spot_img

ذات صلة

جمع

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

خلیفہ بن زید النہیان اور پاکستان

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید...

ہم کہاں بھٹک گئے!

میں نے جیسے ہی ان تصاویر کو دیکھا مجھے...

سی پیک بلا شبہ تعمیرو ترقی کا ایک عظیم منصوبہ ہے جس کے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر مختلف النوع اثرات مرتب ہونگے

ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے تھنک ٹینک اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ دائیلاگ کے زیر اہتمام  منعقد ہونے والی دوروزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان حکومت کے مشیر  برائے سی پیک امور  ڈاکٹر رفیع اللہ کاکڑ نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سی پیک کے قیام کے اسباب ، اہداف ، مقاصد اور اب تک کی پیش رفت پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اعداد وشمار اور تاریخی پس منظر میں اس منصوبے کو نہ صرف چین ، پاکستان بلکہ پورے خطےاور اس سے بھی بڑھ کر تین براعظموں کے لیے  دور رس اثرات کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک سڑکوں ، ریلوے اور صنعتوں کے بارے میں ترجیحات رکھتا ہے۔ اس منصوبے سے دیگر مقامی مسائل کے حل ہونے کی توقع رکھنا مناسب نہیں ہے۔ مقامی مسائل پاکستان کو اپنی ترجیحات کے مطابق اپنے وسائل سے ہی حل کرنے ہونگے۔ اس سلسلے میں  پاکستانی قیادت  کو بلاتفریق قومی مفاد ات کو مقدم رکھتے ہوئے اقدامات کرنا ہونگے۔

ممتاز صحافی و دانشور  سلیم صافی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سی پیک کی تزویراتی  اہمیت پر گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے متعلق  فیصلہ سازی کے عمل میں ماہرین کی آرا کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے بھی سی پیک کو بطور ایک قومی منصوبہ بنانے پر زور دیا۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ سی پیک کے بارے میں مختلف منفی بیانیوں کا تدارک کرنے کے لیے مثبت بیانیے کو قومی شکل دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جامعات بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیں، اس لیے کہ جامعات میں ہماری نئی نسل مستقبل کی صورت گری میں مصروف ہے اور لازم ہے کہ یہ صورت گری قومی اتحاد ویگانگت اور مفادات کو مدنظر رکھ کر کی جائے۔ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے مزید کہا کہ اسلامی یونیورسٹی بالخصوص اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ  اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار اداکرتے رہیں گے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نائب صدر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے سی پیک کے انسانی وسائل کی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ  ڈاکٹر حسن الامین نے کہا کہ یہ  کانفرنس  سی پیک کے ماضی (شاہراہ ریشم )اور حال کے پاکستان کے لیےاس کی  مختلف جہتوں کے مطالعہ اور نتائج پر غور کرنے کی ایک کوشش ہے۔   سی پیک کے بارے میں زیر گردش مختلف بیانیوں کا جائزہ لینے اور مربوط شکل دینا بھی کانفرنس کے مقاصد میں شامل ہے۔

کانفرنس کے پہلے روز کے مختلف اجلاسوں سے جن دیگر شخصیات نے خطاب کیا ان میں چین کی پروفیسر ڈاکٹر سوجنگ، پروفیسر ڈاکٹر لیگوانگ، اوکسفرڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر میتھیو میکارتھی ، ٹرینٹی کالج شنگھائی کے پروفیسر ڈاکٹر ژانگ منگ نے آن لائن جبکہ ملکی جامعات کے مختلف سکالرز، محققین  اور اقتصادی  وسماجی ماہرین   نے خطاب کیا۔

کانفرنس 18 نومبر بروز جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔ اختتامی اجلاس میں  وفاقی  وزیر اطلاعات ونشریاف فواد چوہدری مہمان خصوصی ہونگے۔

spot_imgspot_img