spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

سوات میں لڑکیوں کے سکول کے متعلق سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ

سنگوٹہ پبلک سکول سوات کا ایک مشہور سکول ہے جس میں اس وقت ایک ہزار سے زائد بچیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ دہشت گردی کے عفریت نے اس سکول کو بھی نقصان پہنچایا تھا اور نہ صرف اس پر حملہ ہوا تھا بلکہ پانچ سال تک اسے جبری طور پر بند بھی رکھا گیا۔

اس سکول کےلیے زمین ریاستِ سوات کے حکمران میاں گل جہانزیب صاحب نے اپنی ذاتی جائیداد سے دی تھی جس پر 1964سے سکول کا قبضہ بھی قائم رہا۔ جب ریاستِ سوات کی ریاستی حیثیت ختم ہوئی اور اسے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کا حصہ بنایا گیا، تو والی صاحب کی ذاتی جائیداد سے متعلق امور کےلیے مارشل لا حکومت نے 1970میں ایک مستقل ضابطہ (ایم ایل آر 122) جاری کیا۔ نیز سوات کی دیگر زمینوں کے متعلق ایک اور ایم ایل آر 123 جاری ہوا۔ 1972 میں بھٹو صاحب کی حکومت میں دیگر نجی سکولوں کی طرح اس سکول کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔

ان ساری زمینوں کےلیے بندوبست اور جمع بندی 1981 میں شروع ہوئی جو 1986 میں پوری ہوئی۔ اس وقت بھی سکول کی زمین کے متعلق کوئی تنازعہ نہیں اٹھا۔ تاہم بہت بعد میں، یعنی 2002 میں، بعض لوگوں نے دعوی دائر کیا کہ 73 کنال سے زائد زمین گاؤں کی مشترکہ ملکیت، شاملات، تھی لیکن بندوبست اور جمع بندی میں اسے سرکاری ملکیت قرار دیا گیا ہے اور اس پر سکول کا قبضہ دکھایا گیا ہے۔ یہاں سے ایک طویل قانونی جنگ شروع ہوئی جو دو ہفتے قبل 26 نومبر 2021 کو سپریم کورٹ میں اختتام کو پہنچی۔

سپریم کورٹ تک پہنچنے سے قبل کئی مراحل تھے۔ پہلے مرحلے میں سوات کے سینیئر سول جج نے فیصلہ سکول کے خلاف اور گاؤں والوں کے حق میں دیا۔ اس کے بعد جب پہلی اپیل ہوئی تو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے فیصلہ سکول کے حق میں دیا۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف دوسری اپیل ہائی کورٹ میں ہوئی جس نے 2014 میں پھر سکول کے خلاف فیصلہ سنادیا۔ اس فیصلے کے خلاف سکول اور صوبائی حکومت نے الگ الگ اپیلیں سپریم کورٹ میں دائر کیں جہاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحیٰ آفریدی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ان اپیلوں کی اکٹھے سماعت کی۔

سپریم کورٹ کے سامنے حکومت کی جانب سے ایک بنیادی اعتراض ماتحت عدالتوں کے اختیارِ سماعت پر اٹھایا گیا کیونکہ جو مارشل لا ریگولیشز ان زمینوں کے متعلق جاری کی گئی تھیں، ان میں ان زمینوں کے تنازعات کے فیصلوں کےلیے خصوصی کمیشن قائم کیا گیا تھا اور عدالتوں کے اختیارِ سماعت کو ختم کیا گیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس اعتراض پر راے دینا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ یہ اعتراض ابتدائی سطح پر سول جج کی عدالت میں اٹھانا چاہیے تھا۔ چنانچہ اس عتراض کو نظرانداز کرکے سپریم کورٹ اگلے اعتراض کی طرف بڑھی۔

اگلا اعتراض یہ تھا کہ یہ دعوی ناقابلِ بیان حد تک تاخیر سے دائر کیا گیا اور خارج المیعاد (time-barred) ہونے کی وجہ سے اسے مسترد کردینا چاہیے تھا۔ اس اعتراض کی تفصیل یہ ہے کہ قانونِ میعادِ سماعت کی رو سے ایسے مقدمات کےلیے بناے دعوی (cause of action) وجود میں آنے کے بعد 6 سال کی مدت مقرر کی گئی ہے جس کے اندر دعوی دائر نہیں کیا گیا، تو اس کے بعد عدالت اس دعوے کو نہیں سن سکتی۔ اب یہاں سوال یہ تھا کہ اس مقدمے میں بناے دعوی کب وجود میں آیا؟ سکول اور حکومت کا موقف یہ تھا کہ جب والی صاحب  نے 1964 میں سکول کو قبضہ دیا تو بناے دعوی اسی وقت وجود میں آیا۔ اسے تسلیم نہ کیا جائے، تو یہ مانا جائے کہ 1970 میں ان زمینوں کے متعلق مارشل لا ریگولیشنزجاری کیے جانے کے ساتھ بناے دعوی وجود میں آگیا تھا۔تاہم اگر بناے دعوی کو بندوبست اور جمع بندی سے، بلکہ ان کی تکمیل کی تاریخ، سے شروع کیا جائے تب بھی 1986 سے 6 سال کی مدت 1992 میں پوری ہوئی لیکن یہاں تو دعوی 2002 میں دائر کیا گیا!

