spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

مسئلہ کشمیر و فلسطین: ڈاکٹر فضل الرحمن کا موقف

ڈاکٹر فضل الرحمن (1988-1919) علوم اسلامیہ کے ماہر پاکستانی/ امریکی دانشور تھے۔ ان کے والد مولانا شہاب الدین ہندوستان کے مشہور دینی ادارے دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الہند مولانا محمود حسن کے ہم سبق تھے۔ دس سال کی عمر میں حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرنے والے فضل الرحمن نے اپنے والد سے روایتی دینی علوم کی تحصیل کی اور1942 میں پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے عربی زبان و ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ جس کے بعد سکالر شپ پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں ممتاز اسکالر ایچ آر گیب کی زیر نگرانی قرون وسطی کے مسلمان فلسفی بو علی سینا پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے انگلینڈ کی ڈرہم یونیورسٹی اور کینیڈا کی میک گیل یونیورسٹی میں پڑھایا۔

ڈاکٹر فضل الرحمان 1961 میں صدر ایوب خان کی دعوت پر پاکستان آئے اورادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈی جی کی حیثیت سے علمی سرگرمیوں کا آغاز کیا، ایوب خان کی خواہش تھی کہ دور جدید کے مسائل کا حل اسلامی بنیادوں پر نکالا جائے اورماڈرن دنیا کے سامنے ماڈرن اسلام پیش کیا جائے تاکہ روایتی اسلام سے پیدا ہونے والے مسائل و مشکلات سے بچا جاسکے۔ ایوب خان کو اس کام کے لیے ڈاکٹر فضل الرحمن سے زیادہ موزوں شخص کوئی نظر نہ آیا اور انہیں دعوت دیکر میک گل یونیورسٹی سے پاکستان بلا لیا۔ ڈاکٹر فضل الرحمن نے مذکورہ موضوع پر جو کچھ لکھا اورکہا، اس سب نے انہیں پاکستان میں متنازعہ بنادیا اور بالآخر اس تنازع کی وجہ سے انہیں پاکستان کو خیرباد کہنا پڑا۔

1965 میں سعودی حکومت کی میزبانی میں المؤتمر الاسلامی العام کا ایک اجلاس مکہ مکرمہ منعقد ہوا، جس میں مسلم دنیا کے تمام سربراہان مملکت اور مختلف وفود شریک تھے۔ ڈاکٹر فضل الرحمن پاکستانی صدر مملکت ایوب خان کی نمائندگی کرنے کے لیے اس عظیم الشان کانفرنس میں شریک ہوئے۔ ڈاکٹر فضل الرحمن مملکت سعودی عرب کے حکمرانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اور پاکستانی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے پورے عالم اسلام کے قائدین کے سامنے مسئلہ کشمیر وفلسطین کے حوالہ سے جو خطاب کیا، وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر فضل الرحمن کا یہ خطاب ادارہ تحقیقات اسلامی کے معروف جریدہ فکر ونظر کی جلد 3 جبکہ شمارہ ایک میں شائع ہوا تھا۔ آج تک شاید کسی پاکستانی حکمران نے اس انداز میں مضبوط علمی دلائل و شواہد کے ساتھ کشمیر و فلسطین کا مقدمہ پیش نہیں کیا۔

حالیہ دنوں میں مسئلہ کشمیر وفلسطین ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ قبل اسرائیلی افواج کی مسجد اقصی میں فائرنگ، نمازیوں کو یرغمال بنانا اور انہیں گھروں میں واپس نہ جانے دینا، کشمیر پر مسلسل بھارتی افواج کا قبضہ اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم و زیادتی تاریخ کے بدترین واقعات ہیں۔ موقع کی مناسبت سے مسئلہ کشمیر وفلسطین پر ڈاکٹر فضل الرحمن کا مقدمہ فکر ونظر کے خصوصی شکریہ کے ساتھ نچلی سطور میں شائع کیا جارہا ہے۔ ممکن ہے اس موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے ہماری یہ کوشش مفید ثابت ہو۔ (ادارہ افکار)

————————————————————————————————————————————————–

اسلام ان تمام فرائض کے ساتھ جو اللہ نے اپنے بندوں پر عائد کیے ہیں، دو بنیادی باتوں پر بے حد زور دیتا ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے بندوں کے مابین عدل و مساوات۔ اگر ہم سورتوں کو تنزیل کی ترتیب سے پڑھیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئے گی کہ اولین دور میں قرآن کریم نے قل ہو اللّٰہ احد کہا اور توحید ا لٰہی پر زوردیا تو اس کے ساتھ ہی اس نے یہ اعلان بھی کیا کہ اجتماعی اور اقتصادی عدل کے بغیر اقامت دین ممکن نہیں۔

اسلام بڑی سرعت سے پھیلتا رہا اور اس کی قوتوں میں فروغ ہوتا رہا۔ لیکن آخر میں لوگوں نے اس کو محض رسوم و روایات کا مجموعہ بنا لیا اور پھر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا، ان روایات و رسوم میں اضافہ ہوتا گیا۔ اجتماعی زندگی کٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ عدل و مساوات ختم ہو گئے وہ ترقی اور پیش روی رک گئی جن کی طرف قرآن و سنّت نے دعوت دی تھی۔

