spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

امام ابن حزم کے معاشی افکار

امام ابن حزم  فقہ ظاہر ی کے بڑے ائمہ میں سے ہیں، ان کا نام علی بن احمد بن سعید بن حزم، کنیت ابو محمّد ہے اور ابن حزم کے نام سے شہرت پائی۔ آپ اندلس کے شہر قرطبہ میں پیدا ہوئے اور عمر کی 72 بہاریں دیکھ کر 452 ھ میں فوت ہوئے۔ابن حزم کی فقہ کی کتاب “المحلی” کے مطالعہ کے دوران زکوٰۃ کے باب میں ان کے  معاشی افکار جاننے کا موقع ملا جو اس لحاظ سے کافی دلچسپ ہیں کہ یہ افکار نظریہ اشتراکیت سے بہت مماثلت رکھتے ہیں اور ابن حزم ایسے دور سے تعلق رکھتے ہیں جس میں اشتراکیت یا سرمایہ دارانہ نظام نہیں تھا۔  وہ ان کو خالص اپنی تراث اور قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں ۔

آج کے سرمایہ دارانہ نظام میں جہاں ایک مخصوص طبقہ دولت کی فراوانی میں ہے اور باقی ساری دنیا بھوکوں  مررہی ہے، ایسے نظریات کا مطالعہ بہت معنی رکھتا ہے تاکہ ہم اپنی روایت کی روشنی میں آگے بڑھنے کے لیے کوئی راستہ دیکھ سکیں ۔ آج بھی دنیا بھر کی دولت کا ایک بڑا حصہ چالیس پچاس آدمیوں کے پاس ہے ایسے میں اسلام کے نظام زکوٰۃ پر اکتفاء کرکے اس طبقے پر اور مالی حقوق لاگو نہ کیے جائیں تو   یہ طبقہ غریبوں کو ہڑپ کرجائے گا یا معاشرہ میں ایسی خرابیاں جنم لیں گی جس سے جینا دو بھر ہوجائے گا۔ ابن حزم اپنی فکر کے حق میں نصوص ، آثار صحابہ اور اس دور کے طرز عمل سے استدلال کرتے ہیں اور ان کا استدلال بہت مضبوط دکھائی دیتا   ہے ۔ ابن حزم  نصوص کی روشنی میں کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی اللہ پاک اور رسول اللہ ﷺ نے ضرورت مندوں کے حقوق لازم کیے ہیں، اس لئے ان کا خیال رکھنا چاہیے ، اور صحابہ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں تنگدستی کے زمانے میں انہوں نے سب کا توشہ جمع کرکے سب کو مساوی دیا ۔ اسی طرح اگر کسی تنگدست کی مالی مدد نہیں کی جاتی اور وہ مجبوری کی حالت کو پہنچ جاتا ہے تو زبردستی امیر طبقے سے لے گا کیونکہ وہ اپنا حق لے  رہا ہے جو ان  کے ذمہ تھا اور وہ اس کو اداء نہیں کررہے اس کے لیے اس کو اگر لڑنا بھی پڑتا ہے تو ان کے ساتھ لڑے ۔  ابن حزم کی عبارت ملاحظہ ہو  یہ ان کے معاشی افکار کی ایک مخصوص جہت پر ہی کلام ہے باقی ان کے معاشی افکار مجموعی طور پر ایک مقالہ کے متقاضی ہیں ۔

امام ابن حزم کہتے ہیں ہر علاقے کے مالداروں پر فرض ہے کہ فقرا کا خیال رکھیں اور ان کو سلطان اس پر مجبور کرے گا ۔اگر زکوٰۃ  یا مسلمانوں کے اموال غریب طبقہ کو کافی نہ  ہوں یا معاشرے میں رہنے والے لوگوں پر زکوٰۃ عائد ہی نہ ہو تی اور ان کے پاس ضرورت کی اشیا ہو ں تو ان کی ذمہ داری ہے کہ غریب لوگوں کےلیے خوراک مہیا کی جائے، کھانے کو اور لباس گرمی ، سردی کا اور ان کی رہائش جو ان کو بارش ، گرمی اور سورج  کی تپش اور گزرنے والوں کی نظروں سے بچائے ۔ اور اس کی دلیل وہ قرآن کریم سے پیش کرتے ہیں کہ  رشتہ داروں اور مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو ۔دوسری جگہ قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ  حسن سلوک کرو  والدین کے ساتھ ، رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، ہمسایوں اور مسافروں اور غلاموں کے ساتھ ۔ ان لوگوں حق کا   اللہ پاک نے مقرر کیا ہے ۔ پھر فرمایاکہ  اھل جہنم سے پوچھا جائے گا  کیا چیز تمہیں جہنم میں لے گئی تو وہ کہیں گے ہم نماز نہیں پڑھتے اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے ۔ تو وجوب زکوٰۃ کے ساتھ یتیم کو کھلانا بھی واجب ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر  رحم نہیں کرتاہے ۔ اور جس کو فضیلت حاصل ہو اور وہ مسلمان بھائی کو بھوکا ننگا دیکھ کر اس کی مدد نہیں کرتا  تو اس پر رحم نہیں کیا جاتاہے ۔

