spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

شعبہ صحت کا ناپاک اتحاد

مصنف: ڈاکٹر ظفرمرزا

مترجم: شوذب عسکری

ہمارے ہاں مریضوں کے مفادات کے خلاف کام کرنے والا ایک ناپاک اتحاد عرصہ دراز سے موجود ہے جس میں ادویات سازی اور ہیلتھ ٹیکنالوجی کی صنعت اور شعبہ ء صحت سے منسلک ڈاکٹروں اور دیگر اہلکاروں کے درمیان انتہائی کریہہ کاروبار جاری ہے۔

پچھلے سال جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا کہ امریکہ میں 26 فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے 2003 سے 2016 کے درمیان تقریباً 33 بلین ڈالر کے جرمانے ادا کیے ہیں۔ یہ مالی جرمانے امریکی حکام کی طرف سے مختلف غیر قانونی سرگرمیوں، جیسے مالی معاونت اور رشوت فراہم کرنے، جان بوجھ کر ملاوٹ شدہ یا جعلی ادویات فارمیسی دکانوں کو بھیجنے، اور ناجائز استعمال کے لیے دوائیوں کی مارکیٹنگ کی وجہ سے عائد کیے گئے تھے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے یوکے ایڈ کے تعاون سے 2016 میں فارماسیوٹیکل سیکٹر میں ہونے والی بدعنوانی پر رپورٹ کی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ صرف امریکہ میں ادوایت سازی کی صنعت ڈاکٹروں کو مراعات دینے کی سرگرمیوں پر سالانہ اندازے کے مطابق 42 ارب ڈالر خرچ کرتی ہے۔ یہ فی ڈاکٹر اوسطاً 61 ہزار ڈالر کے برابر ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے 2010 میں رپورٹ کیا کہ نظام صحت کے ناکارہ ہونے کے دس سر فہرست ذرائع میں سے تین میں ادویات شامل ہیں، اور یہ بدعنوانی نااہلی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
اس قسم کی زیادہ تر تحقیق امریکہ اور یورپ میں ہوتی ہے۔ کچھ ملٹی نیشنل کارپوریشنز بھی زیادہ تر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں سرگرم ہیں۔ انتظامی لحاظ سے سختی سے پیش آنے والے حکام اور اعلی آمدنی والے ممالک میں قانون کی حکمرانی کے بارے میں عام طور پر اعلیٰ سماجی شعور کے باوجود، کمپنیاں ان انتہائی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے باز نہیں آتیں۔ وہی کمپنیاں غریب ممالک میں کیا کریں گی جہاں متعلقہ قوانین موجود نہیں ہیں یا کمزور ہیں، ریگولیٹری اتھارٹیز میں صلاحیت کا فقدان ہے، اوربدعنوانی ایک قبول شدہ طرز زندگی ہے۔
مقامی سطح کی دو ساز کمپنیاں شعبہ صحت میں بدعنوانی کے لئے ملٹی نیشنل اداروں کا ساتھ دیتی ہیں۔ پہلے ہی سے معاشی مشکلات کا شکار ہمارے عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سےادائیگی کرتے ہیں کیونکہ ڈاکٹروں کی لکھی ہوئی مہنگی ادویات خریدتے ہیں جن کی شاید ابھی ضرورت ہی نہ ہو یا جس کے لیے اتنے ہی موثر لیکن سستے متبادل دستیاب ہوں۔ سیلز کے نمائندوں کو ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی دوائیں لکھنے کے لیے ڈاکٹروں کو مختلف آفرز کریں۔ ایک ہی دوا تیار کرنے والی کمپنیاں بڑی اور بہتر مراعات کی پیشکش کے ذریعے مقبول ڈاکٹروں کو اپنے جھانسے میں لاتی ہیں، جو اس مقدس شعبے میں رہتے ہوئے اخلاقی ابتری کے بد سے بدتر کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔ لفظ ‘غیر اخلاقی’ طبی بازار میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے بتانے سے قاصر ہو گیا ہے۔
