Author: خالد عمران

کالم نگار

پی ڈی ایم کے 26 مارچ کے لانگ مارچ کو ملتوی ہی ہونا تھا، صرف اس لیے نہیں کہ پیپلزپارٹی استعفے دینے کو تیار نہیں تھی بلکہ اس لیے کہ 26 مارچ کو کراچی سے شروع ہوکر 30 مارچ کو اسلام آباد پہنچنے والے اس لانگ مارچ کا اعلان تو کردیا گیا تھا لیکن اتنی بڑی ملک گیر سیاسی سرگرمی میں عوام کی بھرپور شرکت کے لیے جس طرح کی تیاری کی ضرورت تھی ،اس پر غالباً سوچ بچار نہیں کیا گیا تھا۔ جنوری کے اختتام سے ہی مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات نے تمام سیاسی سرگرمیوں کو عملاً…

Read More

ایک پرانی کہانی، جو اس وقت تک پرانی نہیں ہوگی، جب تک ہم جمہوریت کے فریب اور بچے جموروں کے چنگل سے نہیں نکلیں گے۔ کہانی پیش خدمت ہے۔ایک ملک میں نئے بادشاہ کے ’انتخاب‘کا طریقہ بڑا دلچسپ تھا۔ دارالحکومت کا دروازہ بند کردیا جاتا تھا اور اگلے دن سب سے پہلے دارالحکومت کے دروازے پر آنے والے کو بادشاہ بنا دیا جاتا تھا۔ شاید وہاں’دھکا‘ وغیرہ دینے کا رواج نہیں تھا، بہرحال ایک دفعہ جب بادشاہ سلامت وفات پا گئے…. جی ہاں! فوت ہوگئے۔ کیا خوش قسمت تھے وہ لوگ جن کے بادشاہ طبعی طریقے سے فوت ہوا کرتے…

Read More

12 مارچ بروز جمعہ کو پارلیمان کے ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب عمل میں آچکا ہے۔ یہاں مگر 3 مارچ کی طرح کوئی ”انہونی“نہیں ہوئی۔ 7 کے ہندسے نے البتہ اپنا آپ خوب دکھایا، سینیٹر سید یوسف رضاگیلانی کے 7 ووٹ مسترد ہوئے اور سینیٹر محمد صادق سنجرانی کو 7 ووٹوں سے فتح حاصل ہوئی۔ بدھ 3 مارچ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے 7 ووٹ مسترد ہوئے تھے اور سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کو 5 ووٹوں سے فتح حاصل ہوئی تھی۔ 7مارچ1977ءکو بھی قومی اسمبلی کے الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی کو…

Read More

بدھ 3 مارچ 2021ءکو پاکستان کی قومی اسمبلی میں وہ ہوا جو 1973ءسے 2018ءتک نہیں ہوا تھا۔ اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست حکومتی اتحاد نے ہار دی۔ حکومتی امیدوار وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے مقابلے میں پی ڈی ایم کے سید یوسف رضاگیلانی کی جیت کو بڑا اپ سیٹ قرار دیا جارہا ہے۔ اپنے امیدوار کی شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا۔ 4 مارچ کو قوم سے اور 5 مارچ کو اپنی اتحادی پارٹیوں کے ارکان سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے 16 ارکان نے خود…

Read More

2002ء کے بعد 2018ء تک ق لیگ، پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین اور ن لیگ کی حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی۔ اگرچہ تینوں حکومتوں میں کسی ایک وزیراعظم کو مدت پوری کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔اس پس منظر کے ساتھ 25 جولائی 2018ء کو ایک بار پھر عام انتخابات ہوئے۔ سسٹم کے بیٹھ جانے کے بعد 26 جولائی کو آنے والے نتائج کسی بھی فریق کے لیے متوقع نہیں تھے۔جیتنے اور ہارنے والے سبھی درجہ بدرجہ حیران اور پریشان تھے۔ 26 جولائی کو اسلام آباد میں سیاست دانوں کی ایک بڑی بیٹھک ہوئی جس میں انتخابی نتائج کو دھاندلی زدہ قرار…

Read More