اس کے جواب میں گاؤں والوں کی جانب سے وکیل صاحب نے یہ موقف اختیار کیا کہ بناے دعوی جمع بندی پوری ہونے کے بعد پیدا ہوا اور یہ کہ ہر جمع بندی سے، یا ہر جمع بندی میں کیے گئے کسی مخاصمانہ اندراج سے، ایک نیا بناے دعوی وجود میں آتا ہے۔ تاہم وہ یہ نہیں دکھاسکے کہ 1986 کے بعد کب ایسی جمع بندی ہوئی، یا اس میں ایسا اندراج ہوا، جس نے نئے بناے دعوی کو جنم دیا۔ چنانچہ یہ امر تو طے ہوا کہ یہ دعوی خارج المیعاد تھا اور صرف اسی بنیاد پر اسے ابتدا سے ہی مسترد کردینا چاہیے تھا۔ تاہم ماتحت عدالت نے اس امر کے متعلق باقاعدہ تنقیح قائم کرنے (framing of issue) کے باوجود اس پر محض سرسری بات کی جبکہ ہائی کورٹ نے سرے سے اس پہلو پر توجہ ہی نہیں دی۔

مزید برآں، گاؤں والوں کے وکیل سے جب سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ جس زمین پر تنازعہ ہے اور جس پر سکول کا قبضہ ہے، کیا یہ عام زمینوں میں شامل تھی یا یہ والیِ سوات کی ذاتی جائیداد تھی، تو انھوں نے تسلیم کیا کہ یہ زمینیں والیِ سوات کی ذاتی ملکیت تھیں۔ اس بات کو تسلیم کرچکنے کے بعد تو مقدمے کی بنیاد ہی ڈھے گئی اور اس کے بعد اس کا فیصلہ سکول کے حق میں ہونا لازمی تھا۔

سپریم کورٹ کے دورکنی بنچ کی جانب سے مقدمے کا فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے اور فیصلے میں وہ اس مقدمے کے متعلق کئی دیگر اہم امور بھی سامنے لائے ہیں۔

چنانچہ ایک تو انھوں نے حکومت کی لاپروائی پر گرفت کی ہے۔ جب ہائی کورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ سکول اور حکومت کے خلاف اور گاؤں والوں کے حق میں دیا، تو اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کےلیے سپریم کورٹ کے رولز کے تحت 30 دنوں کی مدت مقرر تھی۔ تاہم حکومت نے اپیل 19 دن کی تاخیر سے کی اور عذر یہ پیش کیا کہ حکومت کو یہ غلط فہمی تھی کہ اسے اپیل کے بجاے اپیل کی اجازت کےلیے درخواست (جسے تکنیکی طور پر سی پی ایل اے کہا جاتا ہے)دائر کرنی ہے جس کےلیے 60 دنوں کی مدت مقرر ہے۔ حکومت کے اس غیر سنجیدہ رویے کے برعکس سکول کی جانب سے اپیل 30 دنوں کی مدت کے اندر دائر کی گئی تھی اور اس وجہ سے یہ اپیل سپریم کورٹ نے سن لی (اور پھر اس کا فیصلہ بھی سکول کے حق میں ہوا)۔ اگر سکول کی جانب سے بھی حکومت کی طرح لاپروائی کا مظاہرہ کیا جاتا، تو اس کے نتیجے میں کیا ہوتا؟ فیصلے میں کہا گیا ہے:

“تیس دنوں کی مقررہ میعاد کے اندر اپیل دائر کرنے میں ناکامی سرکاری املاک کی حفاظت میں حکومت کی نااہلی ثابت کرتی ہے اور اس کے علاوہ سکول سے مستفید ہونے والوں ، یعنی سکول میں پڑھنے والی مقامی بچیوں ، سے لاتعلقی بھی ظاہر کرتی ہے۔ سکول سوات کے اس مصیبت زدہ علاقے میں واقع ہے جس نے ان لوگوں کے ہاتھوں سے سخت مظالم برداشت کیے ہیں جو بچیوں کی تعلیم کے مخالف تھے، جنھوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، سکولوں پر حملے کیے، سکولوں کو بند کرنے پر مجبور کیا اور سکول جانے والے بچوں پر حملے کیے۔ سکول پر دہشت گردوں نے بم سے حملہ کیا تھا اور سوات میں دہشت گردی کی وجہ سے پانچ سال تک سکول بند رہا۔ بروقت اپیل دائر کرنے میں حکومت کی شدید نااہلی اور غفلت کی وجہ سے وہی نتیجہ برآمد ہوسکتا تھا جو وحشی دہشت گردوں نے حاصل کیا تھا، یعنی سکول کی بندش۔”