نبی ﷺ کے دور میں اصحاب صفہ غریب لوگ تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس کھانا ہو دو کا وہ تیسرے کو لے جائے اور جس کے پاس کھانا ہو چار کا وہ پانچویں چھٹے کو  لے جائے ۔  ابن حزم کہتے ہیں جس نے اپنے بھائی کو بھوکا ننگا چھوڑ دیا اور وہ اس کو کھلانے پہنانے پر قادر تھا تو اس نے اس کو چھوڑ دیا اس کی مدد نہیں کی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس زائد سواری ہو  تو وہ مدد کرے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد توشہ ہو تو مدد کرے جس کے پاس توشہ نہیں ہے  پھر مال کی اصناف کو ذکر کیا یہاں تک کہ صحابہ کہتے ہیں  ہم نے دیکھا کہ ہمارے لیے ہمارے مال میں کوئی حق نہیں ہے ۔ ابن حزم کہتے ہیں یہ صحابہ کا اجما ع ہے جس کو حضرت  ابو سعید ذکر کرتے ہیں ۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بھو کے کو کھانا کھلاؤ  اور قیدی کو چھڑاؤ ۔

حضرت عمر نے فرمایا اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں مالداروں کے مال لے لیتا اور ان کو فقرا و مہاجرین میں تقسیم کردیتا ۔ حضرت علی سے روایت ہے اللہ تعالیٰ نے مالداروں پر ان کے اموال میں  جتنا فقرا کو کافی  ہو اس کو فرض کیا ہے اگر وہ بھوکے ، ننگے اور مشکل  میں ہوں  تو مالدار ان کو منع کریں ، تو اللہ پر حق ہے کہ قیامت کے دن ان کا حساب لے اور ان کو اس پر عذاب دے ۔ حضرت ابن عمر سے روایت ہے تیرے مال میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے ۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے سامنے ایسے تین سو لوگ تھے جن  کا توشہ ختم ہوگیا تھا تو ابو عبیدہ نے مالداروں کو   حکم دیا کہ سبھی اپنے توشے جمع کریں اور ان کو برابر خوراک دیتے رہیں ۔ یہ صحابہ کا اجما ع ہے اور اس کا کوئی مخالف معلوم نہیں ہے ۔

 ابن حزم کہتے ہیں یہ لوگ خود کہتے ہیں جس کو پیاس سے موت کا خوف ہو تو اس پر فرض ہے کہ پانی لے جہاں سے پائے اور اس پر لڑائی کرے ۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ  پیاس کے بارے میں جب یہ بات کہہ رہے تو کسی کو بھوک ہو یا وہ ننگا ہو  تو اس کو کیسے منع کرسکتے ہیں ۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ   کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں جو مجبور ہو مردار کھانے پر  یا خنزیر کا گوشت کھانے پر اور اس کے ساتھی کے پاس زائد کھانا ہو، اس کو چاہیے کہ   وہ اپنے ساتھی کے پاس سے   زائد کھانا کھائے چاہے وہ ساتھی مسلمان ہو یا ذمی ہو ۔ کیونکہ جو خود کھا رہا ہے اس پر  لازم تھا کہ بھوکے کو کھانا کھلاتا تاکہ وہ مردار متوجہ نہ ہوتا ۔ اور اس کو یہ حق  ہے کہ اس پر لڑائی کرے۔ اگر قتل کردیا جائے تو اس کے قاتل پر قصاص ہے اور اگر منع کرنے والا قتل کردیاجائے تو اس پر اللہ کی لعنت کیونکہ یہ باغیوں کے گروہ میں شمار ہوگا  کیونکہ دوسرے پر زیادتی کررہاہے اور حق سے منع کرنے والا باغی ہے اسی وجہ سے تو حضرت ابوبکر نے مانعین زکوٰۃ سے جنگ لڑی تھی ۔( المحلی ، ج 4 ، ص 280،تا 284 سے ماخوذ)

مولانا عبدالغنی محمدی
مولانا عبدالغنی محمدی
محقق و عالم دین
spot_imgspot_img