spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

ہزارہ یونیورسٹی میں مدرسہ اساتذہ اور نوجوان محققین کے لیے دوروزہ ورکشاپ

ہزارہ یونیورسٹی میں اقبال انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ (آئی آر ڈی) کے زیر اہتمام مدارس کے فضلاء اور نوجوان محققین کے لیے دوروزہ ورکشاپ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ورکشاپ میں ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممتاز مدارس کے نوجوان اساتذہ اورہزارہ یونیورسٹی میں  علوم اسلامیہ کے محققین شریک ہیں۔

ورکشاپ بین المسالک ہم آہنگی، مسلم مفکرین اور سماجیات ،کردار سازی کا نبوی منہاج  اور علم وتحقیق اور مسلم روایت جیسے  اہم  موضوعات پر منعقد کی جارہی ہے۔ورکشاپ سے ملک کے ممتاز مفکرین ، ماہرین سماجیات  اور دانشور خطاب کررہے ہیں۔ ورکشاپ کا  باقاعدہ  افتتاح ہزارہ یونیورسٹی کے  سینیٹ ہال میں ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر  ڈاکٹر جمیل احمد نے کیا۔ اس موقع پر آئی آر ڈی کے سربراہ ڈاکٹر حسن الامین اور ہزارہ یونیورسٹی میں شعبہ علوم اسلامیہ کے چیئرمین اور ڈین فکلٹی آف لاء اینڈ سوشل سائنسز ڈاکٹر ازکیا ء ہاشمی  بھی موجود تھے۔

Photo by IRD

افتتاحی اجلاس سے  خطاب کرتے ہوئے  ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر  ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ کالجوں  اور جامعات میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی طرح مدارس کے طلبہ و طالبات بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمیں مدارس سے ڈرنے کے بجائے انہیں معاشرے میں عزت واحترام دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کے لیے مفید خدمات انجام دے سکیں۔ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جمیل احمد نے مزید کہا کہ معاشرے میں مکالمے اور باہمی یگانگت کو فروغ دینا چاہیے تاکہ کسی طرح کا خلا باقی نہ رہ سکے۔معاشرے کی بہتر خطوط پر استواری کے لیے ہمیں سماج کی خدمت کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔ ڈاکٹر جمیل احمد نے شرکاء پر زور دیا کہ ہمیں علم کے پھیلاؤ کو روکنا نہیں چاہیےاور ایک دوسرے پر تکیہ کرنے کی بجائے خود کو زیور علم سے آراستہ کرنا چاہیے۔

اقبال انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر ڈاکٹر حسن الامین نے  اپنے خطاب میں پر امن ماحول میں مکالمہ و مباحثہ   کی روایت کو مستحکم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کا ایک اہم حصہ ہے جو پاکستان میں بین المسالک ہم آہنگی،مدارس کے اساتذہ کی تربیت ، علم وتحقیق کو فروغ دینے اور پاکستانی اہل علم کی علمی کاوشوں کو شائع کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ آئی آر ڈی سے اب تک 80 سے زائد علمی کتب شائع ہوچکی ہیں  جو ہائر ایجوکیشن کمیشن  سے منظور شدہ ہیں اور انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جارہا ہے۔ ڈاکٹر حسن الامین نے ہزارہ یونیورسٹی کے وی سی اور دیگر انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جنکے تعاون سے اس ورکشاپ کا انعقاد ممکن ہوا۔

ورکشاپ کے پہلے روز کے دیگر اجلاسوں سے بین المسالک ہم آہنگی  اور ذرائع ابلاغ کے بامقصد استعمال پر ممتاز صحافی سبوخ سید اور کالم نگار سید مزمل حسین شاہ  نے جبکہ مسلم مفکرین اور سماجیات کے عنوان پر یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب لاہور سے وابستہ محقق جناب زید حسن اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے وابستہ محقق جناب وقاص خان  نے بھی خطاب کیا۔

Photo by IRD

ورکشاپ 26 اگست 2021 کو بھی جاری رہے گی اور اس کے مختلف اجلاسوں سے دیگر ماہرین و اساتذہ کے علاوہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی اور معروف ماہر قانون و دانشور بیرسٹر ظفر اللہ خان بھی خطاب کریں گے۔

spot_imgspot_img