spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

لاہور میں طالبہ کی موت ، لمحہ فکریہ

لاہور میں اسقاط حمل کے دوران وفات پانے والی یونیورسٹی کی طالبہ کی میت کو اس کا دوست پھینکنے جارہا تھا ، اس دوران سی سی ٹی وی کیمروں میں اس کی فوٹیج آگئیں جو کہ سوشل میڈیا پر وائر ل ہیں اور ملک بھر میں یہ واقعہ موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ ان تصویروں کو دیکھ کر دل چھلنی اور زخم زخم ہے مسلسل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ ایک انسانی جان کی اس قدر بے قدری اور بے وقعتی ۔ والدین پر کیا بیتی جنہوں نے پڑھنے کے لئے بچی کو گھر سے بھیجنے کی قربانی دی اور پھر لاکھوں روپے کی فیسوں کا ارینج کرتے رہے ۔ اس بچی پر کیا بیتی جو دھوکہ دہی پر مبنی محبت کی بھینٹ چڑھ گئی اور پھر اپنی جان گنوا بیٹھی۔

یہی سوچ کر دماغ ماؤف ہورہا ہے کاش کے ہمارا معاشرہ ہم لوگ اس بچی کو اپنی جان کی قیمت پر بچا پاتے اس کی زندگی کا تحفظ کرپاتے ۔ ضرورت ہے کہ اس واقعہ کے اسباب کا تجزیہ کرکے ان کے حل کے لئے غورو فکر کیا جائے ، اور اگر ایسا کوئی وقوعہ ہوجاتاہے کہ کوئی لڑکی ، لڑکا ایسا کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں تو مزید نقصان سے بچنے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ بھی غور وفکر کے متقاضی ہیں۔

کچھ دوستوں کی باتیں نظر سے گزریں وہ ایسے واقعات کا حل زنا کی اجازت میں تجویز کرتے ہیں کہ اگر کوئی لڑکا لڑکی ایسا کام کرتے ہیں تو اس کی اجازت ہونی چاہیے اور انہیں معاشرے یا قانون کا کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے تاکہ اگر صورتحال کہیں خراب ہو تو وہ بلا خوف و خطر اس کا علاج کرواسکیں یا اپنی مرضی سے جو کرنا چاہیں کرسکیں ۔ معاشرے یا قانون کے خوف سے ہی ایسا واقعہ ہوا ہے اور ا س میں مجرم مذہب ہے جس نے ایسا معاشرہ یا قانون بنادیا ہے۔

جہاں تک بات ہے کہ اگر کہیں زنا کے ذریعے یا کسی بھی طرح کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسلام اس بچے کو تحفظ اور معاشرتی حقوق بالکل ایک عام بچے کی طرح دیتا ہے اس میں کوئی فرق نہیں کرتا ہے ۔ اسی طرح مرد و زن کے خفیہ تعلقات کی کوئی صورت پیش آجاتی ہے اور کوئی عورت اسقاط کروانا چاہتی جو اگر چہ ایک بچے کی موت کا سبب بن رہی ہے اور اخلاقی اور قانونی طور پر کسی کی موت کا سبب بننے کو کسی طرح بھی جسٹیفائی نہیں کیا جاسکتا لیکن غیر معمولی حالات کی وجہ سے حکومت کو اس کا کوئی مستند حل نکالنا چاہیے تاکہ کوئی بچی کسی عطائی کی بھینٹ چڑھ کر زندگی کی بازی نہ ہار جائے۔

لیکن اس کا کیا مطلب ہے کہ مسلم معاشرے میں زنا کو حلال قرار دیدیا جائے بے حیائی کو سرٹیفائیڈ کردیا جائے کہ اگر زنا رضامندی کے ساتھ ہو تو یہ کوئی جرم نہیں ؟ اور زنا کرکے گناہ چھپائی کا قانونی انتظام ہو اور بچوں کو قانونی طور پر موت کے گھاٹ اتارا جائے ؟ایک مسلمان جو خدا رسول کے احکام کا پابند ہے اس کے نزدیک حلال و حرام کے پیمانوں میں کبھی تبدیلی نہیں آسکتی۔ جو چیزیں حرام ہیں ان کی حرمت ہمیشہ کے لئے ہے کسی مخصوص سماج کی پیروی میں ہم اپنے بنیادی اصولوں کو کیوں بدلیں جبکہ ہمارےاصول عورت اور بچے دونوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

