spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

چین میں بی بی سی ورلڈ نیوز پر پابندی عائد

چینی حکام نے برطانیہ کے عالمی نشریاتی ادارے پر چین میں میڈیا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ پیش رفت برطانوی حکام کی جانب سے چین کے سرکاری ٹی وی نیٹ ورک کا لائسنس منسوخ کیے جانے کے بعد ہوئی ہے۔

چین میں نشریاتی نگراں ادارے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن ایڈمنسٹریشن نے جمعرات کو بی بی سی ورلڈ نیوز پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کر دی کہ اس عالمی نشریاتی ادارے نے ملک کے نشریاتی ضابطوں کی ”سنگین خلاف ورزی” کی ہے۔

نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن ایڈمنسٹریشن کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی ورلڈ نیوز کی چین کے بارے میں رپورٹس میں نشریاتی گائیڈ لائنز کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے جن میں ‘خبروں کا سچا اور منصفانہ ہونا‘ اور ‘چین کے قومی مفاد کی خلاف ورزی نہ کرنا‘ شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ وجوہات کی بنا پر بی بی سی ورلڈ نیوز چین میں غیر ملکی نشریاتی اداروں کے لیے بنائی گئی شرائط پر پورا نہیں اترتا اور اگلے سال نشریات جاری رکھنے کے لیے دی گئی درخواست منظور نہیں کی جائے گی۔

انگلش زبان میں نشرہونے والا بی بی سی ورلڈ نیوز چین میں بیشتر ٹی وی چینل پیکیجز میں شامل نہیں ہے تاہم یہ بعض ہوٹلوں اور رہائشی مقامات پر دستیاب ہے۔  چین میں موجود روئٹرز کے دو نامہ نگاروں نے کہا کہ ان کی اسکرینز سے چینل غائب ہوگیا ہے۔

بی بی سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”ہم مایوس ہیں کہ چینی حکام نے یہ راستہ اختیار کیا ہے۔ بی بی سی دنیا کا سب سے با اعتبار بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ہے اوربغیر کسی خوف یا لالچ کے دنیا بھر سے منصفانہ، غیر جانبدار کہانیاں رپورٹ کرتا ہے۔”

چین نے یہ قدم برطانوی حکام کی جانب سے چین کے سرکاری ٹی وی نیٹ ورک (سی جی ٹی این) کا لائسنس منسوخ کیے جانے کے بعد اٹھا یا ہے۔

برطانوی میڈیا ریگیولیٹر آفکوم نے چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (سی جی ٹی این) کا برطانیہ میں نشریات کا لائسنس اس ماہ کے اوائل میں منسوخ کر دیا تھا۔ آفکوم کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ لائسنس غیر قانونی طور پر اسٹار چائنا میڈیا لمیٹڈ کے پاس تھا۔

آفکوم کے مطابق چونکہ اسٹار چائنا چینل کی ادارتی ذمہ دار ی اپنے اوپر نہیں لے رہا تھا اس لیے ”وہ لائسنس اپنے پاس رکھنے کے لیے قانونی شرائط پر پورا نہیں اترتا ہے۔”  آفکوم کا مزید کہنا تھا کہ اسٹارچائنا نیوز چینل فراہم کرنے کے بجائے صرف ایک ڈسٹری بیوٹر کے طورپر کام کر رہا تھا۔

برطانوی حکام نے لائسنس کو ایک نئی کمپنی کو منتقل کرنے کی سی جی ٹی این کی تجویز بھی مسترد کر دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے باوجود اس کا کنٹرول چینی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھوں میں ہی رہے گا اور یہ برطانوی قانون کے خلاف ہے۔

برطانوی وزیرخارجہ ڈومنک راب نے بی بی سی ورلڈ نیوز پر پابندی عائد کرنے کے چین کے اقدام کو ‘میڈیا کی آزادی پر ایک نا قابلِ قبول قدغن‘ قرار دیا ہے۔

spot_imgspot_img