پاکستان

جون 4, 2022

‘نمبر دار کانیلا’ پھر کھل گیا۔۔۔!

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ تقسیم کے بعد جو علاقے بھارت کے حصے میں آئے، 1941ء کی مردم […]
جون 4, 2022

مفتاح اسماعیل کے نام۔۔۔!

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ میں ہیں‘الا اُمرا کا طبقہ جس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔یہ مہنگائی کیوں ہے؟یہ […]
مئی 14, 2022

عمران مخالف بیانیہ بے اثر کیوں۔۔۔؟

میں سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے تھوڑی بہت دلچسپی کی وجہ سے غور کرتا رہتا ہوں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی […]
اپریل 14, 2022

میاں شہباز شریف کے نام

قابلِ احترام میاں محمد شہباز شریف صاحب، وزیراعظم پاکستان السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ بذریعہ کالم و اخبار آپ سے اس لیے مخاطب ہو […]
اپریل 11, 2022

ایک طویل رات کے بعد صبح کی خود کلامی

صحافت ایک شب زاد پیشہ ہے، اصطلاح کی حد تک ہی نہیں، لغوی طور پر بھی صحافت میں رات جاگتی ہے تو خبر کا سراغ لاتی […]
اپریل 7, 2022

منصفو! تاریخ کا آئینہ سامنے دھرا ہے

چار دن گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ اس نتیجہ پر نہیں پہنچ سکا کہ 3 اپریل کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر […]
اپریل 7, 2022

معاویہ اعظم کا نواز لیگ سے الحاق: شہدا سے غداری؟

تحریک انصاف کی حمایت کے باوجود مولانا معاویہ اعظم کا نام فورتھ شیڈول میں رکھا گیا، ان کی شناختی دستاویزات معطل رہیں اور وہ اپنی تنخواہ […]
اپریل 7, 2022

امریکی سازش کی سازش

مختلف ممالک سے پاکستان کے سفارتخانے دو ذرائع سے اپنی وزارتِ خارجہ کو باخبر رکھتے ہیں۔ ایک معمول کے خطوط ہوتے ہیں اور دوسرے خفیہ ٹیلی […]
مارچ 30, 2022

خان صاحب کا قصر حکمرانی اور منہ زور آندھی

شگفتہ گو شاعر، نذیر احمد شیخ کی ایک یاد گار نظم ہے۔ آندھی۔ کیا عمدہ منظر کشی ہے۔ کمال سلاست و روانی سے آندھی کا ایسا […]
مارچ 19, 2022

لوحِ وقت پر حرفِ فریب کی ایک اور ناکامی

دھوپ کا شیشہ گلی میں کندھے سے کندھا ملائے مکانوں کی دیواریں چڑھتا، چوباروں کی کھڑکیاں پھلانگتا اور آرزو بھری چھتوں کی کائی زدہ منڈیروں سے […]
مارچ 17, 2022

تصادم‘ اہلِ سیاست کی ناکامی ہے!

تصادم کی طرف بڑھتے قدم کیا روکے جا سکتے ہیں؟موضوعات بہت ہیں جو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں‘ جیسے اسرائیلی وزیر اعظم کا دورۂ ترکی‘ جیسے […]
مارچ 2, 2022

عمران خان اور امریکہ۔چند تاریخی حقائق

ذاتی طور پر میں چاہتا ہوں کہ عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری کرے تاکہ تبدیلی کے نام پر تباہی لانے والوں کی ہر خواہش […]
فروری 19, 2022

خطے کی بدلتی صورت حال اور پاکستانی سیاست

پاکستان کی سیاست میں اس وقت ایک کھلبلی مچی ہوئی ہے اور حکومت و اپوزیشن ایک دوسرے کو گرانے کے زوردار دعوے کر رہے ہیں۔ اپوزیشن […]
فروری 18, 2022