نکاح کا مطلب ہی یہ ہے کہ اگر مرد و عورت سیکس پر راضی ہیں اور وہ دونوں دھوکہ دہی کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں تو ایک کنٹریکٹ سائن کریں، دو گواہ بنائیں اور معاشرے کے سامنے شادی کریں تاکہ سب کو پتہ ہو کہ یہ میاں بیوی ہیں۔ مرد و عورت اولاد کے ذمہ دار ہوں ایسی کوئی صورت سامنے نہ آئے کہ ان کو اپنے بچے پھینکنے پڑیں ۔ لیکن جب چور راستے ڈھونڈنے ہوں ، نیت میں کھوٹ ہو ، وقتی لذت مقصود ہو ، ذمہ داریوں سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہوں تو پھر زنا باالرضا کے حق میں دلائل گھڑے جائیں گے ۔ زنا باالرضا کی اجازت دیدی جائے تو زنا کم ہوگا یا زیادہ ؟ عورتیں کم حاملہ ہوں گی یا زیادہ ؟ اسقاط حمل میں بچوں کی جان تو گئی سو گئی لیکن کیا زیادہ عورتوں کی جان خطرے میں پڑے گی یا اس سے کمی پیدا ہوگی ؟ عورتوں کی اموات کی تعداد بڑھے گی یا کم ہوگی ؟ کسی بھی ایسے واقعہ کی آڑ میں اسلام اور مذہب کو نشانہ بنانا ہمارے لوگوں کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ لیکن جس سبب سے یہ واقعہ ہوا ہے بجائے اس کی روک تھام کی کوشش کی جائے اس کو عام کردیا جائے یہ بھی عجیب نرالی منطق ہے۔

مغرب جس کی پیروی میں آپ مرے جارہے ہیں وہاں بھی زنا باالرضا کے کچھ اصول ہیں کہ نہیں ؟ وہاں فرینڈ شپ اوپن ہوتی لڑکا لڑکی جو سیکس کرتے ہر جگہ نہیں منہ مارتے پھرتے بلکہ ایک لڑکی ایک وقت میں ایک لڑکے کو ہی بوائے فرینڈ یا پارٹنر بناتی جس کے ساتھ سیکس کرتی ہے ایسے میں اسلام کنٹریکٹ کے اندر رہ کر اس کام کا حکم دے تو وہ آپ کو کیوں ہضم نہیں ہوتا۔

کسی غلط کام کو روکنے کی بجائے اس کی آگے غلط صورتیں نکالتے جانا کہاں کی دانش ہے ؟ قرآن ہمیں پاکدامنی کا حکم دیتا ہے صرف شہوت رانی کی غرض سے تعلقات قائم کرنے سے منع کرتا ہے ۔ خفیہ دوستیوں سے منع کرتا ہے ۔ اگر لڑکا یا لڑکی ایک دوسرے کو چاہتے ہیں تو ان کی چاہت کا خیال کرتے ہوئے نکاح کا حکم دیتا ہے ہمیں نکاح کو ، عزت کے راستے کو ، عفت کے راستے کو اپنانا ہوگا ۔ ضرورت ہے کہ سوسائٹی میں نکاح کو عام کرنے کی کوشش کی جائے ۔ نکاح میں تاخیر سے گناہ کی جو صورتیں پیدا ہورہیں ان کے سدباب کےلئے جلد نکاح کو یقینی بنایا جائے ۔ معاشرے کے اہل دانش اور ارباب حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ ایسا کوئی دلخراش واقعہ نہ ہو۔

مولانا عبدالغنی محمدی
مولانا عبدالغنی محمدی
محقق و عالم دین
spot_imgspot_img