Author: سلیم صافی

لکھاری معروف صحافی،کالم نگار،دفاعی تجزیہ کار اور حالات حاضرہ پر مشتمل بہترین ٹی وی پروگرام "جرگہ" کے اینکر پرسن ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ آج پاکستان کے سب سے طاقتور منصب یعنی آرمی چیف سے ریٹائر ہورہے ہیں۔ ان کی شخصیت اور ان کے دور کا ایک جائزہ لینا اس لئے بھی ضروری ہے کہ قوم کو معلوم ہو کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فوج کی کمانڈ کن حالات میں سنبھالنا پڑ رہی ہے اور پھر ان کے دور کے اختتام پر موجودہ حالات کے تناظر میں ہی ان کا محاسبہ ہو ۔ میری رائے کے مطابق پالیسیوں کے لحاظ سے جنرل باجوہ کادور بحیثیت مجموعی خوبیوں اور خامیوں کا مرکب تھا۔تاہم، ذاتی حوالوں سے ان کی…

Read More

میں 3 نومبر سے 3 دسمبر تک سالانہ چھٹی پر ہوں۔ ملک سے باہر اور اپنی نئی کتاب پر کام کررہا ہوں ۔ملکی سیاست سے اپنے آپ کو ممکن حد تک لاتعلق رکھا۔ اس دوران جیو کے پروگرام کئے اور نہ جنگ کیلئے کالم لکھے۔ اب بھی 3 دسمبر تک یہی ارادہ ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ میں جس بھی ملک میں ہوتا، اس میں ملنے والے کا جس بھی طبقے سے تعلق ہوتا مجھ سے ایک ہی سوال کرتا کہ نیا آرمی چیف کون بن رہا ہے؟۔ عمران خان نے ماشا اللہ اس معاملے کو اتنا چھیڑا اور…

Read More

قابلِ احترام میاں محمد شہباز شریف صاحب، وزیراعظم پاکستان السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ بذریعہ کالم و اخبار آپ سے اس لیے مخاطب ہو رہا ہوں کیونکہ آپ کے ساتھ خلوتوں میں بیٹھ کر دل کی بھڑاس نکالنے کا وقت ختم ہوا۔ اب آپ وزیراعظم پاکستان ہیں جبکہ میں ایک صحافی ہوں۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ آپ اس وقت قوم کے لیڈر بن گئے ہیں جبکہ ایک صحافی کی حیثیت سے عام آدمی اور عام پاکستانی کی آواز بننے کے لیے آپ کی حکومت کو خبر دینا اور اُسکی خبر لینا میرا فرض بن گیا ہے۔…

Read More

مختلف ممالک سے پاکستان کے سفارتخانے دو ذرائع سے اپنی وزارتِ خارجہ کو باخبر رکھتے ہیں۔ ایک معمول کے خطوط ہوتے ہیں اور دوسرے خفیہ ٹیلی گرام۔خفیہ ٹیلی گرام میں سفیر اس ملک کے عوام اور حکومتی صفوں میں پاکستان کے بارے میں سوچ کا تجزیہ اپنے الفاظ میں کرتے ہیں۔بالخصوص جب بھی کسی بھی ملک کے حکومتی عہدیدار سے سفیر کی ملاقات ہوتی ہے تو ان کے خیالات کا خلاصہ خفیہ کیبل کی صورت میں بھجوایا جاتا ہے۔ظاہر ہے اس میں اس سفیر کے اپنے خیالات اور تجزیاتی صلاحیت کا بھی دخل ہوتا ہے۔امریکہ، چین، انڈیا، برطانیہ اور افغانستان…

Read More

ذاتی طور پر میں چاہتا ہوں کہ عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری کرے تاکہ تبدیلی کے نام پر تباہی لانے والوں کی ہر خواہش پوری ہو جائے اور وہ مستقبل میں دوبارہ اس طرح کی مہم جوئی کے قابل نہ رہیں لیکن قوم سے عمران خان کے خطاب سے مجھے خدشہ پیدا ہو گیا کہ وہ گھبرا گئے ہیں اور انہیں یقین ہو گیا ہے کہ ان کے اقتدار کے دن ختم ہونے کو ہیں۔ میرے اس یقین کی بنیاد یہ ہے کہ پاکستان میں جس حکمران کو اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتا نظر آتا ہے، وہ…

Read More

یوں یہ تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو خود اپنی اہم وزارتوں کی کارکردگی کے ناقص ہونے کا اعتراف کررہی ہے۔ اب جو خود اپنی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرے، اگر اس حکومت کے خلاف بھی اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو پھر اس اپوزیشن کے رہنما خود کو سیاستدان کہنا چھوڑ دیں۔

Read More

یہ 1988کا تذکرہ ہے۔ تب میاں نوازشریف، مقتدر حلقوں کےاسی طرح لاڈلے تھے، جس طرح ان دنوں عمران خان ہیں اور ان سے پیپلز پارٹی کے خلاف وہ کام لیاجارہا تھا جو اس وقت مسلم لیگ(ن) وغیرہ کے خلاف خان صاحب سے لیا جارہا ہے۔ انتخابات کے بعد صورت حال ایسی بن گئی کہ نواز شریف صرف اس صورت میں وزیراعظم بن سکتے تھے کہ مولانا کے ووٹ بھی ان کو جاتے ۔ مولانافضل الرحمٰن نے مفتی محمود مرحوم کی رحلت کی بعد سیاست جنرل ضیا الحق کی مخالفت اور جیل سے شروع کی تھی اور پیپلز پارٹی کی قیادت…

Read More