14فروری کو میں نے کیا دیکھا؟

میں اس پارک میں پہلی بار نہیں آیا تھا لیکن آج سے پہلے اس تنوع پر کبھی اس طرح سے غور نہیں کیا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ رنگا رنگی ہی ز ندگی کا اصل حسن ہے۔ اگر اس معاشرے میں مصلحین نہ ہوں جو لوگوں کو حیا جیسی اقدار کی طرف متوجہ کرتے ہیں تو انسانی جذبات بے لگام ہو جائیں۔ اگر محبت کرنے والے نہ ہوں تو سماج لطیف احساسات سے خالی ہو جائے۔ کوئی شاعری ہو نہ موسیقی۔ اور اگر پیارے پیارے بچے اور ان کے پیچھے دوڑتی مائیں نہ ہوں تو انسان معصومیت کو کیسے مجسم دیکھے
فروری 16, 2022

حکومت کا حکومت پر عدم اعتماد

یوں یہ تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو خود اپنی اہم وزارتوں کی کارکردگی کے ناقص ہونے کا اعتراف کررہی ہے۔ اب جو خود اپنی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرے، اگر اس حکومت کے خلاف بھی اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو پھر اس اپوزیشن کے رہنما خود کو سیاستدان کہنا چھوڑ دیں۔
فروری 15, 2022

!اور اب خانیوال

ہمارے مقدر میں اور کتنے اجتماعی قتل لکھے ہیں‘صرف عالم کے پروردگار کو خبر ہے جو دلوں کے بھید جانتاہے۔سیالکوٹ کا واقعہ ہمارے لیے چشم کشا ثابت نہ ہو سکا۔علما سے لے کر ریاست تک‘بظاہر سب نے تشویش کا اظہار کیا۔
فروری 14, 2022

تبدیلی کی ہوائیں

قائد اعظم نے ہائبرڈ بندوبست نہیں، شفاف جمہوری پاکستان کا درس دیا تھا، قائد کے نصب العین کی طرف لوٹنے ہی میں قوم کی بھلائی ہے۔ دوسرا معاملہ معیشت سے تعلق رکھتا ہے۔ پچھلی نصف صدی میں دنیا بہت بدل گئی ہے۔ آج یہ سوچنا درست نہیں کہ دنیا کو ہماری ضرورت ہے۔ ہمارے دو ہی حقیقی اثاثے ہیں۔ نوجوان آبادی کی بڑی تعداد اور ممکنہ طور پر پانچویں بڑی تجارتی منڈی۔
جنوری 27, 2022

سوشل میڈیا بطور عالمی ادبی پلیٹ فارم اور ہمارا ادیب

عامرعبداللہ ہم زندگی کے جس شعبہ میں بھی ہوں اپنی حدود خود متعین کرتے ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے گرد ایک دائرہ […]
جنوری 25, 2022

قومی سلامتی اور ناخداؤں کی خواب فروشی

اگر واقعی پاکستان نے قومی سلامتی کو شہریوں کی معاشی بہتری سے منسلک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اتنی بڑی تبدیلی کے ممکنہ نتائج پر بھی غور کرنا چاہیے۔ کیا ہم گزشتہ پون صدی میں قومی سلامتی کے مختلف بیانیوں کا تنقیدی جائزہ لینے کے لئے تیار ہیں؟ کیا ہم وفاق کی اکائیوں کو ایک جیسا احترام اور حقوق دینے پر آمادہ ہیں۔ کیا ہم کھوکھلے نعروں کی بجائے پیداواری معیشت اور تجارت کو فیصلہ سازی میں ترجیحی کردار دینے پر تیار ہیں۔ کیا ہم امتیازی قوانین اور پالیسیاں ترک کر کے مساوی شہریت کا اصول ماننے پر تیار ہیں۔
دسمبر 17, 2021

فراموشی: پانچ ایکٹ کی المیہ تمثیل

وجاہت مسعود ان دنوں سویرا روشن ہوتا تھا اور رات میں نامعلوم کا جادو تھا۔ زندگی ایک دلچسپ اور بہت پھیلا ہوا کھیل تھا۔ یہ معلوم […]