spot_img

ذات صلة

جمع

ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد کرے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ...

عمران خان کے بیانیہ کی بنیادی غلطی۔۔۔!

۔1تحریک ط۔ا۔ل۔ب۔ا۔ن اور ا۔ل۔ق۔ا۔ع۔د۔ہ نے پاکستانی ریاست کے خلاف...

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات...

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ...

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے...

اسلامی منہجِ فکر کا تاریخی تناظر

یاسر عرفات مسلم

ڈاکٹر فضل الرحمن مرحوم کا شمارجید اہل علم میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب دینی علوم سے بھی واقف تھے اور دنیا کی جدید یونیورسٹیوں سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے جدید تعلیم سے آراستہ اذہان کو متاثر کیا۔ان کا شمار اسلای جدیدیت کے نمایاں ترین مفکرین میں ہوتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اسلام کو جدیدیت سے متعلق کرنے کے لیے اہم علمی بنیادیں فراہم کیں۔ان کے علم و تحقیق کو ان کے شاگردوں نے انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکی، بوسینیا، تیونس، مراکش اور دیگر مسلم و مغربی ممالک میں متعارف کرایا۔

ان کی فکر سے علمی ، سماجی اور سیاسی تحریکیں بھی مستفید ہوئیں۔ مگر جدیدیت سے ڈرنے اور نقشِ کہن پر بضد رہنے والوں نے پاکستان میں ان کی تصانیف، علمی نظریات اور خدمات کو پنپنے نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا آج کا پڑھا لکھا طبقہ ان کی فکر سے واقف نہیں ۔اقبال انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ(IRD) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن الامین کی سرپرستی میں مکرمی محمد یونس قاسمی نے ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے مقالات کو نہایت محنت سے ’’اسلامی منہجِ فکر کا تاریخی تناظر‘‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ان کی یہ کاوش اُس محقق اور دانشور کی فکر کو وطنِ عزیز میں متعارف کرانے کی جانب اہم قدم ہے، جن سے بیرونی دنیا تومتعار ف ہے لیکن اپنے وطن میں اجنبی کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔

بنیادی طور پر یہ کتاب انگریزی میں 1965ء میںIslamic Methodology in History کے عنوان سے شائع ہوئی ۔یہ اُن مضامین کامجموعہ ہے جو ادارہ تحقیقات اسلامی کے انگریزی جریدے’’ اسلامک اسٹڈیز‘‘ میں مارچ  1962سے جون 1963 کے دوران میں شائع ہوئے۔ منہج سے مراد وہ عمل ہے جو کسی بھی کام کا راستہ ، زاویہ اور اسلوب بتاتا ہے۔ اسلامی منہج کے چار بنیادی اصول قرآن، سنت، اجتہاد اور اجماع کا تاریخی ارتقا کیا ہے؟ یہ مضامین اسی موضوع کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے مضامین کا بیشتر حصہ دو سوالوں پر مشتمل ہے کہ اسلام آج کہاں کھڑا ہے اور اسے دورِ جدید کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے۔کتاب کے دیباچے میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن لکھتے ہیں کہ ’’ میں خود ایک مسلمان کی حیثیت سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ نہ تو اسلام اور نہ ہی مسلم سماج تاریخی حقائق کا سامنا کرنے سے کسی مشکل میں پڑے گا، اس کے برعکس تمام سچائیوں کی طرح تاریخی سچائی بھی اسلام کو تقویت بخشے گی، جیسا کہ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ خدا تاریخ کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے‘‘۔

’’اسلامی منہجِ فکر کا تاریخی تناظر‘‘ قرآن، سنت، اجتہاد اور اجماع کے تاریخی ارتقااور تجزیے پر مشتمل ہے۔جن کے بارے میں عام تاثر ہے کہ یہ فقہ کے بنیاد ی اصول ہیں جب کہ یہ فقہ کے نہیں بلکہ فکر ِ اسلامی کی بنیاد ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن یہ بتاتے ہیں کہ تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں ان چاروں اصولوں سے متعلق امت کا نقطہ نظر کیا رہا ،ان اصولوں کا اطلاق کیسے ہوتا رہا اور فکرِاسلامی کی ترقی کے جمود کے اسباب کیا ہیں؟۔اسلام کے ابتدائی دور میں وہ کیا موزوں طرز عمل تھا جس کے ذریعے اُس دور کے علما معروضی مسائل کا حل نکالتے۔

