعودی عرب کے خزانے سے اس جنگ پر ایک خطیر رقم بھی خرچ ہو رہی ہے اور بین الاقوامی میڈیا میں اس حوالے سے شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

سعودی عرب کی قیادت اس جنگ سے پروقار انداز میں نکلنا چاہتی ہے تاہم ان کا مؤقف ہے کہ وہ اس جنگ کا حصہ اس لیے بنے تھے تاکہ ’اپنی جنوبی سرحد پر ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روک سکیں‘ اس لیے وہ ایرانی حمایت یافتہ مسلح ملیشیا کو اقتدار میں نہیں دیکھ سکتے۔

تاہم اس حوالے سے اب سعودی عرب کے پاس وقت خاصا کم رہ گیا ہے۔

سنہ 2016 تک اپنی صدارت کے اواخر میں سابق امریکی صدر براک اوباما سعودی عرب کو امریکی حمایت دینے سے پیچھے ہٹ رہے تھے۔ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے تو انھوں نے آتے ہی اس پالیسی کو ختم کیا اور ریاض کو وہ تمام خفیہ معلومات اور اشیا مہیا کیں جس کی انھیں ضرورت تھی۔ تاہم اب بائیڈن انتظامیہ نے یہ عندیہ دیا ہے کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔

اس جنگ کو جیسے تیسے ختم کرنے کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سعودی عرب میں قید خواتین

یہ سعودی قیادت کے لیے بین الاقوامی تعلقات عامہ کی حیثیت میں ایک سانحے سے کم نہیں۔

اب تک 13 پُرامن سعودی خواتین سماجی کارکنان کو جیلوں میں بند کیا جا چکا ہے اور کچھ کیسز میں تو ان پر تشدد بھی کیا گیا ہے حالانکہ ان کا ظاہری جرم صرف یہی تھا کہ وہ خواتین کے لیے ڈرائیونگ کا حق یا مردوں کی سرپرستی کے غیرمنصفانہ نظام کا خاتمہ چاہتی تھیں۔

لوجین
،تصویر کا کیپشنسعودی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ لوجین الھذلول جاسوسی کرنے کی مرتکب ہو چکی ہیں

ان میں سے متعدد ایسی بھی ہیں جنھیں سنہ 2018 میں خواتین پر سے ڈرائیونگ کرنے کی پابندی ہٹانے سے کچھ عرصہ قبل گرفتار کیا گیا تھا، جیسے مقبول سماجی کارکن لجین الھذلول۔

سعودی حکام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لوجین الھذلول جاسوسی کرنے کی مرتکب ہو چکی ہیں اور اس ضمن میں ’غیر ملکی قوتوں سے رقم بھی لے چکی ہیں‘ لیکن اس حوالے سے ان کی جانب سے کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے۔

ان کے دوست بتاتے ہیں کہ انھوں نے ایک غیر ملکی انسانی حقوق کی کانفرنس میں شرکت کرنے اور اقوامِ متحدہ میں نوکری حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

ان کے خاندان کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق ان پر تشدد کیا گیا ہے، انھیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے ہیں، حراست کے دوران ریپ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے اور جب ان سے آخری ملاقات ہوئی تو وہ بری طرح سے کانپ رہی تھیں۔

یمن جنگ کی طرح یہ وہ گڑھا ہے جو سعودی قیادت نے اپنے لیے خود کھودا ہے اور اب وہ جیسے تیسے اس سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اتنے لمبے عرصے تک ان خواتین کو حراست میں رکھنا، کوئی ایسا ثبوت منظر عام پر لائے بغیر جس کی ملک کی آزاد عدالتوں میں کوئی اہمیت ہو، سعودی قیادت کے پاس اب اس سے نکلنے کا سب سے واضح حل ایک عام معافی ہے۔

عین ممکن ہے کہ بائیڈن انتظامیہ بھی اس مسئلے کو اجاگر کرے گی۔

امریکہ، سعودی عرب

قطر کا بائیکاٹ

ظاہری طور پر تو یہ مسئلہ پردے کے پیچھے کویت کی جانب سے کی جانے والی جامع ثالثی کے بعد حل ہونے کو ہے تاہم اس مسئلے کی جڑیں خاص گہری ہیں۔

سنہ 2017 میں صدر ٹرمپ کے ریاض کے دورے کے کچھ ہی روز بعد سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے ساتھ مل کر اپنے خلیجی ہمسائے قطر کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔

ان کی جانب سے اس حوالے سے جو وجہ بتائی گئی وہ یہ تھی کہ قطر اسلام پسند گروہوں کی حمایت کر رہا ہے جو دہشتگردی کے مترادف ہے اور ناقابل قبول ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے دستاویزات کا ایک مفصل مجموعہ بھی شائع کیا گیا جس میں ان مبینہ دہشتگروں کا ذکر تھا جو قطر میں مقیم ہیں تاہم قطر کی جانب سے دہشتگردی کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کیا گیا۔ انھوں نے ان چار ممالک کے مطالبوں پر عمل کرنے سے بھی انکار کیا جن میں ملک کے ٹی وی براڈکاسٹر الجزیرہ کو محدود کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

یمن کے حوثی باغیوں کی طرح قطری حکومت سے بھی یہی توقع کی گئی تھی کہ وہ بالآخر گھٹنے ٹیک دیں گے جو غلط ثابت ہوئی۔ اس کی ایک وجہ ان کے پاس موجود دولت کی فراوانی ہے۔ قطر کے پاس سمندر میں گیس کے ذخائر ہیں اور اس نے صرف برطانیہ کی معیشت میں 40 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ ترکی اور ایران کی مدد بھی کرتاہے۔

اس کے باعث حالیہ دنوں میں مشرقِ وسظیٰ میں ایک واضح دراڑ دکھائی دینے لگی ہے۔

ایک طرف تو قدامت پسند سنی اکثریتی خلیجی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر ہیں جبکہ دوسری جانب قطر ترکی اور متعدد سیایسی اسلام پسند تحریکیں جن کی یہ دونوں حمایت کرتے ہیں جیسے اخوان المسلمین اور حماس۔

ان غیر ملکی تحریکوں کو یہ چار ممالک تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انھیں اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

دوحہ

اس میں کوئی شک نہیں کہ ساڑھے تین سال طویل قطری بائیکاٹ دونوں اطراف کے ممالک کے لیے معاشی اور سیاسی اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔

اس کے باعث عرب خلیجی ممالک کے اتحاد کو بھی کمزور کیا ہے جب عرب خلیجی ممالک کی قیادت میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے حوالے سے بڑھتی تشویش پائی جاتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے سفارتی نمائندے جیرڈ کشنر مشرقِ وسطیٰ میں اس بائیکاٹ کے خاتمے کے لیے کوشاں رہے ہیں اور بائیڈن انتظامیہ بھی اس کا حل چاہے گی۔ قطر العبید میں پینٹاگان کی سب سے بڑے غیر ملکی فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے۔

تاہم مذاکرات کے دوران جن باتوں پر بھی اتفاق ہوا ان پر حقیقت میں عمل کرنے کی بھی ضرورت ہو گی۔ قطر کو اپنے ہمسائیوں کو معاف کرنے اور انھیں قطر پر اعتبار کرنے میں شاید برسوں لگ جائیں۔

spot_imgspot_img