وجاہت مسعود

اپریل 11, 2022

ایک طویل رات کے بعد صبح کی خود کلامی

صحافت ایک شب زاد پیشہ ہے، اصطلاح کی حد تک ہی نہیں، لغوی طور پر بھی صحافت میں رات جاگتی ہے تو خبر کا سراغ لاتی […]
مارچ 19, 2022

لوحِ وقت پر حرفِ فریب کی ایک اور ناکامی

دھوپ کا شیشہ گلی میں کندھے سے کندھا ملائے مکانوں کی دیواریں چڑھتا، چوباروں کی کھڑکیاں پھلانگتا اور آرزو بھری چھتوں کی کائی زدہ منڈیروں سے […]
مارچ 16, 2022

صحافت وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے

مولوی محمد سعید کا نام اس ملک کے صحافیوں کے لئے مرشد باصفات اور گفتہ شیریں مقال کی تاثیر رکھتا ہے۔ ڈان اور سول اینڈ ملٹری […]
مارچ 7, 2022

ہائبرڈ بندوبست ناکام کیوں ہوتا ہے؟

ہماری تاریخ کا ہر صفحہ گرد آلود اور ہر باب سیاہ پوش ہے۔ آج سات مارچ ہے۔ 45 برس قبل 7 مارچ 1977 کو کسی منتخب […]
مارچ 2, 2022

سویا ہوا محل اور شاہی جوڑے کی سحرسازیاں

سلیم احمد حیات تھے تو اردو دنیا میں ان کا سکہ چلتا تھا۔ شعر، تنقید اور سرکاری نشریات غرض کسی گھر بند نہیں تھے۔ اس پہ […]
فروری 14, 2022

تبدیلی کی ہوائیں

قائد اعظم نے ہائبرڈ بندوبست نہیں، شفاف جمہوری پاکستان کا درس دیا تھا، قائد کے نصب العین کی طرف لوٹنے ہی میں قوم کی بھلائی ہے۔ دوسرا معاملہ معیشت سے تعلق رکھتا ہے۔ پچھلی نصف صدی میں دنیا بہت بدل گئی ہے۔ آج یہ سوچنا درست نہیں کہ دنیا کو ہماری ضرورت ہے۔ ہمارے دو ہی حقیقی اثاثے ہیں۔ نوجوان آبادی کی بڑی تعداد اور ممکنہ طور پر پانچویں بڑی تجارتی منڈی۔
جنوری 25, 2022

قومی سلامتی اور ناخداؤں کی خواب فروشی

اگر واقعی پاکستان نے قومی سلامتی کو شہریوں کی معاشی بہتری سے منسلک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اتنی بڑی تبدیلی کے ممکنہ نتائج پر بھی غور کرنا چاہیے۔ کیا ہم گزشتہ پون صدی میں قومی سلامتی کے مختلف بیانیوں کا تنقیدی جائزہ لینے کے لئے تیار ہیں؟ کیا ہم وفاق کی اکائیوں کو ایک جیسا احترام اور حقوق دینے پر آمادہ ہیں۔ کیا ہم کھوکھلے نعروں کی بجائے پیداواری معیشت اور تجارت کو فیصلہ سازی میں ترجیحی کردار دینے پر تیار ہیں۔ کیا ہم امتیازی قوانین اور پالیسیاں ترک کر کے مساوی شہریت کا اصول ماننے پر تیار ہیں۔
دسمبر 17, 2021

فراموشی: پانچ ایکٹ کی المیہ تمثیل

وجاہت مسعود ان دنوں سویرا روشن ہوتا تھا اور رات میں نامعلوم کا جادو تھا۔ زندگی ایک دلچسپ اور بہت پھیلا ہوا کھیل تھا۔ یہ معلوم […]