میں نے حال ہی میں نوجوان محققین کے ایک گروپ کے ساتھ بیٹھا جو اس صورتحال کے بارے میں فکر مند تھا اور اس مسئلے کو دور کرنے کے لیے ایسی دخل اندازیوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جو کہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی تھیں۔ اس اعلیٰ سرگرمی کے دوران ، انہوں نے پہلے اس پر تفصیلی گفتگو کی اور پھر مشاہدہ کیا کہ میڈیکل ریپریزنٹیٹو کے نام سے معروف ان مارکیٹنگ ٹائیگرز اوران کے جھانسے میں آنے کے لئے ہمیشہ تیار ڈاکٹروں کے درمیان کیا چل رہا ہے۔ انہوں نے دونوں اطراف یعنی سیلز کے نمائندوں اور ڈاکٹروں دونوں سے بات کی۔ آزادانہ ذرائع سے ان کی تحقیقات کے دوران جو نتائج اور واقعات سامنے آئے نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ ہولناک بھی ہیں؛
ایک مصروف ڈاکٹر کے بیٹے کے عظیم الشان ولیمے کا مکمل خرچ ایک دوا ساز کمپنی کے ذریعے سپانسر کیا گیا تھا۔ ایک مشہور سرجن کے پورے خاندان اور کئی دوستوں کو ایک ہفتہ کی چھٹی کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے مشہور ساحلی ریزورٹ میں لے جایا گیا۔ سب کچھ ایک کمپنی کی طرف سے ادا کیا گیا تھا۔ سیلز کے ایک نمائندے نے ایک ڈاکٹر کو بتایا کہ وہ اسے مانگی گئی نقد رقم نہیں دے سکتا لیکن ایک ائیر کنڈیشنر فراہم کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے اس سیلز نمائندے سے کہا کہ کہ وہ اس اے سی کو کسی خاص اے سی کی دکان پر بھیج دے اور ڈاکٹر نے وہاں اس دکان پر جاکر اے سی کے بدلے دکاندار سے پیسے وصول کرلئے۔
ایک ہوشیار میڈیکل سیلز مین کسی ڈاکٹر کے لیے کار سروس، اس کے دفتر کی تزئین و آرائش، مہنگے پرائیویٹ اسکول کی فیس، یوٹیلیٹی بلز اور کسی بھی دوسرے قابل تصور اخراجات کی ادائیگی کر سکتا ہے۔ یہ مراعات ہر کسی کے اپنے انفرادی ذائقے اور اس کی ترجیح پر منحصر ہے، کچھ ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر ناجائز مشروبات اور اس سے متعلق بہت کچھ قبول کیا ہے اور کچھ فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنے مہربان ڈاکٹروں کے لئے مکمل عمرہ پیکج مہیاکرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ ذرا تصور کیجئے کہ یہ ایسے افراد ہیں جو طب کے مقدس پیشے میں رہ کر یہ عمرہ ایسے مریضوں کی قیمت پر ادا کرتے ہیں جو نجانے ان مہنگی دوائیوں کی قیمت کس طرح ادا کرتے ہیں۔ یہ سب ان دوا ساز کمپنیوں کے لیے ایک سرمایہ کاری ہے جس میں اس کے بدلے بہت زیادہ منافع ہوتا ہے۔
یہ بوگس دلیل کہ ان دوا ساز کمپنیوں کی طرف سے دوایئوں کی اونچی قیمتیں اس لئے وصول کی جاتی ہیں تاکہ ان دوائیوں پر ہونےوالی تحقیق اور ان کی تیاری پر ہونے والے زیادہ اخراجات پورے کئے جاسکیں ، غلط ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دس بڑی دوا ساز کمپنیوں میں سے نو کمپنیاں ایسی ہیں جنہوں نے دوائیوں کی تحقیق و تیاری سے کہیں زیادہ ان کی تشہیر کے لئے خرچ کیا ۔ لہٰذا، ادویات کی اونچی قیمتوں کی وجہ بھی کمپنیوں کی جانب سے اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ پر خرچ کی جانے والی بڑی رقوم ہیں، جس کا ایک بہت بڑا حصہ ڈاکٹروں کو اپنی مصنوعات کو آزادانہ طور پر تجویز کرنے کی ترغیب دینے میں جاتا ہے۔ اور تحقیقی و تیاری کے اخراجات کی دلیل مقامی دوا ساز کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوتی، وہ اس گنتی میں شمار ہی نہیں ہیں۔
