spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

اردو کا علاقائی رنگ

رضا علی عابدی

اردو دنیا میں کسی کو بہت دور کی سوجھی۔ اس عالمِ رنگ وبو میں اس وقت ایک مذاکرہ جاری ہے جس کا عنوان ہے’ارود کا علاقائی رنگ‘۔اس نرالی زبان کے بارے میں بارہا کہا گیا کہ اس میں دنیا بھر کی زبانوں کے لفظ شامل ہیں اور یہ کہ اس کا دامن اتنا کشادہ ہے کہ اس نے جانے کہاں کہاں کی بولیاں سمیٹ لی ہیں۔ یہ بات کہتے ہوئے ہم بھول گئے کہ اردو نے اپنی بانہیں پھیلا کردنیا زمانے کے لفظ ہی نہیں سمیٹے،لب و لہجے بھی بٹورے۔ دوسرے علاقوں کے رنگ بھی اوڑھے، دوسرے خطّوں کی بولیوں کی نفاستیں بھی اپنائیں اور دور دور واقع سرزمینوں میں لب کشائی کے تیکھے انداز بھی اختیار کئے۔معاشرے اور زندگی کے اس دل کش اور دل آویز پہلو پر اہل ِعلم کبھی سر جوڑ کر نہیں بیٹھے ہوں گے۔اب نئی دہلی کی عالمی اردو تنظیم،جسے وہ خود ’ورلڈاردو ایسو سی ایشن‘ کہتے ہیں اس موضوع کو لے کر اٹھی ہے اور دنیا بھر میں اردو کے سرپرستوں اور مداحوں کو یک جا کرکے زبان کے اس حسین رُخ کو نمایاں کرنے اور اجاگر کرنے چلی ہے۔

زبان کوپرکھنے کے علوم موجود ہیں اور اس راہ میں بڑا کام بھی ہوا ہے لیکن ہر خطے اور علاقے کے انداز کو خود ایک سائنس کی طرح پرکھنے کا یہ ڈھنگ زبان کے علم کی راہ میں نئے دریچے کھولے گا۔مجھے مشہور فلم ’مائی فیئر لیڈی ‘ کا وہ منظر یاد ہے جس میں لب و لہجے کو پہچاننے کی غضب کی صلاحیت رکھنے والے پروفیسر سے راہ چلتی ایک بڑی بی نے پوچھا کہ بس کا اڈہ کہاں ہے؟پروفیسر نے خاتون کے محلے کا نام بھی بتایا اور بس کا اڈہ بھی دکھا دیا۔اس علم میں دخل رکھنے والوں کی زبانی ہم ہمیشہ سے یہ سنتے آئے ہیں کہ ہر دس میل بعد لوگوں کا لہجہ بدل جاتا ہے۔او ر یہ بات سنی سنائی نہیں،حقیقت ہے کہ ہر ضلع اور تحصیل میں، یہاں تک کہ تمام دریاؤں کے دونوں کناروں پر زبان کے رنگ و رو پ اور ہی چھب دکھاتے ہیں۔ کہنے کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ تنوع ہی زبان کا حسن ہوتا ہے، اسی سے زبانوں کی شناخت ہوتی ہے، اسی سے وہ اپنا مقام بناتی ہیں اور اسی بنا پر ان میں یگانگت پیدا ہوتی ہے۔

وہ َ زمانے تو خیر کبھی کے رخصت ہوئے جب بعض زبانو ں کو ٹکسالی اور سکہ بند تصور کیا جاتا تھا۔ جس طرح انگلستان میں شاہ یا ملکہ کی انگریزی کو کنگز انگلش یا کوئنز انگلش کے خطاب سے نوازا جاتا تھا یا اعلیٰ انگریزی یا گڈ انگلش کے نام سے ایک کتاب ہم نے بھی خریدی تھی۔ہماری سر زمین پر کبھی لکھنؤ کی زبان یا دلّی کی بولی کی دھوم تھی۔ اس وقت شعور کی کمی تھی ورنہ دکنی لہجے اور بہاری انداز کو بھی معیاری لہجے کی حیثیت حاصل ہوتی۔ایک بڑی مثال پنجابی کی ہے۔ کہنے کو یہ ایک زبان ہے مگر اس کے اندر زبانوں کا مجمع لگا ہے۔ پنجابی کے بعض لہجوں کو خود اہل پنجاب بھی مشکل سے سمجھ پاتے ہیں۔ ہندکو،پوٹھوہاری، سرائیکی،اور کچھ دوسرے لہجے خود کو الگ زبان قرار دینے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔

ان باتوں کو علاقائی عصبیت یا لسانی تعصب کے خانے میں نہیں ڈالنا چاہئے۔یہ بات اگر سمجھ لی جائے کہ زبان کون بناتا ہے اور لب ولہجے کا خالق کون ہے تو سارے اختلا ف رفع ہوجائیں۔ یہ سب سراسر عوام کی تخلیق ہے۔ وہی زبان بناتے ہیں، وہی زبان کے رنگ و روپ نکھارتے یا سنوارتے ہیں، اور کچھ لوگ اس عمل کو بگاڑنا بھی کہتے ہیں مگر زبان کی لگام گلی کوچوں، کھیتوں کھلیانوں اور مکانوں او ردالانوں میں رہنے والوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، خدائے سخن میر تقی میر اگر چہ بازاری زبان بولنے والوں سے پرے رہتے تھے کہ کہیں ان کی زبان بگڑ نہ جائے مگرجب شعر کہتے تھے تو روئے سخن کے بارے میں خود کہتے تھے کہ گفتگو مجھے عوام سے ہے۔

کسی زمانے میں دلی کی اردو اور لکھنؤ کی زبان کی دھوم تھی۔ بس یہی سکہ بند تھیں اور یہ مستند تھیں۔پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ وقت نے معاشرے کاملغوبہ بنا دیا۔ہر چیز جگہ سے بے جگہ ہوگئی، کسی کا حلیہ بگڑ گیا کسی کے رنگ ڈھنگ ایسے بدلے کہ پہچانی نہ گئی۔ ہماری با کمال شاعرہ عشرت آفریں نے حال ہی میں ایک محاورہ باندھا۔ میں نے انہیں لکھا کہ یہ محاورہ ہمارا تو نہیں۔ ان کا جواب آیا کہ آپ یہ اعتراض نہ کرتے تو مجھے حیرت ہوتی۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے مصرع بدلنے کی کوشش کی، وہ تو بگڑتا گیا۔بالکل سچ کہا انہوں نے، شعر پر شاعر کا سو فی صد اختیار نہیں ہوتا، محاور ے خود ہی آتے ہیں، لائے نہیں جاتے۔ لفظ کا چلن کبھی کبھی شاعر کے قلم پر حاوی ہوجاتا ہے۔فیض احمد فیض نے اپنی مشہور نظم ’انتساب‘ میں لکھا:طالب علموں کے نام۔ اس پر ان کے گرد حلقہ کئے ہوئے احباب اڑ گئے کہ طالب علم کی یہ جمع نہیں۔ آخر فیض صاحب نے اپنا مصرع تبدیل کردیا: پڑھنے والوں کے نام۔ مصرع وہیں ڈھے گیا۔

یہ زبان کی نزاکتیں ہیں اور یہی نفاستیں بھی ہیں جو کبھی کبھی بھونڈے پن کی حدود میں چلی جاتی ہیں مگر وہ زبان کی مجبوری ہے جسے تسلیم کرلینا چاہئے۔بہار میں اگر پتیلی مذکر اور پشتو علاقے میں اگر لڑکا مونث ہے تو کیوں نہیں۔ وہ زبا ن ہی کیا جس پر کسی کا اجا رہ ہو۔ہمیں سب منظور ہے۔ سب گوارہ ہے مگر عوام کو ہم مونث نہیں کہیں گے، ہرگز نہیں کہیں گے۔ کوئی برا مانتا ہے تو ہماری بلا سے۔

spot_imgspot_img