معاشرے کے ڈھانچے میں اندرونی خلفشار آیا تو امت مسلمہ کی سرحدوں میں بھی دراڑیں پڑ گئیں۔ ملی شیرازہ بندی منتشر ہونے لگی۔ آخر کار وہ امت مسلمہ جسے قرآن کریم نے امۃ وسط، شھداء علی الناس اور خیرامۃ اخرجت للناس کہا تھا، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی ہر استعماری قوت کے حملوں کا ہدف بن کر رہ گئی۔

ممالک اسلامیہ پر یہ جو سیاسی استعمار مسلط ہوا اگر ہم اس کا تجزیہ کریں تو ہمیں یہ پیچ درپیچ اور تہ بہ تہ نظر آتا ہے۔ ہم ان پاٹوں میں سے جن کے درمیان عالم اسلام پس رہا تھا چار پاٹوں کو ممیز کر سکتے ہیں۔ دو بڑے پاٹ تو وہ ہیں جو ممالک اسلامیہ میں بالعموم ایک دوسرے کے بالمقابل آتے رہے، اور بعد ازاں مشرق وسطی میں متصادم ہوئے اور یہیں مرتکز ہو گئے۔ یہ تھے مغربی اور روسی استعمارکے پاٹ جن کے درمیان مشرق وسطی کے مسلمان پستے رہے۔ رہے باقی ممالک تو وہ بھی ان میں سے ایک یا دوسرے استعمار کے زیر تسلط آگئے۔

ان دونوں زبردست استعماروں کے نتیجے میں قریب تھا کہ اسلام کے کوئی آثار باقی نہ رہتے۔ لیکن یہ آثار باقی رہے اور اسلام کا نام و نشان نہیں مٹا کیوں کہ اگر جنوب سے آنے والی استعماری ہوائیں ان پر گرد و غبار ڈالتیں تو شمال سے آنے والی ہوائیں اس گرد و غبار کے ہٹانے کا کام کر دیتی تھیں. غرض مغربی استعمار کے حملوں کا رد مشرقی استعمار سے ہوتا اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہا۔

رحت ایزدی کو۔۔۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں اس کا وعدہ کیا گیا تھا، منظور تھا کہ یہ نور اتمام کو پہنچے۔ آخر اس سیاسی استعمار کو پسپائی اختیارکرنی پڑی۔ لیکن یہ بات بڑی افسوس ناک ہے کہ جب ان استعماروں کی موجیں پیچھے ہٹیں تو ہم نے دیکھا کہ دو نئے استعماروں کی موجیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ان دونوں نے پہلے استعماروں سے قوت حاصل کی ہے چنانچہ یہ ان سے کہیں زیادہ اسلام کے لیے خطرناک ہیں۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں اس مسئلہ کو سیاسی طور پر نہیں بلکہ علمی سطح پر پیش کر رہا ہوں تاکہ ارباب سیاست کو معلوم ہو کہ جدید استعمار کی فلسفی اور فکری بنیادیں کیا ہیں۔

یہ دونوں استعمار ہیں یہودی صیہونیت اور ہندو سامراج۔ شاید آپ یہ سوال کریں کہ میں نے ان دونوں کا یکجا کیوں ذکر کیا؟ اس لیے کہ ان دونوں کی صفات مشترک ہیں اور ان کے فلسفے کی بنیادیں ایک ہی ہیں۔ صیہونیت کا دعویٰ ہے کہ یہود تمام دنیا کے انسانوں میں سے اللہ کی برگزیدہ نسل ہے اور یہودی خون، یہودی مذہب اور زمین (جسے انہوں نے اسرائیل کا نام دیا ہے) تینوں لازم و ملزوم ہیں۔ یہی دعویٰ جارحیت پسند ہندومت کا ہے۔ دونوں میں سر موتفاوت نہیں۔ ہندومت کا کہنا ہے کہ دھرتی ماتا (بھارت)، ہندو نسل اور ہندومت لازم و ملزوم ہیں۔ اگر کسی کو اس میں شک ہو تو وہ ہندوؤں کی کتب ملاحظہ کریں۔ معتصب اور غالی ہندوؤں کی ہی نہیں بلکہ گاندھی جیسے آزاد خیال لوگوں کی تحریروں میں بھی یہی باتیں ملیں گی۔ اسی لیے اسلام کے دل میں ایک ناسور اسرائیل کی شکل میں رکھا گیا تو دوسرا ناسور کشمیر کا ہے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ کشمیری اپنا حق خود ارادیت پہلے ہی استعمال کر چکے ہیں۔ بہت خوب! متنبی نے ایسی ہی ستم پروری پر کہا تھا۔

          فیک الخصام، وانت الخصم والحکم

بھارت آئے دن ہندوستان کے مسلمانوں کو ختم کرنے اور ان سب کو وہاں سے نکالنے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ ہم ان سب امور کے بارے میں بھارت سرکار کومورد الزام نہیں ٹھہراتے لیکن ان دو باتوں کی ذمہ داری تو بہر حال بھارت سرکار پر ہی عائد ہوتی ہے۔