اسی طرح ایک اہم بات یہ ذکر کی گئی ہے کہ “1970 سے 2019 تک کے عرصے میں پاکستان میں تعلیمی اداروں پر ایک ہزار سے زائد حملے ہوئے ہیں،جو دنیا  بھر میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔” تاہم یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہماری حکومت کی کوئی وزارت، یہاں تک کہ دہشت گردی کے خلاف بنایا جانے والا خصوصی ادارہ نیکٹا بھی ایسے حملوں کے متعلق کوئی معلوماتی ذخیرہ (ڈیٹا بیس)نہیں رکھتا۔ عدالت نے اس موقع پر جو کچھ لکھا ہے، اس کے ایک ایک لفظ پر غور کی ضرورت ہے:

“ایسے سنگین حالات میں بھی سکول جانا اساتذہ اور طلبہ کے حوصلے اور عزم کا ثبوت ہے۔ تاہم حملوں کی اتنی بڑی تعداد اور ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور تباہی یہ ضروری قرار دیتی ہیں کہ ریاست زندگی اور تعلیم کے بنیادی حقوق، جن کی (دستور میں) ضمانت دی گئی ہے، کا تحفظ کرے۔پبلک سکول سنگوٹہ میں پڑھنے والی بچیوں اور ان لاکھوں دیگر بچیوں کو جو سکول میں ہیں یا انھیں سکول میں ہونا چاہیے، حقیقت میں کیاپیغام دیا  جارہا ہے؟ کیا یہ کہ آئین میں ان کی زندگی اور تعلیم کے جن بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، وہ بے معنی ہیں؟ “

فیصلے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ایک دفعہ پھر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس میں قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا حوالہ دیا ہے اور دکھایا ہے کہ اسلام نے علم حاصل کرنے پر کتنا زور دیا ہے:

“اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت محمد ﷺ کو، اور ان کے ذریعے انسانیت کو، جو پہلا حکم دیا گیا وہ  ٱقۡرَأۡ (پڑھ) کا تھا۔۔۔ پہلی وحی میں پھر آگے لکھنے کے آلے (ٱلۡقَلَم) اور تعلیم یا سکھانے (عَلَّمَ) کا ذکر آتا ہے۔نہایت مہربان پروردگار پہلی وحی میں جن ہزاروں لاکھوں چیزوں میں کسی کا ذکر کرسکتے تھے، ان میں اپنی بے انتہا حکمت اور رحمت سے پڑھنے، لکھنے اور تعلیم کو بنیادی اہمیت کے لائق قرار دیا۔۔۔تعلیم اور تعلّم پر تاکید اسلام کی امتیازی خصوصیات تھیں کیونکہ دیگر تہذیبوں کے مقابلے میں، جہاں تعلیم اور تعلّم یا تو کسی مخصوص طبقے تک یا معاشرے کے کسی خاص حصے تک محدود تھا، اسلام نے یہ حق سب کو بلا امتیاز دیا ۔۔۔نسل، رنگ، رتبہ، دولت اور جنس کو اسلام کے اصولِ مساوات نے سمولیا۔ “

اس کے بعد اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگرچہ ہمارے دستور میں ریاست پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ “پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے”، لیکن اس کے باوجود یہاں تعلیم حملوں کی زد پر ہے۔

تفصیلی بحث کے بعد عدالت نے حکومت کی اپیل تو خارج المیعاد ہونے کی بنا پر داخلِ دفتر کردی گئی، لیکن سکول کی اپیل منظور کرتے ہوئے مذکورہ زمین پر دائر کیا گیا دعوی خارج کردیا۔

فیصلے کے آخر میں قرار دیا گیا کہ عوامی اہمیت، بالخصوص تعلیم کی اہمیت، کے امور زیرِ بحث آنے کی وجہ سے مناسب ہوگا کہ اس فیصلے کا اردو ترجمہ کیا جائے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اصل انگریزی فیصلہ اور اس کا اردو ترجمہ ایک ہی دن جاری کیا گیا ہے جنھیں نیچے دیے گئے لنکس سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

امید ہے کہ ایسے فیصلوں کے بعد حکومت دیگر تعلیمی اداروں کے تحفظ اور ان کی بہتری کے ضمن میں اپنی دستوری ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کرے گی۔

فیصلے کے اردو متن کے لیے:

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
لکھاری قانون کے استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اعلی عدلیہ کو مختلف مقدمات میں شریعت و قانون کے حوالے سے معاونت فراہم کرتے ہیں۔
spot_imgspot_img