صدر ایوب خان کی دعوت پر ڈاکٹر فضل الرحمٰن ایسے وقت میں پاکستان تشریف لائے جب یہاں معاشرہ، سیاست اور ریاست سے متعلق مذہب کے کردار کی بحث عروج پر تھی۔عائلی قوانین بھی اسی زمانے میں متعارف کرائے گئے ۔ اس مقصد کے لیے مرکزی ادارہ اسلامک ریسرچ سینٹر کی بنیاد رکھی گئی جو اب ادارہ تحقیقات اسلامی کے نام سے موجود ہے۔ڈاکٹر فضل الرحمٰن اس کے پہلے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے اور پاکستان کو ایک جدید اسلامی ریاست بنانے کے لیے اپنی فکری نگارشات پیش کیں۔جس پر انھیں ملک کے مذہبی طبقے کی شدید مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

استاذ مکرم جاوید احمد غامدی بتاتے ہیں کہ سید سلیمان ندوی کی علامہ اقبال کے ساتھ ایک گفتگو بعض لوگوں نے نقل کی ہے جس میں علامہ اقبال نے کسی موقع پر نہایت سخت لہجے میں یہ تبصرہ کیا کہ یہ کیا طلاق کا قانون ہے جس کی کوئی کَل ہی سیدھی نہیں ہے۔ جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ علامہ قانون کو بھی جانتے تھے اور فقہ کو بھی۔اُن کا خیال یہ تھا کہ سارے فقہی نظام کی تعمیر نو ہونی چاہئے۔ یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کی بنیادیں کیا ہیں؟ یہ کس طرح بنا ہے؟ اور کن اساسات پر قائم ہے؟اسی لیے انہوں نے اپنے خطبات کا نام کے مذہب “تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ” رکھا۔

ڈاکٹر فضل الرحمن سےاہل علم نے علمی اختلاف بھی کیا ہے لیکن ان ڈاکٹر صاحب کا زوایہ نگاہ اور مسائل کی نشاندہی کا طریقہ کار جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ اسلام کیا ہے؟ اسلام تاریخ میں اپنا ظہور کیسے کرتا ہے؟اس ظہور کے نتیجے میں جو فکری ڈھانچہ بنتا ہے وہ کیسے عہد بہ عہد خود کو تبدیل کرتا ہے۔ نبی اکرم حضرت محمدﷺ اسلام کی تعلیمات اور مقاصد کو سامنے رکھ کر کیسے ایک اعلیٰ معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں، خلفائے راشدین اس کی روح کو کیسے سمجھتے ہیں اور بعد کے علما و فقہا کیسے نئےتقاضوں سے اسلامی فکر کو ہم آہنگ کرتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے ان معاملات کو عمدہ اسلوب میں بیان کیا ہے۔

ڈاکٹر فضل الر حمٰن کی فکر کی بنیادی اساس فکرِاقبال ہے۔ان کے یہاں یہ احساس موجود ہے کہ اسلام کے اصل پیغام اور اسلمی فقہ کے ان آفاقی اصولوں کو تلاش کیا جائے جو کسی زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر دورمیں رہنمائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا تصور سنت یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی نظام اسلام کو عملی شکل دینے کے لیے کی گئی جدو جہد کا نام سنت ہے۔ان کے مطابق سنت کے بغیر قرآن مجید کو نہیں سمجھا جاسکتا۔جس کے لیے وہ قرآن اور سنت سے علما و فقہا کی ہم آہنگی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ اُمید ہے کہ مضامین کا یہ مجموعہ اہل علم اور فکری رہنمائی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

spot_imgspot_img