اول:       اہل کشمیر کو حق خود ارادیت کے استعمال سے محروم رکھنا۔

دوم:        مشرقی ہندوستان سے برابر مسلمانوں کا انخلااور کثیر تعداد میں پاکستان میں دھکیلنا، جب کہ پنڈت نہرو نے وعدہ کیا تھا کہ یہ اخراج آئندہ نہیں ہو گا۔ (لیکن برابر جاری ہے)۔

جہاں تک ہندوستان میں مسلمانوں کو ختم کرنے اور ان کی قتل و غارت کا سوال ہے۔ مانا کہ اس کی ذمہ داری براہ راست حکومت ہندوستان پر عائد نہیں ہوتی۔ لیکن ہندوستان میں متعصب ہندوؤں کی ایسی پارٹیاں اور منظم و مسلح گروہ موجود ہیں جو نہتوں کا خون بہانے سے دریغ نہیں کرتے اور حکومت ان کو روکنے پر قادر نہیں۔ جیسا کہ کلکتہ کے فسادات کے بعد جنوری ٣٤ء میں مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا۔

”مسلمانان ہندوستان کی قتل و غارت گری اور عورتوں کی آبرو ریزی کے جو واقعات ہوئے ہیں ان کی وجہ سے میں بے حد شرمندہ ہوں۔ مجھے اعتراف ہے کہ پولیس کے بعض لوگ بھی ان متعصب ہندوؤں سے مل گئے تھے۔ یہی ہماری سب سے بڑی مشکل ہے۔“

ہمارے لیے استعمار نے اور بھی بہت سے جھگڑے چھوڑے ہیں اسی قسم کا ایک قضیہ قبرص کی ترک اقلیت کا ہے۔ میکاریوس کی حکومت وہاں سے مسلمانوں کی مکمل بیخ کنی کے درپے ہے اسی قسم کے اور بہت سے قضیے ہیں جو موتمر کے اس اجلاس میں ہمارے سامنے آئیں گے۔

ہمارا اولین فرض یہ ہے کہ ہم اپنی سرحدوں کے ان شگافوں کو جلد از جلد بھریں اور پانی کا رخ صحیح سمت میں موڑ دیں تاکہ معاملات کی عنان اختیار خود ہمارے ہاتھ میں آئے صرف اس طرح ہی مسلمانوں پر ظلم و جور ختم ہو سکے گا۔ ہم پر یہ بھی فرض ہے کہ ہم سب مسلمان استعمار اورخارجی دشمنوں کے خلاف ایک مضبوط متحدہ محاذ ہوں۔ قرآن کریم مسلمانوں کو بنیان مرصوص (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کہتا ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ المسلمون کبنیان مرصوص یشد بعضہ بعضا اگرہم اس معیار پر پورے نہیں اترتے تو یقیناً ہم سچے مسلمان نہیں ہیں۔

یہ سب کچھ کرنے کے بعد ایک کام باقی رہ جاتا ہے اور وہی حقیقی اسلامی عمل ہے۔ وہ ہے معاشرے کی قرآن و سنّت کی بنیادوں پر تعمیر نو۔ کیوں کہ ذہنی اور ثقافتی استعمار ظاہری سیاسی استعمار سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایسے طبقات بھی ہیں جن کو حقیقی معنوں میں اسلام کا کوئی علم نہیں۔ بعض اوقات ان کا ایمان ان کے علم سے بھی ضعیف ہوتا ہے چنانچہ کبھی وہ مغربی علمانیت اور لادینیت کی طرف جھکتے ہیں اور کبھی اشتراکیت کی طرف چل پڑتے ہیں اوراس گومگو میں اندھوں کی طرح ٹامک ٹوٹیاں مارتے رہتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں کہ جو اجنبی ثقافتوں کے رذیل اخلاق کے دلی گرویدہ ہو چکے ہیں۔ ظلم صرف یہی نہیں بلکہ دوسرے طبقے کی روایات کی اندھی اور جامد تقلید جو بصیرت سے محروم ہے اسلام کے حق میں اجنبی ثقافتوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

جامد اور متحجر ذہنوں سے زندگی کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔اس لیے لازمی ہے کہ گہری بصیرت کے ساتھ قرآن حکیم اور سنّت نبی کریم ﷺکی طرف رجوع کریں اور اپنے عظیم فقہی ورثے سے استفادہ کریں اوراس میں ایمان، علم اور تجربہ ہمارا شعارہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دو ایسی مفصل اور جامع کتابیں لکھی جائیں۔ جن میں سے ایک تو صحیح اسلامی بنیادوں پر معاشرے کی تشکیل و ترقی کی تفاصیل سے بحث کرے اور دوسری موجودہ حالات میں قانون اسلامی کی تطبیق کے طریقے متعین کرے۔ ہم مسلم حکومتوں سے مطالبہ کریں گے کہ وہ باہمی تعاون سے ان دونوں منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیں۔

محمد یونس قاسمی
محمد یونس قاسمی
ایڈیٹر، ریسرچر و کالم نگار
spot_imgspot_img