اس سب کو کیسے حل کیا جائے؟ عالمی سطح سے لے کر مقامی سطح تک، فارماسیوٹیکل انڈسٹری اپنے مارکیٹنگ کے طریقوں پر کوئی پابندی پسند نہیں کرتی۔ اپنی کوششوں کے باوجود، عالمی ادارہ صحت 1988میں آنےوالے ایک نرم ونازک نوعیت کے فرسودہ اخلاقی معیار برائے میڈیسنل ڈرگ پروموشن کے علاوہ کوئی اور سخت قانون نہیں بنا سکا۔ 2014 میں، امریکہ میں فزیشن پیمنٹ سنشائن ایکٹ منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت کمپنیوں کو آن لائن ڈیٹا بیس میں 10 ڈالر زیادہ کی ادائیگیوں کا انکشاف کرنا پڑتا ہے جو انہوں نے ڈاکٹروں کو کی ہیں۔
اپنے گھر کے قرب و جوار میں ہی غیر اخلاقی مارکیٹنگ کا فن جن تیزی سے پھیلا ہے اس کا تصور سے بالاتر ہے اور شاید ہی اس شعبے سے متعلق کوئی ضابطہ کار موجود ہو۔ 17 نومبر کو، حکومت پاکستان نے بالآخر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ذریعے ایتھیکل مارکیٹنگ ٹو ہیلتھ کیئر پروفیشنلز رولز، 2021 جاری کیا۔ اس سرکاری اتھارٹی کی ذمہ داریوں میں سے ایک “مارکیٹنگ کے طریقوں کی نگرانی اور ان کو منظم کرنا ہے تاکہ ادویات کے جائز استعمال کو یقینی بنایا جا سکے”۔ 2012 کے” ڈریپ ایکٹ “کے بعد حکومت کو یہ قوانین بنانے میں نو سال لگے ہیں۔
قواعد نہ صرف دیر سے ہیں بلکہ وہ ابھی بھی ناکارہ بھی ہیں اور زمانے کے ساتھ بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔ ادویات کو اب آن لائن فروغ اور فروخت کیا جا رہا ہے لیکن یہ قواعد اس شعبے کے متعلق کچھ نہیں کہتے۔ قوانین کے کمزور ترین حصے نفاذ، خلاف ورزی اور سزا سے متعلق ہیں۔ یہ بہت مبہم ہیں اور وہ کس طرح لاگو ہونے جا رہے ہیں یہ بھی واضح نہیں ہے اور ان کے بارے میں بہتری کی امید کی کمی ہے. بہر حال، اب ہمارے پاس اخلاقی مارکیٹنگ کے اصول ہیں۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے ان کے نفاذ کی باقاعدگی سے نگرانی اور رپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف قواعد کی مزید مضبوطی کو یقینی بنا سکتا ہے اور آخر کار کچھ نہ کچھ اثر کی ذرا امید تو پیدا کر سکتا ہے۔ اصلاحات کے بعد پاکستان میڈیکل کونسل کو بھی اس نظر انداز شعبے میں فعال ہونے کی ضرورت ہے۔

مصنف ڈاکٹر ظفر مرزا ،صحت پروزیر اعظم کے خصوصی مشیر رہ چکے ہیں ۔ شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں ہیلتھ سسٹمز کے پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ اور یونیورسل ہیلتھ کیئر پر عالمی ادارہ صحت کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ مضمون آج 3 دسمبر 2021 کو معاصر انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہوا۔

spot_imgspot_img