Browsing: پاکستان

مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کو ، خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان کو ٹی ٹی پی کی طرف سے دی گئی دھمکی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں سیاست دانوں نے اس عفریت کے سامنے کھڑے ہونے کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے۔بے نظیر بھٹو، مولانا فضل الرحمٰن ، مولانا عبد الغفور حیدری اور اے این پی کی قیادت پرہونے والے حملے اور ان حملوں میں شہید ہونے والے سیاست دان ، علما ئے کرام، سیاسی کارکنان  اس کا واضح ثبوت ہیں۔ ضروری ہے کہ سیاست دان اپنی سیکورٹی کو بہتر کریں اور اپنے تحفظ کو خود یقینی بنائیں۔

میرے نزدیک ترقی کے ضروری ستونوں میں سے چھٹا اور آخری ستون  ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ سب سے پہلے ہم یہاں اعدادوشمار کی مدد سے خواندگی اور تعلیم کی ابتر حالت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں  تعلیم پر سالانہ ایک ہزار ارب روپے تقریباً  خرچ کرتی ہیں۔ یہ وفاقی حکومت کو چلانے کے لیے آنے والی لاگت سے دوگنا زیادہ بجٹ  ہے۔  یہ  ملکی دفاع پر خرچ ہونے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص رقم کے بعد سب سے بڑا بجٹ ہے۔ یاد رہے کہ یہ صرف پبلک سیکٹر نظام تعلیم کے اخراجات ہیں، پرائیوٹ سطح پر قائم اداروں کے اعداد و شمار الگ ہیں مگر ان تمام اخراجات سے ہمیں حاصل کیا ہورہا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔

جنرل باجوہ کی جانب سے نومبر میں ریٹائر ہونے اور مزید توسیع نہ لینے کا اعلان کیا جاچکا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جب خارجہ و داخلہ امور پر بیان بازی سے لے کر کرکٹ کوچنگ اور چلغوزے کی کاشت تک کے امور کا اختیار بھی  “محفوظ شدہ امور” میں چلا گیا ہے تو وزیراعظم اور اس کی کابینہ کے پاس “منتقل شدہ اختیارات” میں کیا رہ گیا ہے؟  ایسے میں اگر تاریخ میں پہلی بار آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل پریس کانفرنس کریں تو اس میں حیرت کی بات کیا ہے؟  اسے تو بس آسان الفاظ میں اس حقیقت کا کھلے عام اعتراف سمجھیں جو 1919ء سے 2022ء تک مانتے تو سب تھے لیکن اس کے بارے میں بولتا کوئی نہیں تھا۔ پھر بھی اگر وزیرِ اعظم صاحب کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس سے پہلے جنرل صاحب نے ان سے اجازت لی تھی، تو اسے سال کا سب سے بہترین لطیفہ نہ کہیں تو کیا کہیں؟